مسیحی خدمتی سکول کا اِعادہ
۲۶ دسمبر ۲۰۱۱ء سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران مسیحی خدمتی سکول کے اِعادے میں مندرجہذیل سوالات پر غور کِیا جائے گا۔
۱. اگر ہماری کوئی بات ایک شخص کو بُری لگی ہے تو ہم امثال ۳۰:۳۲ میں درج ہدایت کے مطابق کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم اُس شخص کو اَور زیادہ غصہ نہ دلائیں؟ [ڈبلیو۸۷ ۱۵/۵ ص. ۳۰، پ. ۱۱]
۲. کس قسم کی ”خوشی“ حاصل کر لینے کے بعد بھی انسان کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا؟ (واعظ ۲:۱، ۳-۸، ۱۱)
۳. بعض لوگوں کا خیال ہے کہ واعظ ۳:۱-۹ میں درج سلیمان کے الفاظ اِس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ اُس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔ لیکن واعظ ۹:۱۱ میں درج سلیمان کے الفاظ لوگوں کے اِس خیال کو کیسے غلط ثابت کرتے ہیں؟ [م۰۹ ۱/۴ ص. ۴، پ. ۴]
۴. ”حد سے زیادہ نیکوکار“ بننے سے ہم کس خطرے میں پڑ سکتے ہیں؟ (واعظ ۷:۱۶) [م۱۰ ۱/۱۰ ص. ۱۹، پ. ۸، ۹]
۵. نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے مطابق غزلالغزلات ۲:۷ میں شولمیت نے یوں کہا: ”میرے دل میں عشق نہ جگاؤ جب تک کہ یہ خودبخود نہ جاگے۔“ شولمیت کی اِس بات سے یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں، اُنہیں جیونساتھی کا انتخاب کرنے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کرنا چاہئے؟ [م۰۶ ۱/۱۲ ص. ۱۶، پ. ۲]
۶. شولمیت کے ہونٹوں سے ’شہد ٹپکنے‘ اور ’شہدوشیر اُس کی زبان تلے‘ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ (غز ۴:۱۱) [م۰۶ ۱/۱۲ ص. ۱۶، پ. ۷]
۷. بائبل میں یسوع مسیح کو ”عجیب مشیر،“ ”خدایِقادر“ اور ”ابدیت کا باپ“ کہا گیا ہے۔ اِس سے ہم یسوع مسیح کی خوبیوں اور زمین پر اُن کی حکمرانی کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ (یسع ۹:۶) [ڈبلیو۹۱ ۱۵/۴ ص. ۵، پ. ۷]
۸. آجکل کسے ”ریاکار قوم“ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے؟ اور خدا کی ”لٹھ“ کے طور پر اِسے کون تباہ کرے گا؟ (یسع ۱۰:۵، ۶) [م۰۴ ۱۵/۱۱ ص. ۱۹، پ. ۲۰؛ م۹۵ ۱/۲ ص. ۱۳، پ. ۵]
۹. یسعیاہ نبی نے پیشینگوئی کی تھی کہ بابل ”ابد تک آباد نہ ہوگا۔“ یہ پیشینگوئی اِتنی حیرانکُن کیوں تھی؟ اور اِس پیشینگوئی کی تکمیل سے کس بات پر ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے؟ (یسع ۱۳:۱۹، ۲۰) [م۹۸ ۱/۴ ص. ۳۰، پ. ۱۸-۲۱]
۱۰. یسوع مسیح کو ”داؤد کے گھر کی کُنجی“ کب دی گئی؟ اور یسوع مسیح اِس کُنجی کو کیسے استعمال کر رہے ہیں؟ (یسع ۲۲:۲۲) [م۰۹ ۱/۱ ص. ۳۱، پ. ۲]