مسیحی خدمتی سکول کا اِعادہ
دسمبر ۲۷، ۲۰۱۰ء سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران مسیحی خدمتی سکول کے اِعادے میں مندرجہذیل سوالات پر غور کِیا جائے گا۔ سکول اوورسیئر ۲۰ منٹ کے لئے یکم نومبر تا دسمبر ۲۷، ۲۰۱۰ء کے ہفتوں میں پیش کئے جانے والے مواد کا اِعادہ کرے گا۔
۱. پہلا تواریخ ۱۶:۳۴ کے مطابق یہوواہ کی حمد کے گیت گانے والے لاویوں سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ [م۰۲ ۱۵/۱ ص. ۱۱، ۱۲ پ. ۶، ۷]
۲. کیا ۱-تواریخ ۲۲:۸ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داؤد کے بہت زیادہ جنگیں لڑنے کی وجہ سے یہوواہ نے اُسے ہیکل تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی؟ وضاحت کریں۔ (احبار ۱۸:۲۵؛ گنتی ۳۳:۵۲ پر غور کریں۔)
۳. بادشاہ داؤد اپنے بیٹے سلیمان سے کیا چاہتا تھا؟ (۱-توا ۲۸:۹) [م۰۸/۱۰ ص. ۱۲ پ. ۱۸]
۴. بڑا حوض تعمیر کرتے وقت اِس کے نیچے بیلوں کی صورت بنانا کیوں موزوں تھا؟ (۲-توا ۴:۲-۴) [م۰۵ ۱/۱۲ ص. ۱۹ پ. ۳؛ م۹۸/۷ ص. ۱۲ پ. ۱۷]
۵. کیا عہد کے صندوق میں پتھر کی دو لوحوں کے علاوہ کچھ اَور بھی تھا؟ (۲-توا ۵:۱۰) [م۰۶ ۱۵/۱ ص. ۳۱]
۶. یروشلیم میں ہیکل کی مخصوصیت کے وقت سلیمان نے جو دُعا کی، اُس سے ہم کیا تسلی حاصل کرتے ہیں؟ (۲-توا ۶:۲۹-۳۱) [م۰۸ ۱/۳ ص. ۱۲ پ. ۵، ۶]
۷. دوسرا تواریخ ۱۳:۵ میں ”نمک کے عہد“ سے کیا مُراد ہے؟ [م۰۵ ۱/۱۲ ص. ۲۰ پ. ۲]
۸. دوسرا تواریخ ۱۷:۹، ۱۰ کا اطلاق ہمارے مُنادی کرنے پر کیسے ہو سکتا ہے؟ [م۰۹/۶ ص. ۱۶ پ. ۷]
۹. خدا کے لوگوں کو دوسرا تواریخ ۲۰:۱۷ کے مطابق کیسا ردِعمل دکھانا ہوگا؟ [م۰۳ ۱/۶ ص. ۲۱، ۲۲ پ. ۱۴-۱۷]
۱۰. بادشاہ عزیاہ کے تکبر سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ (۲-توا ۲۶:۱۵-۲۱) [م۹۹ ۱/۱۲ ص. ۲۶ پ. ۱، ۲]