یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 12/‏08 ص.‏ 4-‏5
  • دوسرا یوحنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوسرا یوحنا
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۸۲۰۰
  • ذیلی عنوان
  • کیوں فائدہ‌مند
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۸۲۰۰
خدم 12/‏08 ص.‏ 4-‏5

دوسرا یوحنا

‏(‏ایس‌آئی ص.‏ ۲۵۹ پ.‏ ۱-‏۳، ۵)‏

دوسرے یوحنا کی تمہید

۱.‏ یوحنا کا دوسرا خط غالباً کسےِ لکھا گیا تھا؟‏

۱ یوحنا کا دوسرا خط اتنا مختصر ہے کہ یہ پیپر س کے ایک صفحے پر سما سکتا تھا۔ تاہم، یہ خط نہایت پُرمعنی ہے۔ یہ ”‏برگزیدہ بی‌بی اور اُس کے فرزندوں“‏ کے نام لکھا گیا ہے۔ اُس زمانہ میں ”‏کائریا“‏ (‏”‏بی‌بی“‏ کے لئے یونانی اصطلا‌ح)‏ ایک نام تھا لہٰذا بعض بائبل علماء محسوس کرتے ہیں کہ اِس خط میں اِس نام کے حامل کسی شخص کو مخاطب کِیا گیا ہے۔ اِس کے برعکس، بعض یہ سمجھتے ہیں کہ یوحنا یہ خط ایک مسیحی کلیسیا کو لکھ رہا تھا اور اِسی کا حوالہ وہ ”‏برگزیدہ بی‌بی“‏ کے طور پر دیتا ہے۔ شاید اُس نے اذیت پہنچانے والوں کو اُلجھن میں ڈالنے کے لئے ایسا کِیا ہو۔ اِس صورت میں آخری آیت میں متذکرہ ”‏تیری .‏ .‏ .‏ بہن کے لڑکے“‏ کسی دوسری کلیسیا کے ارکان ہوں گے۔ پس یوحنا کا دوسرا خط پہلے خط کی طرح عمومی نہیں تھا اِسلئے‌کہ بظاہر یہ کسی خاص کلیسیا یا شخص کے نام لکھا گیا تھا۔—‏۱آیت۔‏

۲.‏ (‏ا)‏ کونسی شہادت ظاہر کرتی ہے کہ یوحنا کا دوسرا خط یوحنا رسول نے لکھا تھا؟ (‏ب)‏ کونسی بات اِس خط کے تقریباً ۹۸ عیسوی میں افسس یا اِس کے گردونواح میں لکھے جانے کا اشارہ دیتی ہے، اور اِس کے مستند ہونے کا کیا ثبوت ہے؟‏

۲ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ اِس خط کو یوحنا نے تحریر کِیا۔ اِس خط کا مصنف اپنا حوالہ ”‏بزرگ“‏ کے طور پر دیتا ہے۔ یہ بات یوحنا پر پوری اُترتی ہے نہ صرف اِسلئے‌کہ وہ عمررسیدہ تھا بلکہ اِس لئے بھی کہ وہ ”‏کلیسیا کے رُکن“‏ (‏گل ۲:‏۹‏)‏ اور رسولوں میں سے آخری زندہ رسول کے طور پر واقعی مسیحی کلیسیا میں ”‏بزرگ“‏ تھا یوحنا کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا کیونکہ اُس کے قارئین اُس سے واقف تھے۔ اِس خط کا طرزِبیان یوحنا کی انجیل اور اُس کے پہلے خط جیسا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اِس کا مصنف ہے۔ پہلے خط کی طرح دوسرا خط بھی تقریباً ۹۸ عیسوی میں افسس یا اِس کے گردونواح میں لکھا گیا تھا۔ یوحنا کے دوسرے اور تیسرے خط کی بابت میکلن‌ٹاک اور سٹرانگ کا سائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے:‏ ”‏اِن کے درمیان پائی جانے والی مشابہت سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یہ دونوں خطوط افسس سے پہلے خط کی تحریر کے کچھ ہی دیر بعد لکھے گئے تھے۔ یہ دونوں چال‌چلن کے مخصوص حلقوں کو زیرِبحث لاتے ہیں جن کی بابت پہلے خط میں واضح اُصول بیان کئے گئے ہیں۔“‏a اِس خط کے مستند ہونے کا ثبوت اِس بات سے بھی ملتا ہے کہ دوسری صدی کے ایرینیس نے اِس خط کا حوالہ دیا اور اُسی زمانہ سے تعلق رکھنے والے اسکندریہ کے کلیمنٹ نے بھی اِسے قبول کِیا۔‏b اِسکے‌علاوہ، یوحنا کے خطوط میوریٹوریئن فریگ‌منٹ کی فہرست میں بھی درج ہیں۔‏

