اُن لوگوں کی مدد کیسے کریں جنہیں پڑھنا مشکل لگتا ہے؟
1. جو لوگ اِتنی اچھی طرح سے پڑھ نہیں سکتے، اُن کو بائبل کی تعلیم دینے کے سلسلے میں ہمیں کس مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے؟
1 ہو سکتا ہے کہ ایسے صاحبِخانہ جو اِتنی اچھی طرح سے پڑھ نہیں سکتے، وہ خدا کے بارے میں سیکھنا تو چاہیں لیکن بائبل یا کسی اَور بڑی کتاب کو دیکھ گھبرا جائیں۔ ایسے لوگوں کو کتاب پاک صحائف کی تعلیم پیش کرنا شاید اِتنا فائدہمند ثابت نہ ہو، خاص طور پر شروعشروع میں۔ لیکن ہم اِن لوگوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں ہم نے 20 سے زیادہ ملکوں کے تجربہکار مبشروں سے بات کی۔ آئیں، دیکھتے ہیں کہ اُنہوں نے کیا مشورے دیے۔
2. اگر ایک شخص اِتنی اچھی طرح سے نہیں پڑھ سکتا تو کونسی مطبوعات اُس کے ساتھ مطالعہ کرنے کے لیے فائدہمند ثابت ہو سکتی ہیں؟
2 اگر صاحبِخانہ تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا جانتا ہے یا پھر اگر وہ بالکل ہی نہیں پڑھ سکتا تو آپ اُس کے ساتھ بروشر خدا کی سنیں یا پھر خدا کی سنیں اور ہمیشہ کی زندگی پائیں سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔ امریکہ میں رہنے والا ایک پہلکار صاحبِخانہ کو یہ دونوں بروشر دِکھاتا ہے اور اُس سے پوچھتا ہے کہ اِن دونوں میں سے کونسا بروشر اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ کینیا کے برانچ کے دفتر نے بتایا کہ یہ بروشر اُس ملک میں بہت مؤثر ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ وہاں عموماً لوگ دوسروں کو کوئی بات سمجھانے کے لیے سوال جواب کا طریقہ اِستعمال نہیں کرتے بلکہ اُن کو کوئی کہانی سناتے ہیں۔ شاید ایک پڑھا لکھا شخص تو کوئی کتاب لے لے اور پھر اُس پر سوالاًجواباً بات کرنے کو تیار ہو جائے لیکن ایک کم پڑھا لکھا شخص ایسا کرنے سے ہچکچائے۔ اگر ایک شخص تھوڑا بہت پڑھ لیتا ہے تو بہت سے مبشر اُس کے ساتھ بروشر خدا کی طرف سے خوشخبری یا آپ خدا کے دوست بن سکتے ہیں! یا پھر کتاب پاک کلام کی سچی کہانیاں سے مطالعہ شروع کرتے ہیں۔
3. اَنپڑھ لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے کن باتوں کو ذہن میں رکھنا فائدہمند ثابت ہو سکتا ہے؟
3 داد دیں: کچھ لوگوں کو اِس بات سے بہت شرمندگی ہوتی ہے کہ اُن کو پڑھنا نہیں آتا۔ بہت سے لوگ تو اِس وجہ سے احساسِکمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سچائی سکھانے میں پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اُن کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کریں۔ زیادہتر اَنپڑھ لوگ ذہین ہوتے ہیں اور آسانی سے نئی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کا احترام کرنا چاہیے۔ (1-پطر 2:17) اگر اُنہیں احساس دِلایا جائے کہ اُن کی کوششوں کا اچھا نتیجہ نکل رہا ہے اور وہ روحانی طور پر آگے بڑھ رہے ہیں تو اُن کو مطالعہ جاری رکھنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ اِس لیے جب بھی موقع ملے، ایسے لوگوں کو داد دیں۔
کچھ لوگوں کو اِس بات سے بہت شرمندگی ہوتی ہے کہ اُن کو پڑھنا نہیں آتا۔ بہت سے لوگ تو اِس وجہ سے احساسِکمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سچائی سکھانے میں پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اُن کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کریں۔
4. جو لوگ زیادہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے ہم اُن کی حوصلہافزائی کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ پہلے سے مطالعے کی تیاری کریں؟
