’اپنی خدمت کو پورا کریں۔‘
۱. پولس رسول نے مُنادی کے کام کے سلسلے میں کیا مثال قائم کی؟
۱ پولس رسول نے تیمتھیس سے کہا: ”اپنی خدمت کو پورا کر۔“ (۲-تیم ۴:۵) اُنہوں نے خود ایسا کِیا تھا اِسی لئے وہ تیمتھیس کو یہ نصیحت کر سکتے تھے۔ بادشاہت کی خوشخبری سنانے کے لئے پولس رسول نے ۴۷-۵۶ عیسوی کے دوران تین بار مختلف ملکوں کا دورہ کِیا۔ اعمال کی کتاب میں باربار اِس بات کا ذکر ہوا ہے کہ پولس رسول نے بڑی لگن سے بادشاہت کی ”گواہی“ دی۔ (اعما ۲۳:۱۱؛ ۲۸:۲۳) ہم پولس رسول کی مثال پر عمل کیسے کر سکتے ہیں؟
۲. ہم گھرگھر مُنادی کے دوران ہر شخص کو گواہی دینے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
۲ گھرگھر مُنادی کے دوران: اگر ہمارے علاقے میں ایسے لوگ ہیں جن سے مُنادی کے دوران ہماری ملاقات نہیں ہو پاتی تو ہمیں مختلف دن اور وقت پر اُن سے ملنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ عام طور پر گھر کے سربراہ شام کے وقت یا چھٹی والے دن گھر پر ہوتے ہیں۔ اِس دوران مُنادی کرنے سے ہمیں اُن سے ملنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم ہر گھر میں کسی نہ کسی سے ضرور ملیں۔ اگر ایک گھر پر ہماری کسی سے ملاقات نہیں ہوتی تو ہمیں باربار وہاں جانا چاہئے۔ لیکن اگر باربار جانے کے باوجود بھی ہماری کسی سے ملاقات نہیں ہوتی تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم ایک خط لکھ کر اُن کے گھر چھوڑ سکتے ہیں یا اُن کو فون کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے اچھے نتیجے نکلیں۔
۳. دوسروں کو گواہی دینے کے لئے آپ کے پاس کونسے موقعے ہوتے ہیں؟
۳ ہر جگہ اور ہر موقعے پر گواہی: یہوواہ خدا کے خادم سب لوگوں کو ”حکمت“ کی باتیں سنا رہے ہیں۔ بعض اوقات وہ ’کوچوں‘ یا ”راستوں“ میں گواہی دیتے ہیں۔ (امثا ۱:۲۰، ۲۱) کیا ہم اپنے روزمرہ کاموں کے دوران دوسروں کو گواہی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں؟ کیا ہمارے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم ”کلام سنانے کے جوش سے“ بھرے ہوئے ہیں؟ (اعما ۱۸:۵) اگر ایسا ہے تو ہم ’گواہی دینے‘ کی ذمہداری کو پورا کر رہے ہیں۔—اعما ۱۰:۴۲؛ ۱۷:۱۷؛ ۲۰:۲۰، ۲۱، ۲۴۔
۴. دُعا کرنے اور سوچبچار کرنے سے ہمیں گواہی دینے کے سلسلے میں کیا مدد ملتی ہے؟
۴ کبھیکبھی ہم شرمیلے پن، انسانوں کے خوف یا کسی اَور وجہ سے گواہی دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہوواہ خدا ہماری کمزوریوں سے واقف ہے۔ (زبور ۱۰۳:۱۴) اِسی لئے اگر ہمیں کسی موقعے پر دوسروں کو گواہی دینا مشکل لگتا ہے تو ہم دلیری کے لئے یہوواہ خدا سے دُعا کر سکتے ہیں۔ (اعما ۴:۲۹، ۳۱) اِس کے علاوہ جب ہم ذاتی مطالعہ اور پاک کلام پر سوچبچار کرتے ہیں تو ہم اِس بات پر توجہ دے سکتے ہیں کہ ہم اپنے دل میں بادشاہت کی خوشخبری کے لئے قدر بڑھائیں۔ (فل ۳:۸) یوں ہم جوش کے ساتھ خوشخبری سنائیں گے۔
۵. ہم یوایل نبی کی پیشینگوئی کو پورا کرنے میں حصہ کیسے لے سکتے ہیں؟
۵ یوایل نبی نے پیشینگوئی کی تھی کہ یہوواہ خدا کے خوفناک روزِعظیم کے آنے سے پہلے اُس کے لوگ مُنادی کا کام کرتے رہیں گے اور کسی بھی چیز کو اِس کام میں رُکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ (یوایل ۲:۲، ۷-۹) آئیں، ہم گواہی دینے کے کام میں بڑھچڑھ کر حصہ لیتے رہیں کیونکہ یہ ایسا کام ہے جسے کرنے کا موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