لوگوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے بائبل کا مطالعہ کریں
1. جب ہم لوگوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہماری کیا ذمےداری بنتی ہے؟
1 کوئی شخص اُس وقت تک یہوواہ کی خدمت نہیں کر سکتا جب تک کہ یہوواہ اُسے اپنی طرف ”کھینچ نہ لے۔“ (یوح 6:44) پھر بھی جب ہم لوگوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں آسمانی باپ کے قریب آنے میں اُن کی مدد کرنی چاہیے۔ (یعقو 4:8) اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے سے تیاری کریں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بائبل کی تعلیم طالبِعلم کے دل پر اثر کرے اور وہ روحانی لحاظ سے آگے بڑھے تو اُس کے ساتھ بس پیراگراف پڑھنا اور کتاب میں دیے گئے سوال پوچھنا کافی نہیں ہے۔
2. لوگوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے بائبل کا مطالعہ کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
2 اگر ہم لوگوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے بائبل کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُن کی مدد کرنی چاہیے کہ وہ (1) بائبل کی تعلیمات کو سمجھیں، (2) اِن کو قبول کریں اور (3) اِن پر عمل کریں۔ (یوح 3:16؛ 17:3؛ یعقو 2:26) یہ تین کام کرنے کے لیے کسی شخص کی مدد کرنے میں کچھ مہینے لگ سکتے ہیں۔ لیکن یہ کام کرنے سے ایک شخص یہوواہ کے قریب آ جاتا ہے اور خود کو اُس کے لیے وقف کرنے کو تیار ہوتا ہے۔
3. ہمیں طالبِعلم سے سوال کیوں پوچھنے چاہئیں؟
3 طالبِعلم کے خیالات جاننے کی کوشش کریں: ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ طالبِعلم جو کچھ سیکھ رہا ہے، اُسے سمجھتا اور قبول کرتا ہے؟ سارا وقت خود ہی بولتے رہنے کی بجائے اُسے بھی اپنے خیالات کا اِظہار کرنے کا موقع دیں۔ (یعقو 1:19) جس موضوع پر آپ اُس کے ساتھ باتچیت کر رہے ہیں، کیا وہ سمجھتا ہے کہ بائبل میں اِس کے متعلق کیا بتایا گیا ہے؟ کیا وہ اِس موضوع کے بارے میں بائبل کا نظریہ اپنے الفاظ میں بتا سکتا ہے؟ جو کچھ اُس نے سیکھا ہے، اُس کے بارے میں وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟ کیا وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ بائبل کی تعلیمات ہمارے فائدے کے لیے ہیں؟ (1-تھس 2:13) کیا وہ یہ بات سمجھتا ہے کہ جو کچھ اُس نے بائبل میں سے سیکھا ہے، اُسے اُس پر عمل بھی کرنا چاہیے؟ (کل 3:10) اِس طرح کے سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں اُس سے کچھ ایسے سوال پوچھنے چاہئیں جن سے اُسے اپنے خیالات کا اِظہار کرنے کا موقع ملے اور پھر ہمیں اُس کی بات دھیان سے سننی چاہیے۔—متی 16:13-16۔
4. اگر طالبِعلم کو بائبل کی کسی تعلیم کو سمجھنا اور اُس پر عمل کرنا مشکل لگ رہا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
4 ایک شخص کی عادتوں اور اُس کی سوچ کا اکثر اُس کی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے اور اِنہیں بدلنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ (2-کر 10:5) طالبِعلم نے جو کچھ سیکھا ہے اگر وہ اُسے فوراً قبول نہیں کرتا اور اُس پر عمل نہیں کرتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ایسی صورت میں ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ صبر سے کام لینا چاہیے تاکہ خدا کا کلام اور اُس کی پاک روح طالبِعلم کے دل پر اثر کرے۔ (1-کر 3:6، 7؛ عبر 4:12) اگر طالبِعلم کو بائبل کی کسی تعلیم کو سمجھنا اور اُس پر عمل کرنا مشکل لگ رہا ہے تو ایسا کرنے کے لیے اُس پر دباؤ نہ ڈالیں۔ اِس کی بجائے بہتر ہوگا کہ ہم اُس کے ساتھ بائبل کے کسی اَور موضوع پر باتچیت کریں۔ جب ہم اُسے صبر اور محبت سے بائبل کی تعلیم دیتے رہتے ہیں تو شاید وقت کے ساتھ ساتھ اُسے خود میں تبدیلیاں کرنے کی ترغیب ملے۔