’ایمان پر چلیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر‘
یروشلیم کے محاصرے اور تباہی سے کچھ عرصہ پہلے پولسُ رسول نے مسیحیوں سے کہا کہ وہ مسیح کے اچھے سپاہیوں کے طور پر یہ یاد رکھیں کہ اُنہیں مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اُنہوں نے مسیحیوں کو یہ نصیحت بھی کی کہ وہ اِس دُنیا کے عیشوآرام کو اہمیت نہ دیں۔ (2-تیم 2:3، 4) اِس بُری دُنیا پر بہت جلد ایک بڑی مصیبت آنے والی ہے۔ اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں تاکہ ہم یہوواہ کی خدمت پر پوری توجہ دے سکیں۔ (2-کُر 4:18؛ 5:7) ویڈیو ’Walk by Faith, Not by Sight‘ کو دیکھیں۔ (اِس کے لیے انگریزی میں ہماری ویبسائٹ کھولیں اور پہلے PUBLICATIONS اور پھر VIDEOS پر کلک کریں۔ پھر انگریزی میں یہ ویڈیو کھول کر ہندی زبان کا اِنتخاب کریں۔) غور کریں کہ اِس دُنیا کی چیزوں سے لگاؤ نحم اور ابیتل کے لیے کیسے ایک پھندا ثابت ہوا۔ اِس کے بعد نیچے دیے گئے سوالوں پر غور کریں۔
(1) پہلی صدی عیسوی میں ’مُقدس مقام میں کھڑی‘ ”اُجاڑنے والی مکروہ چیز“ کیا تھی اور یروشلیم میں رہنے والے مسیحیوں کو کیا قدم اُٹھانا تھا؟ (متی 24:15، 16) (2) یروشلیم سے بھاگنے کے لیے مضبوط ایمان کی ضرورت کیوں تھی؟ (3) یروشلیم چھوڑنے کے لیے کون کون سی قربانیاں دینا ضروری تھا؟ (4) نحم اور ابیتل نے یروشلیم چھوڑنے میں دیر کیوں لگائی؟ (متی 24:17، 18) (5) یروشلیم چھوڑتے وقت راہیل کے ایمان کا ایک اَور طریقے سے اِمتحان کیسے ہوا؟ (متی 10:34-37؛ مر 10:29، 30) (6) اِیتان نے یہوواہ خدا پر مضبوط ایمان اور بھروسے کے سلسلے میں عمدہ مثال کیسے قائم کی؟ (7) شہر پیلا میں مسیحیوں کو کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ (8) نحم اور ابیتل کا ایمان کمزور کیوں ہونے لگا؟ (9) یہوواہ خدا نے شہر پیلا میں مسیحیوں کی ضروریات کا خیال کیسے رکھا؟ (متی 6:33؛ 1-تیم 6:6-8) (10) اِس آخری زمانے میں ہم ابرہام اور سارہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ (عبر 11:8-10) (11) نحم اور ابیتل کن باتوں کی وجہ سے یروشلیم واپس جانے کو تیار ہو گئے اور اُن کی سوچ غلط کیوں تھی؟ (لُو 21:21) (12) جب نحم اور ابیتل یروشلیم واپس آئے تو اصل میں وہاں صورتحال کیسی تھی؟ (13) یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم اِس دُنیا کے خاتمے سے پہلے اپنے ایمان کو مضبوط کریں؟—لُو 17:31، 32؛ 21:34-36۔
ایمان پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم (1) یہوواہ خدا کی رہنمائی پر بھروسا کریں؛ (2) زندگی کا ہر فیصلہ اُس کی رہنمائی کے مطابق کریں اور (3) یہ بات ثابت کریں کہ ہماری نظر میں یہوواہ خدا کی خدمت دُنیا کی چیزوں سے زیادہ اہم ہے۔ آئیں، اِس بات کا پکا عزم کریں کہ ہم ایمان پر چلتے رہیں گے اور اِس بات پر پورا یقین رکھیں گے کہ ”دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“—1-یوح 2:17۔