17-23 جولائی
حِزقیایل 18-20
گیت 21 اور دُعا
اِبتدائی کلمات (3 منٹ یا اِس سے کم)
پاک کلام سے سنہری باتیں
”کیا یہوواہ خدا ہمارے گُناہوں کا حساب رکھتا ہے؟“: (10 منٹ)
حِز 18:19، 20—یہوواہ خدا ہر شخص سے اُس کے کاموں کا حساب لیتا ہے۔ (ڈبلیو12 1/7 ص. 18، پ. 2)
حِز 18:21، 22—یہوواہ خدا اُن لوگوں کو معاف کرتا ہے جو توبہ کرتے ہیں اور اُن کے گُناہوں کا حساب نہیں رکھتا۔ (جاگو 7/95 ص. 27، پ. 4)
حِز 18:23، 32—یہوواہ خدا اُسی صورت میں بُرے لوگوں کو ہلاک کرتا ہے جب وہ بار بار موقع ملنے کے باوجود بھی توبہ نہیں کرتے۔ (م06 1/12 ص. 29، پ. 11؛ ڈبلیو08 1/4 ص. 8، پ. 4)
سنہری باتوں کی تلاش: (8 منٹ)
حِز 18:29—اِسرائیلیوں کے دل میں یہوواہ خدا کے لیے غلط سوچ کیوں پیدا ہو گئی تھی؟ اور ہم ایسی سوچ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ (م13 15/8 ص. 11، پ. 9)
حِز 20:49—لوگ حِزقیایل نبی کے بارے میں یہ کیوں کہتے تھے کہ وہ ”تمثیلیں [”ناقابلِسمجھ تمثیلیں،“ اُردو جیو ورشن]“ کہتے ہیں؟ اور لوگوں کے اِس رویے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (م07 1/7 ص. 10، پ. 3)
آپ نے حِزقیایل 18-20 ابواب سے یہوواہ خدا کے بارے میں کیا سیکھا ہے؟
آپ نے ابواب سے اَور کون سی سنہری باتیں سیکھی ہیں؟
تلاوت: (4 منٹ یا اِس سے کم) حِز 20:1-12
شاگرد بنانے کی تربیت
پہلی ملاقات: (2 منٹ یا اِس سے کم) 1-یوح 5:19—پاک کلام سے سچائی سکھائیں۔ واپسی ملاقات کی بنیاد ڈالیں۔
واپسی ملاقات: (4 منٹ یا اِس سے کم) پید 3:2-5—پاک کلام سے سچائی سکھائیں۔ اگلی ملاقات کی بنیاد ڈالیں۔ (”اِجلاس کا قاعدہ،“ اگست 2016ء، صفحہ 8، پیراگراف 2 کو دیکھیں۔)
تقریر: (6 منٹ یا اِس سے کم) م16.05 ص. 32—موضوع: جب اِس بات کا اِعلان کِیا جاتا ہے کہ ایک خارجشُدہ شخص دوبارہ سے کلیسیا کا رُکن بن گیا ہے تو کلیسیا اپنی خوشی کا اِظہار کیسے کر سکتی ہے؟
مسیحیوں کے طور پر زندگی
”کیا آپ خود کو معاف کرتے ہیں؟“: (10 منٹ) سامعین سے باتچیت۔ شروع میں ویڈیو Loyally Uphold Jehovah’s Judgments—Be Forgiving کو ہندی میں چلائیں۔
نوجوانوں کا سوال—مَیں اپنی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟: (5 منٹ) کتاب ”نوجوانوں کے 10 سوال اور اُن کے جواب“ کے چوتھے سوال پر سامعین سے باتچیت کریں۔ شروع میں حصہ ”آپ کیا کرتے؟“ اور حصہ ”ذرا رُکیں اور سوچیں!“ کی آڈیو ریکارڈنگ چلائیں۔
بائبل کا کلیسیائی مطالعہ: (30 منٹ) عظیم اُستاد، باب 43
دُہرائی اور اگلے اِجلاس پر ایک نظر (3 منٹ)
گیت 31 اور دُعا