کیا مَیں مُنادی کے کام میں بھرپور حصہ لیتا ہوں؟
۱. ایک مسیحی کو کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے؟
۱ کیا آپ نے کبھی خود سے یہ سوال پوچھا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ اب آپ مُنادی میں اتنا حصہ نہیں لیتے جتنا کہ آپ پہلے لیا کرتے تھے۔ شاید آپ خاندانی ذمہداریوں، بڑھتی عمر یا پھر صحت کے مسائل کی وجہ سے بےحوصلہ ہو گئے ہیں۔ ایک بہن نے جس کے تین بچے ہیں یوں لکھا کہ کبھی کبھار مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ میرا زیادہتر وقت اور توانائی خاندان کی ضروریات پورا کرنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ اِس وجہ سے میرے پاس مُنادی کے کام میں حصہ لینے کے لئے بہت کم وقت بچتا ہے۔ تاہم، کیا چیز ہمیں متوازن نظریہ قائم کرنے میں مدد دے گی؟
۲. یہوواہ خدا ہم سے کیا توقع کرتا ہے؟
۲ یہوواہ ہم سے کیا توقع کرتا ہے؟ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب مُنادی میں بھرپور حصہ لینا چاہتے ہیں۔ تاہم، مُنادی کرنے کی خواہش رکھنے اور اپنے حالات کے مطابق اِس کام کو کرنے میں بہت فرق ہے۔ ہمارا زیادہ سے زیادہ مُنادی کرنے کی خواہش رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم جتنا کام کر رہے ہیں شاید اُس سے مطمئن نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہوواہ خدا ہماری کمزوریوں سے واقف ہے۔ وہ کبھی بھی ہم سے حد سے زیادہ کی توقع نہیں کرتا۔ (زبور ۱۰۳:۱۳، ۱۴) تو پھر خدا ہم سے کس بات کی توقع کرتا ہے؟ یہوواہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہم پورے دلوجان سے اُس کی خدمت کریں۔—کل ۳:۲۳۔
۳. ہم مُنادی کے سلسلے میں اپنی کوششوں کا جائزہ لینے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
۳ کیا چیز دیانتداری کے ساتھ اپنا جائزہ لینے میں ہماری مدد کرے گی؟ اِس سلسلے میں ہم یہوواہ خدا سے مدد کے لئے درخواست کر سکتے ہیں تاکہ ہم اپنے حالات کو درست نظر سے دیکھ سکیں۔ (زبور ۲۶:۲) اِس کے علاوہ، ایک پُختہ مسیحی دوست بھی جو ہمیں ہر اچھی بُری بات بتانے سے نہیں ہچکچاتا بہتری لانے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ (امثا ۲۷:۹) یہ بھی یاد رکھیں کہ ہمارے حالات بدلتے رہتے ہیں اِس لئے اچھا ہوگا کہ ہم باقاعدگی سے اپنی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں۔—افس ۵:۱۰۔
۴. ہمیں مُنادی کے لئے دی جانے والی بائبل پر مبنی یاددہانیوں کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟
۴ مُنادی کے لئے دی جانے والی یاددہانیاں: جب کوئی کھلاڑی دوڑ میں حصہ لیتا ہے تو اُس کے چاہنے والے اکثر بڑے زوروشور سے اُس کی حوصلہافزائی کرتے ہیں۔ اُن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کھلاڑی دوڑ میں جیتے۔ اِسی طرح اجلاسوں اور بائبل پر مبنی کتابوں یا رسالوں کے ذریعے دی جانے والی حوصلہافزائی اور یاددہانیاں ہمیں یہ احساس نہیں دلاتیں کہ ہم مُنادی میں زیادہ حصہ نہیں لے رہے۔ اِس کے برعکس یہ ہمیں ’مستعدی سے مُنادی‘ کرنے کے لئے تیار کرتی ہیں۔ (۲-تیم ۴:۲) ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ جب تک ہم مُنادی میں بھرپور حصہ لیتے رہیں گے یہوواہ خدا بھی ہمارے ”کام اور اُس محبت کو“ یاد رکھے گا جو ہم اُس کی خدمت کے لئے ظاہر کرتے ہیں۔—عبر ۶:۱۰۔