اپنی پیشکش کو سامعین کے مطابق ڈھالیں
۱. ہم اِبتدائی مسیحیوں کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟
۱ اِبتدائی مسیحی مختلف مذہبوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو خوشخبری سناتے تھے۔ (کل ۱:۲۳) وہ سب لوگوں کو ایک ہی پیغام دیتے تھے یعنی اُنہیں خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتاتے تھے۔ لیکن وہ اپنی پیشکش کو اپنے سامعین کے مطابق ڈھالتے تھے۔ مثال کے طور پر، جب پطرس رسول نے یہودیوں سے بات کی جو پاک صحیفوں کو مانتے تھے، تو اُنہوں نے یوئیل نبی کی پیشینگوئی کا حوالہ دیا۔ (اعما ۲:۱۴-۱۷) لیکن اعمال ۱۷:۲۲-۳۱ میں غور کریں کہ پولس رسول نے یونانیوں کو کس طریقے سے دلیلیں پیش کیں۔ آجکل بھی کچھ علاقوں میں لوگ پاک صحیفوں کو مانتے ہیں اِس لئے ہم گھرگھر مُنادی کے دوران اُنہیں آسانی سے بائبل کھول کر دِکھا سکتے ہیں۔ لیکن جب ہم ایسے لوگوں سے بات کرتے ہیں جو بائبل میں یا مذہب میں دلچسپی نہیں لیتے یا جو مسیحی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے تو شاید ہمیں سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہو۔
۲. ہم اپنی پیشکش کو بائبل میں دلچسپی رکھنے والے اور نہ رکھنے والے لوگوں کے مطابق کیسے ڈھال سکتے ہیں؟
۲ مہینے کی پیشکش کو مؤثر طریقے سے استعمال کریں: اِس خدمتی سال کے دوران ہماری پیشکش ہر دو مہینے میں بدلے گی اور اِس میں رسالوں، پرچوں اور بروشروں کو نمایاں کِیا جائے گا۔ اگر ہمارے علاقے کے لوگ بائبل میں زیادہ دلچسپی نہ بھی رکھتے ہوں تو بھی ہم اُنہیں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور پیش کر سکتے ہیں جس میں وہ دلچسپی رکھتے ہوں۔ شاید ہم پہلی ملاقات پر اُن کے ساتھ کوئی آیت نہ پڑھیں یا بائبل کا حوالہ نہ دیں۔ لیکن اگر وہ ہمارے پیغام میں دلچسپی لیتے ہیں تو ہم دوبارہ اُن کے پاس جا سکتے ہیں اور اُن کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ خدا اور اُس کے کلام پر ایمان لے آئیں۔ لیکن اگر ہم کسی ایسے علاقے میں مُنادی کر رہے ہیں جہاں لوگ بائبل کو مانتے ہیں، تو ہم اپنی پیشکش کو اُن کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ چاہے مہینے کی پیشکش کچھ بھی ہو، ہم کتاب پاک صحائف کی تعلیم، بروشر خدا کی سنیں یا بروشر خدا کی سنیں اور ہمیشہ کی زندگی پائیں کسی بھی وقت پیش کر سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی پیشکش کو اِس طرح ڈھالیں کہ لوگ خدا کے پیغام میں دلچسپی لیں۔
۳. لوگوں کے دل کس لحاظ سے زمین کی طرح ہیں؟
۳ زمین تیار کریں: لوگوں کا دل بڑی حد تک زمین کی طرح ہے۔ (لو ۸:۱۵) کچھ لوگوں کے دل کی زمین کو تیار کرنے کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سچائی کا بیج اُن کے دل میں جڑ پکڑے اور بڑھے۔ پہلی صدی عیسوی میں مسیحیوں نے ہر طرح کی زمین میں سچائی کا بیج بویا اور اِس سے اُنہیں خوشی اور اطمینان حاصل ہوا۔ (اعما ۱۳:۴۸، ۵۲) اگر ہم بھی اپنی پیشکش کو اپنے سامعین کے مطابق ڈھالیں گے تو ہمیں بھی خوشی اور اطمینان حاصل ہوگا۔