مسیحیوں کے طور پر زندگی
یہوواہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے
پہلی عیدِفسح بہت اہم تھی۔ اُس رات جب فرعون کو پتہ چلا کہ اُس کا پہلوٹھا مارا گیا ہے تو اُس نے موسیٰ سے کہا: ”تُم بنیاِسرائیل کو لے کر میری قوم کے لوگوں میں سے نکل جاؤ اور جیسا کہتے ہو جا کر[یہوواہ] کی عبادت کرو۔“ (خر 12:31) یہوواہ نے ظاہر کِیا کہ وہ ہمیشہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔
جب ہم جدید زمانے میں یہوواہ کے بندوں کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اِس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ یہوواہ آج بھی اپنے بندوں کی رہنمائی اور حفاظت کرتا ہے۔ یہ بات یہوواہ کے گواہوں کے مرکزی دفتر میں موجود میوزیم کے ایک حصے سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس کا نام ہے: ”یہوواہ کے نام کی ایک قوم۔“
ویڈیو ”واروِک دے عجائب گھر: یہوواہ دے ناں دی قوم“ کو پنجابی (شاہ مکھی) میں دیکھیں اور پھر اِن سوالوں کے جواب دیں:
سن 1914ء کے شروع میں بائبل سٹوڈنٹس نے بائبل پر ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے کون سا مؤثر اوزار اِستعمال کِیا اور یہ کس حد تک کامیاب رہا؟
سن 1916ء اور 1918ء میں یہوواہ کے بندوں کے ایمان کا اِمتحان کیسے ہوا اور یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہوواہ اپنی تنظیم کی رہنمائی کر رہا ہے؟
یہوواہ کے بندے مخالفت کے باوجود اپنے ایمان پر کیسے ڈٹے رہے؟
سن 1935ء میں یہوواہ کی تنظیم نے کون سی نئی وضاحت پیش کی اور اِس کا یہوواہ کے بندوں پر کیا اثر ہوا؟
اگر آپ کو اِس میوزیم میں جانے کا موقع ملا ہے تو وہاں کی کس چیز سے آپ کا اِس بات پر ایمان مضبوط ہوا ہے کہ یہوواہ اپنے بندوں کی رہنمائی اور حفاظت کرتا ہے؟