سن 2015ء کے مسیحی خدمتی سکول کے ذریعے اپنی تعلیم دینے کی مہارت کو بہتر بنائیں
1 زبورنویس داؤد نے لکھا: ”میرے مُنہ کا کلام اور میرے دل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔ اَے [یہوواہ]! اَے میری چٹان اور میرے فدیہ دینے والے!“ (زبور 19:14) ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا باتیں یہوواہ کے حضور مقبول ٹھہریں کیونکہ ہم کلیسیا میں اور مُنادی کے کام میں پاک کلام کی سچائیوں کے بارے میں بات کرنے کو ایک اعزاز خیال کرتے ہیں۔ ایک طریقہ جس کے ذریعے یہوواہ ہمیں مُنادی کا کام کرنے کی تربیت دیتا ہے، وہ مسیحی خدمتی سکول ہے۔ یہ سکول پوری دُنیا میں ہر ہفتے 1 لاکھ 11 ہزار سے زیادہ کلیسیاؤں میں منعقد ہوتا ہے۔ اِس سکول کے ذریعے مختلف پسمنظر سے تعلق رکھنے والے لوگ بادشاہت کی خوشخبری سنانے کے لائق بن گئے ہیں۔ اُنہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ دلیری سے، موقعے کی مناسبت سے اور مؤثر طریقے سے گواہی کیسے دے سکتے ہیں۔—اعما 19:8؛ کل 4:6۔
2 سن 2015ء کے شیڈول میں کئی حصے مینارِنگہبانی، جاگو! اور بائبل موضوعات برائے گفتگو میں درج مواد پر مبنی ہیں۔ بائبل کی پڑھائی سے اہم نکات اور حصہ نمبر 1 کے لیے مقرر وقت میں کچھ تبدیلی کی گئی ہے۔ نیچے دیے گئے پیراگرافوں میں ہم اِن تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ہر حصے کے لیے دی گئی ہدایات پر بھی غور کریں گے۔
3 بائبل کی پڑھائی سے اہم نکات: جو بھائی یہ حصہ پیش کرتا ہے، وہ دو منٹ کے لیے بائبل کی ہفتہوار پڑھائی سے صرف ایک ہی نکتے پر بات کرے گا۔ اچھی تیاری کرنے سے وہ مقررہ وقت کے اندر ایسا نکتہ پیش کر سکے گا جو کلیسیا کے بہن بھائیوں کے لیے فائدہمند ہو۔ اِس کے بعد بہن بھائیوں کے پاس 6 منٹ ہوں گے جن میں وہ 30 سیکنڈ یا اِس سے کم وقت میں ایسے نکتے بتا سکتے ہیں جو اُنہیں دلچسپ لگے۔ 30 سیکنڈ کے اندر تبصرہ کرنے کے لیے اچھی تیاری کرنا لازمی ہے۔ ایسا کرنا شاید اِتنا آسان نہ ہو لیکن اِس طرح ہموقت کی پابندی کرنا سیکھیں گے۔ اگر ہم 30 سیکنڈ میں اپنا تبصرہ دیتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ بہن بھائیوں کو ایسے نکات بتانے کا موقع ملے گا جن پر اُنہوں نے تحقیق کی ہے۔
4 حصہ نمبر 1: بائبل کی پڑھائی کے لیے جو وقت مقرر تھا، اُس میں کچھ کمی کی گئی ہے۔ اب یہ حصہ تین منٹ یا اِس سے کم وقت میں پیش کِیا جائے گا اور اِس کے لیے مواد بھی پہلے کی نسبت کم ہوگا۔ جس بھائی کو یہ حصہ ملتا ہے، اُسے اُونچی آواز میں کئی بار اِس کی مشق کرنی چاہیے۔ اُسے اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ صحیح تلفظ اور روانی کے ساتھ پڑھے تاکہ سامعین سارے خیالات کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ یہوواہ کے سب بندوں کو اپنی پڑھنے کی صلاحیت کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ صلاحیت ہماری عبادت کے مختلف پہلو میں کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ یہ بڑی ہی اچھی بات ہے کہ کلیسیا میں بہت سے بچے اچھی طرح پڑھائی کرتے ہیں۔ ہم اُن والدین کو داد دیتے ہیں جو اِس سلسلے میں اپنے بچوں کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔
