مُنادی کے کام میں اپنی مہارتوں کو نکھارتے رہیں
1. پہلی صدی کی کن مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں مُنادی کے کام میں اپنی مہارتوں کو نکھارتے رہنا چاہیے؟
1 مسیحیوں کو مُنادی کے کام میں اپنی مہارتوں کو نکھارتے رہنے کی ضرورت ہے۔ اِسی لیے یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو اِس کام کے لیے تربیت دی۔ (لو 9:1-5؛ 10:1-11) پرِسکلہ اور اکوِلہ بھی اپلّوس کو تربیت دینے کے لیے اُنہیں ’اپنے گھر لے گئے اور اُنہیں خدا کی راہ اَور زیادہ صحت سے بتائی۔‘ (اعما 18:24-26) تیمُتھیُس مُنادی کے کام میں بہت تجربہ رکھتے تھے لیکن پھر بھی پولُس رسول نے اُن کی حوصلہافزائی کی کہ وہ تعلیم دینے کی طرف متوجہ رہیں تاکہ اُن کی ”ترقی سب پر ظاہر ہو۔“ (1-تیم 4:13-15) چاہے ہم کتنے ہی سالوں سے خداوند کی خدمت کیوں نہ کر رہے ہوں، ہم سب کو مُنادی کے کام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
2. ہم دوسروں سے کیسے سیکھ سکتے ہیں؟
2 دوسروں سے سیکھیں: مُنادی کے کام میں بہتری لانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم دوسروں سے سیکھیں۔ (امثا 27:17) لہٰذا جب آپ کے ساتھ مُنادی کرنے والا مبشر صاحبِخانہ سے بات کرتا ہے تو اُس کی بات کو دھیان سے سنیں۔ اُن بہن بھائیوں سے مشورہ مانگیں جو مؤثر طریقے سے خوشخبری سناتے ہیں اور اُن کے مشورے کو غور سے سنیں۔ (امثا 1:5) کیا آپ کو دوبارہ ملاقات کرنا، بائبل کا مطالعہ شروع کرنا یا کسی اَور طریقے سے گواہی دینا مشکل لگتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اپنے گروپ کے نگہبان یا کسی اَور تجربہکار مبشر سے تربیت پانے سے نہ ہچکچائیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا کی پاک روح ہماری صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہے۔ لہٰذا باقاعدگی سے اِس کے لیے دُعا کریں۔—لو 11:13۔
3. چاہے ہم کسی سے مشورہ مانگیں یا کوئی ہم سے پوچھے بغیر ہمیں مشورہ دے، ہمارا ردِعمل کیسا ہونا چاہیے؟
3 جب آپ کو مُنادی کے کام میں بہتری لانے کے لیے کوئی مشورہ دیا جاتا ہے تو ناراض مت ہوں، چاہے یہ مشورہ آپ سے پوچھے بغیر ہی کیوں نہ دیا گیا ہو۔ (واعظ 7:9) اپلّوس کی طرح خاکساری سے مدد کو قبول کریں اور اِس کے لیے شکرگزار ہوں۔ یوں آپ سمجھداری کا ثبوت دیں گے۔—امثا 12:15۔
4. یسوع مسیح نے کون سی اہم وجہ بتائی جس کی بِنا پر ہمیں مُنادی کے کام میں اپنی مہارتوں کو نکھارتے رہنے کی ضرورت ہے؟
4 اپنی مہارتوں کو نکھارنے سے ہم یہوواہ کو جلال دیتے ہیں: یسوع مسیح نے ایک تمثیل کے ذریعے اپنے پیروکاروں کی حوصلہافزائی کی کہ وہ مُنادی کے کام میں اپنی مہارتوں کو نکھارتے رہیں۔ اُنہوں نے خود کو انگور کے درخت سے اور اپنے ممسوح پیروکاروں کو ڈالیوں سے تشبیہ دی۔ اُنہوں نے کہا کہ باپ ہر اُس ڈالی کو چھانٹتا ہے جو پھل لاتی ہے تاکہ وہ ”زیادہ پھل لائے۔“ (یوح 15:2) جس طرح انگور کے تاکستان کا مالک یہ چاہتا ہے کہ انگور کے درخت زیادہ سے زیادہ پھل لائیں اُسی طرح یہوواہ خدا بھی یہ چاہتا ہے کہ ہم ”ہونٹوں کا پھل“ پیدا کرنے کی صلاحیتوں کو نکھارتے رہیں۔ (عبر 13:15) جب ہم ایسا کرتے ہیں تو اِس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اِس سوال کا جواب یسوع مسیح نے یوں دیا: ”میرے باپ کا جلال اِسی سے ہوتا ہے کہ تُم بہت سا پھل لاؤ۔“—یوح 15:8۔