4 اگر بائبل کا مطالعہ کرنے والا شخص تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا جانتا ہے تو اُس کی حوصلہافزائی کریں کہ وہ پہلے سے مطالعے کے لیے تیاری کرے۔ جنوبی افریقہ میں رہنے والے کچھ مبشر مطالعہ کرنے والے شخص سے کہتے ہیں کہ وہ تیاری کرنے کے سلسلے میں کسی ایسے دوست یا گھر کے فرد سے مدد حاصل کرے جسے پڑھنا آتا ہے۔ برطانیہ میں رہنے والا ایک مبشر مطالعے کے دوران صاحبِخانہ کو چند پیراگراف کے لیے اپنی کتاب دے دیتا ہے تاکہ صاحبِخانہ دیکھ سکے کہ اگر جواب پر پہلے سے نشان لگے ہوں تو اِنہیں تلاش کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ اِنڈیا میں رہنے والا ایک بھائی بائبل کا مطالعہ کرنے والے شخص کی حوصلہافزائی کرتا ہے کہ وہ اگلے سبق میں دی گئی تصویروں کو پہلے سے دیکھے اور سوچے کہ اِن کے ذریعے کیا بات سکھائی گئی ہے۔
5. بائبل کا مطالعہ کراتے وقت ہم صبر سے کام کیسے لے سکتے ہیں؟
5 صبر سے کام لیں: چاہے آپ مطالعہ کرانے کے لیے کوئی کتاب اِستعمال کرتے ہیں یا پھر بروشر، صاحبِخانہ کی مدد کریں کہ وہ اہم نکتوں کو اچھی طرح سے سمجھے۔ شروعشروع میں بہتر ہوگا کہ آپ صرف 10 سے 15 منٹ تک باتچیت کریں۔ بہت زیادہ مواد پر بات نہ کریں بلکہ صرف چند پیراگرافوں پر بات کریں۔ اگر وہ شخص پیراگراف روانی سے نہیں پڑھتا تو صبر سے کام لیں۔ جیسےجیسے اُس کے دل میں یہوواہ خدا کے لیے محبت بڑھے گی، اُسے ترغیب ملے گی کہ وہ اپنی پڑھنے کی صلاحیت کو نکھارے۔ اِس سلسلے میں اُس کی مدد کرنے کے لیے اچھا ہے کہ آپ شروع سے ہی اُسے اِجلاسوں پر آنے کی دعوت دیں۔
6. ہم ایک شخص کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ وہ پڑھنا لکھنا سیکھے؟
6 جیسے ہی بائبل کا مطالعہ کرنے والا شخص پڑھنا لکھنا سیکھ جاتا ہے، وہ زیادہ تیزی سے روحانی طور پر آگے بڑھتا ہے۔ (زبور 1:1-3) لیکن اگر ایک کم پڑھا لکھا شخص بےحوصلہ ہو جاتا ہے تو آپ اُس کی توجہ اُن باتوں پر دِلا سکتے ہیں جو اُس نے اب تک سیکھی ہیں۔ اُسے یقین دِلائیں کہ یہوواہ خدا اُس کی کوششوں پر برکت دے گا۔ اِس کے علاوہ اُس کی حوصلہافزائی کریں کہ وہ اِس سلسلے میں یہوواہ خدا سے مدد بھی مانگے۔ (امثا 16:3؛ 1-یوح 5:14، 15) برطانیہ میں کچھ مبشر بائبل کا مطالعہ کرنے والوں کی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ وہ ایسے منصوبے بنائیں جنہیں وہ پورا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ اُن کی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ پہلے وہ الفبے سیکھیں، اُس کے بعد آیتوں کو نکالنا اور پڑھنا سیکھیں اور پھر ہماری ایسی کتابیں پڑھیں جن میں آسان زبان اِستعمال کی گئی ہے۔ لوگوں کو پڑھنے میں مدد دینے میں یہ شامل ہے کہ ہم نہ صرف اُنہیں پڑھنا سکھائیں بلکہ اُن میں پڑھنے کا شوق بھی پیدا کریں۔
7. ہمیں کم پڑھے لکھے لوگوں کو پاک کلام کی سچائیاں سکھانے سے کیوں نہیں ہچکچانا چاہیے؟
7 یہوواہ خدا اُن لوگوں کو کمتر خیال نہیں کرتا جو اِتنے پڑھنے لکھے نہیں ہیں۔ (ایو 34:19) وہ تو ایک شخص کے دل کو جانچتا ہے۔ (1-توا 28:9) لہٰذا ہمیں کم پڑھے لکھے لوگوں کو پاک کلام کی سچائیاں سکھانے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ ہمارے پاس بہت سے ایسے شاندار بروشر ہیں جن کے ذریعے ہم اِن لوگوں کو سچائی سکھانا شروع کر سکتے ہیں۔ اور پھر کچھ عرصے بعد ہم اُن کے ساتھ پاک صحائف کی تعلیم کا مطالعہ کر سکتے ہیں تاکہ اُن کو بائبل کی گہری سچائیاں سمجھا سکیں۔