5 حصہ نمبر 2: اِس حصے کو ایک بہن پیش کرے گی۔ اِس حصے کے لیے مقررہ وقت پانچ منٹ ہے۔ طالبہ کو اُسی موضوع پر تقریر پیش کرنی چاہیے جو اُسے دیا گیا ہے۔ جب اِس تقریر کا مواد بائبل موضوعات برائے گفتگو سے لیا گیا ہو تو طالبہ کو موضوع کو اِس طرح سے پیش کرنا چاہیے کہ یہ آپ کے علاقے کی صورتحال پر لاگو ہو۔ جب تقریر کا مواد مینارِنگہبانی یا جاگو! سے لیا گیا ہو تو طالبہ کو اِس مواد پر غور کرنا چاہیے، اِس میں سے موزوں آیتوں کو چننا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ ہم اِن معلومات سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔ طالبہ ایسی آیتیں بھی اِستعمال کر سکتی ہے جو دیے گئے مواد میں درج نہیں بشرطیکہ وہ اُس کے موضوع سے تعلق رکھتیں ہوں۔ سکول کا نگہبان طالبہ کے لیے مددگار مقرر کرے گا۔
6 حصہ نمبر 3: اِس حصے کو ایک بہن یا بھائی پیش کرے گا۔ اِس حصے کے لیے مقررہ وقت پانچ منٹ ہے۔ جب یہ حصہ کسی بہن کو دیا جائے تو وہ اِسے پیش کرتے وقت حصہ نمبر 2 کے لیے دی گئی ہدایات پر عمل کرے گی۔ جب یہ حصہ کسی بھائی کو دیا جائے تو وہ اپنے سامعین کو ذہن میں رکھتے ہوئے اِسے تقریر کی صورت میں پیش کرے گا۔ طالبِعلم کو تقریر کو موضوع کے مطابق پیش کرنا چاہیے اور مواد میں سے مناسب آیتوں کا اِنتخاب کرنا چاہیے۔ اُسے یہ واضح کرنا چاہیے کہ ہم اِن معلومات سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
7 مشورہ: ہر طالبِعلم کی تقریر کے بعد سکول کا نگہبان دو منٹ کے لیے کسی اچھے پہلو کا ذکر کرے گا اور کتابچے فنِتقریروتعلیم کو بہتر بنانا سے مشورہ بھی دے گا۔ سکول کا نگہبان حصے سے پہلے اُس تقریری صلاحیت کا اِعلان نہیں کرے گا جس پر طالبِعلم کام کر رہا ہے۔ لیکن حصے کے بعد وہ طالبِعلم کو داد دینے کے ساتھ ساتھ اُس تقریری صلاحیت کا اِعلان کرے گا جس پر طالبِعلم کام کر رہا تھا۔ وہ یہ بتائے گا کہ طالبِعلم اِسے اچھی طرح سے عمل میں کیوں لایا ہے یا پھر وہ شفیق انداز میں بتائے گا کہ طالبِعلم کو اِس صلاحیت پر مزید توجہ کیوں دینی چاہیے۔
اِس سکول سے ملنے والی تربیت پر عمل کرنے سے ہم روحانی لحاظ سے آگے بڑھیں گے۔
8 اِجلاس کے بعد یا کسی اَور وقت سکول کا نگہبان طالبِعلم کو داد دے سکتا ہے۔ وہ اکیلے میں طالبِعلم سے پوچھ سکتا ہے کہ جو مشورہ اُسے دیا گیا تھا، کیا اُس نے اُس پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اِس کے علاوہ سکول کا نگہبان طالبِعلم کو کسی صلاحیت میں بہتری لانے کے سلسلے میں کچھ اَور مشورے بھی دے سکتا ہے۔ ہر طالبِعلم کو سمجھنا چاہیے کہ سکول کے دوران اُسے جو مشورے ملتے ہیں، اُن پر عمل کرنے سے وہ روحانی لحاظ سے آگے بڑھ سکتا ہے۔—1-تیم 4:15۔
9 اگر حصہ نمبر 1، 2 یا 3 کا وقت پورا ہو جائے تو سکول کے نگہبان یا پھر کسی اَور بھائی کو طالبِعلم کو مناسب طریقے سے روکنا چاہیے جیسے کہ گھنٹی بجا کر۔ طالبِعلم کو ایسا اِشارہ ملنے پر اپنا جملہ مکمل کرکے سٹیج سے نیچے اُتر آنا چاہیے۔—کتابچہ فنِتقریروتعلیم ص. 82، پ. 18 کو دیکھیں۔
10 اگر آپ نے ابھی تک مسیحی خدمتی سکول میں اپنا نام درج نہیں کرایا حالانکہ آپ اِس میں داخل ہونے کی شرائط پر پورا اُترتے ہیں تو ہم آپ کی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ اِس سکول میں اپنا نام درج کرائیں۔ یہوواہ کے بندے اِس سکول سے جو تربیت حاصل کرتے ہیں، اُس کی بدولت وہ دوسروں کو محبت سے، اِعتماد سے اور مہذب انداز میں خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اِس سکول سے تربیت حاصل کرنے والے مسیحی یہوواہ خدا کی بڑائی کر رہے ہیں۔ بِلاشُبہ اِس سے یہوواہ کو بہت خوشی ہوتی ہے۔—زبور 148:12، 13؛ یسع 50:4۔