خدا کے پُرجوش خادموں کے لئے دُعا اور سوچبچار کی اہمیت
۱. یسوع مسیح نے لوگوں کو خوشخبری سنانے کے کام کو کیسے زیادہ اہمیت دی؟
۱ یسوع مسیح نے ساری شام لوگوں کو شفا دینے اور بدروحوں کو نکالنے میں گزار دی۔ اگلے دن جب یسوع مسیح کے شاگرد اُس سے ملے تو اُنہوں نے کہا کہ ”سب لوگ تجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔“ دراصل اُس کے شاگرد چاہتے تھے کہ یسوع مسیح ایسے معجزے کرتا رہے۔ تاہم یسوع مسیح نے لوگوں کو خوشخبری سنانے کے کام کو زیادہ اہمیت دی۔ اِسی لئے اُس نے اپنے شاگردوں سے بھی کہا: ”آؤ ہم اَور کہیں آس پاس کے شہروں میں چلیں تاکہ مَیں وہاں بھی مُنادی کروں کیونکہ مَیں اِسی لئے نکلا ہوں۔“ یسوع مسیح کیسے مُنادی کے کام کو زیادہ اہمیت دینے کے قابل ہوا؟ وہ صبح سویرے اُٹھ کر دُعا اور سوچبچار کِیا کرتا تھا۔ (مر ۱:۳۲-۳۹) دُعا اور سوچبچار کرنا کیسے پُرجوش مُناد بننے میں ہماری بھی مدد کر سکتا ہے؟
۲. کن باتوں پر غور کرنا ہمیں پورے جوش کے ساتھ مُنادی کرتے رہنے میں مدد دے گا؟
۲ کن باتوں پر سوچبچار کریں؟ یسوع مسیح نے دیکھا کہ لوگ ”اُن بھیڑوں کی مانند جن کا چرواہا نہ ہو خستہحال اور پراگندہ تھے۔“ (متی ۹:۳۶) اِسی طرح ہم بھی اِس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ لوگوں کو خوشخبری کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں وقت کی اہمیت کو بھی سمجھنا چاہئے۔ (۱-کر ۷:۲۹) ہم یہوواہ کے شاندار کاموں اور خوبیوں پر غور کر سکتے ہیں۔ ہم اِس شرف کو بھی یاد رکھ سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ کے گواہ ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم اُن بیشقیمت باتوں پر بھی غور کر سکتے ہیں جو ہم نے خدا کے کلام سے سیکھی ہیں اور جن سے ہمارے علاقے کے لوگ ابھی تک ناواقف ہیں۔—زبور ۷۷:۱۱-۱۳؛ یسع ۴۳:۱۰-۱۲؛ متی ۱۳:۵۲۔
۳. ہم کب سوچبچار کر سکتے ہیں؟
۳ کب سوچبچار کریں؟ بعض لوگ یسوع مسیح کی طرح صبح سویرے اُٹھتے ہیں جب ماحول پُرسکون ہوتا ہے۔ دیگر رات کو سونے سے پہلے سوچبچار کرنا پسند کرتے ہیں۔ (پید ۲۴:۶۳) مصروف شیڈول کے باوجود ہم دُعا اور سوچبچار کرنے کے لئے وقت نکال سکتے ہیں۔ بعض لوگ سفر کے دوران بھی ایسا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ کھانے کے وقفے کو خدا کے کلام پر غور کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ زیادہتر لوگوں کا خیال ہے کہ مُنادی شروع کرنے سے پہلے چند لمحوں کے لئے دُعا اور سوچبچار کرنا اُنہیں دلیری اور جوش کے ساتھ مُنادی کرنے میں مدد دیتا ہے۔
۴. ہمارے لئے دُعا اور سوچبچار کرنا کیوں ضروری ہے؟
۴ دُعا اور سوچبچار کرنا یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کی ہماری خواہش کو بڑھاتا ہے۔ یہ ہمیں خدا کی عبادت کو اپنی زندگیوں میں پہلا درجہ دینے کے قابل بناتا ہے۔ نیز دُعا اور سوچبچار کرنا مُنادی کرنے کے ہمارے عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ جس طرح دُعا اور سوچبچار کرنے سے خدا کے سب سے بڑے خادم یسوع مسیح کی مدد ہوئی اُسی طرح ہماری بھی مدد ہوگی۔