مسیحیوں کے طور پر زندگی
جھوٹی باتیں پھیلانے سے خبردار رہیں
آجکل اخباروں، ریڈیو، ٹیوی اور اِنٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک بڑی تیزی سے معلومات پہنچائی جا سکتی ہیں۔ لیکن جو لوگ سچے خدا کی عبادت کرتے ہیں، وہ انجانے میں بھی کوئی غلط معلومات نہیں پھیلانا چاہتے۔ (زبور 31:5؛ خر 23:1) جھوٹی معلومات پھیلانے سے بہت زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ایک بات سچی ہے یا جھوٹی تو خود سے یہ سوال پوچھیں:
”جو شخص مجھے یہ بات بتا رہا ہے کیا مَیں اُس پر بھروسا کر سکتا ہوں؟“ ہو سکتا ہے کہ جو شخص آپ کو کوئی بات بتا رہا ہے، اُسے خود بھی پوری بات کا نہ پتہ ہو۔ کوئی بات ایک شخص سے دوسرے شخص کے پاس جاتے جاتے بالکل بدل جاتی ہے۔ ایسی صورت میں خبردار رہیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ اصل بات کیا ہے۔ جن کے پاس کلیسیا میں ذمےداریاں ہیں، اُن کی دی ہوئی معلومات پر لوگ بھروسا کرتے ہیں۔ اِس لیے اُنہیں کوئی ایسی معلومات پھیلانے سے خبردار رہنا چاہیے جس کا اُن کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔
”کیا اِس بات سے کسی کی بدنامی ہو سکتی ہے؟“ اگر ایک بات سے کسی شخص یا کچھ لوگوں کی بدنامی ہو سکتی ہے تو بہتر ہے کہ آپ اُس بات کو نہ دُہرائیں۔—امثا 18:8؛ فل 4:8۔
”کیا اِس بات پر بھروسا کِیا جا سکتا ہے؟“ جب آپ کوئی چونکا دینے والی بات یا واقعہ سنیں تو خبردار رہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سچ نہ ہو۔
ویڈیو ”مَیں دوسروں کی بُرائیاں کرنے سے کیسے بچ سکتا ہوں؟“ کو دیکھیں اور پھر اِن سوالوں کے جواب دیں:
امثال 12:18 کے مطابق ہماری باتوں سے دوسروں کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟
فِلپّیوں 2:4 سے ہم دوسروں کے بارے میں بات کرنے کے حوالے سے کیا سیکھتے ہیں؟
جب ہمیں لگے کہ باتچیت کرتے وقت کسی کی بُرائیاں ہونے لگی ہیں یا طنزیہ باتچیت شروع ہو گئی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟
دوسروں کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہمیں خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