۳.‏ یوحنا نے یہ خط کیوں لکھا تھا؟‏

۳ یوحنا کے پہلے خط کی طرح یہ خط بھی مسیحی ایمان پر جھوٹے استادوں کے حملوں کی وجہ سے لکھا گیا تھا۔ یوحنا اپنے قارئین کو ایسے لوگوں سے خبردار کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ سچائی اور باہمی‌محبت کی راہ پر چلتے ہوئے اِن جھوٹے اُستادوں کو پہچان کر اِن سے کنارہ کر سکیں۔‏

کیوں فائدہ‌مند

۵.‏ (‏ا)‏ زمانۂ‌جدید کی طرح یوحنا کے زمانہ میں کونسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی؟ (‏ب)‏ یوحنا کی طرح آجکل ہم بھی کلیسیائی اتحاد کے لئے قدردانی کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

۵ یوں لگتا ہے کہ زمانۂ‌جدید کی طرح یوحنا کے زمانہ میں بھی مسیح کی سادہ اور قابلِ‌سمجھ تعلیمات بعض لوگوں کے لئے کافی نہیں تھیں۔ وہ کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھے جو اُن کی اَنا کو تسکین پہنچاتی اور اُنہیں عزت بخشتی نیز، اُنہیں مشہور دُنیاوی فیلسوفیوں میں شمار کراتی اور اپنے اِن خودغرضانہ مفادات کے لئے وہ مسیحی کلیسیا کو منقسم اور آلودہ کرنے کے لئے تیار تھے۔ یوحنا کلیسیا کے امن‌واتحاد کی قدر کرتا تھا جس کی بنیاد محبت اور باپ اور بیٹے کی بابت صحیح تعلیم پر رکھی گئی ہے۔ آجکل ہمیں بھی اِسی طرح کلیسیا کے اتحاد کی قدر کرتے ہوئے الہامی صحائف کی تعلیم سے برگشتہ اشخاص کے ساتھ رفاقت رکھنے یا اُنہیں سلام کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ خدا کے احکام کی مطابقت میں چلتے اور سچی مسیحی رفاقت سے حاصل ہونے والی بھرپور خوشی میں قائم رہتے ہوئے ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ ”‏خدا باپ اور باپ کے بیٹے یسوؔع مسیح کی طرف سے فضل اور رحم اور اطمینان۔ سچائی اور محبت سمیت۔ ہمارے شامل‌حال رہیں گے۔“‏ (‏۲-‏یوح ۳آیت‏)‏ واقعی، یوحنا کا دوسرا خط مسیحی اتحاد کی برکت پر زور دیتا ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ۱۹۸۱، دوبارہ شائع‌شُدہ اشاعت، جِلد IV‏، صفحہ ۹۵۵۔‏

b نیو بائبل ڈکشنری،‏ دوسرا ایڈیشن، ۱۹۸۶، جے.‏ڈی.‏ڈگلس کی اشاعت، صفحہ ۶۰۵۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں