سبا کی ملکہ بادشاہ سلیمان کے دربار میں ہیں۔
پاک کلام سے سنہری باتیں
وہ دانشمندی کی قدر کرتی تھیں
سبا کی ملکہ ایک بہت ہی لمبا اور مشکل سفر کر کے سلیمان سے ملنے آئیں۔ (2-توا 9:1، 2؛ م99 1/11 ص. 20 پ. 4؛ م99 1/7 ص. 30 پ. 4-5)
بادشاہ سلیمان کی دانشمندی اور دولت دیکھ کر سبا کی ملکہ کے ہوش اُڑ گئے۔ (2-توا 9:3، 4؛ م99 1/7 ص. 30؛ سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔)
اُنہوں نے جو کچھ دیکھا، اُس کی وجہ سے وہ یہوواہ کی بڑائی کرنے لگیں۔ (2-توا 9:7، 8؛ آئیٹی-2 ص. 990-991)
سبا کی ملکہ دانشمندی کی اِتنی زیادہ قدر کرتی تھیں کہ وہ اِسے حاصل کرنے کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھیں۔
خود سے پوچھیں: ”کیا مَیں دانشمندی کی تلاش ایسے ہی کرتا ہوں جیسے کسی چھپے ہوئے خزانے کی؟“—امثا 2:1-6۔