نبیوں کی مثال پر عمل کریں—ناحوم
1. ہم ناحوم کی کتاب سے کیا سیکھتے ہیں؟
1 شہر نینوہ پُرانے زمانے کے ملک اسور کا دارالحکومت تھا۔ لیکن اب یہ شہر کھنڈر بن چُکا ہے۔ یہ کھنڈرات اِس بات کا ثبوت ہیں کہ یہوواہ اپنے دُشمنوں سے اِنتقام لیتا ہے اور اُس کے دُشمن چاہے جتنے بھی طاقتور ہوں، وہ اُس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے۔ (ناحوم 1:2، 6) ناحوم نبی نے نینوہ کی بربادی کے بارے میں پیشگوئی کی تھی۔ اِس پیشگوئی کا جائزہ لینے سے ہم کچھ ایسی باتیں سیکھ سکتے ہیں جو مُنادی میں ہمارے کام آ سکتی ہیں۔
2. ہمیں لوگوں کی توجہ کس بات پر دِلانی چاہیے؟
2 تسلی اور اُمید دیں: جب ہم ناحوم کی کتاب کو پڑھتے ہیں تو شاید ہمیں لگے کہ اِس میں تو بس نینوہ کی بربادی کا پیغام درج ہے۔ (ناحوم 1:1؛ 3:7) لیکن یہوواہ کے بندوں کے لیے یہ خوشی کا پیغام تھا۔ ناحوم کے نام کا مطلب ہے، تسلی دینے والا۔ اُنہوں نے اپنی قوم کو اُمید دی کہ اُس کے دُشمنوں کو مٹا دیا جائے گا۔ ناحوم نے اپنے لوگوں کو یقین دِلایا کہ یہوواہ ”مصیبت کے دن پناہگاہ ہے۔“ (ناحوم 1:7) ناحوم کی طرح ہم بھی لوگوں کی توجہ خوشخبری پر دِلاتے ہیں اور اُن کی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ وہ یہوواہ کو اپنی پناہگاہ بنائیں۔—ناحوم 1:15۔
3. اپنے پیغام کو مؤثر بنانے کے لیے ہم ناحوم نبی کا کون سا طریقہ اپنا سکتے ہیں؟
3 مثالیں اِستعمال کریں: ناحوم نبی نے نینوہ کی بربادی کا پیغام دیتے وقت مصر کے شہر تھیبس کی بربادی کی مثال اِستعمال کی۔ (تھیبس کا پُرانا نام نوآمون ہے۔) اِس شہر کو اسوریوں نے خود تباہ کِیا تھا۔ (ناحوم 3:8-10) جب ہم لوگوں کو اِس دُنیا کے خاتمے کے بارے میں بتاتے ہیں تو ہم بائبل کی ایسی پیشگوئیوں کا حوالہ دے سکتے ہیں جو پوری ہو چکی ہیں اور جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا اپنی کہی ہوئی ہر بات کو پورا کرتا ہے۔ شاید ہم شہر نینوہ کے بارے میں پیشگوئی کی مثال دے سکتے ہیں۔ اِس شہر کی دیواروں کو توڑنا بہت مشکل تھا۔ لیکن جب بابلیوں اور مادیوں نے 632 قبلازمسیح میں نینوہ پر حملہ کِیا تو بہت تیز بارش ہوئی جس سے دریائےدجلہ میں سیلاب آ گیا اور اِس دیوار کا ایک حصہ گِر گیا۔ نینوہ کو آسانی سے فتح کر لیا گیا اور یوں یہوواہ کی پیشگوئی پوری ہوئی۔—ناحوم 1:8؛ 2:6۔
4. مُنادی کے کام میں ہمیں کس بات کا خیال رکھنا چاہیے؟
4 آسان اور واضح انداز میں بات کریں: ناحوم نے اپنی کتاب میں سب باتوں کو بڑے دلکش انداز میں لکھا۔ اُن کا پیغام بالکل واضح تھا۔ (ناحوم 1:14؛ 3:1) مُنادی کے کام کے دوران ہمیں بھی لوگوں کے ساتھ آسان اور واضح انداز میں بات کرنی چاہیے۔ (1-کر 14:9) پہلی ملاقات پر لوگوں کو واضح طور پر بتا دیں کہ آپ اُن سے کیوں ملنے آئے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے وقت اُن کی مدد کریں تاکہ وہ یہوواہ اور اُس کے کلام پر اپنے ایمان کو مضبوط کر سکیں۔ اِس کے علاوہ یہ سمجھنے میں اُن کی مدد کریں کہ جو باتیں وہ سیکھ رہے ہیں، وہ اُن پر کیسے لاگو ہوتی ہیں۔—روم 10:14۔
5. ناحوم کی پیشگوئی سے ہمیں کیا تسلی ملتی ہے؟
5 ناحوم کی کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اِس بات پر بھروسا رکھتے تھے کہ یہوواہ کا کلام ہمیشہ پورا ہوتا ہے۔ شیطان کی اِس دُنیا پر یہوواہ کا قہر نازل ہونے والا ہے۔ لیکن ہمیں اُس کے اِس وعدے سے تسلی ملتی ہے کہ ”عذاب دوبارہ نہ آئے گا۔“—ناحوم 1:9۔