مسیحی خدمتی سکول کا اعادہ
مندرجہذیل سوالات ہفتہ شروع از دسمبر ۳۱، ۲۰۰۷ کے دوران مسیحی خدمتی سکول میں زبانی اعادہ کے تحت زیرِغور آئیں گے۔ سکول اوورسیئر نومبر ۵ تا دسمبر ۳۱، ۲۰۰۷ کی تفویضات میں پیش کئے جانے والے مواد پر مبنی ۳۰ منٹ کا اعادہ کرے گا۔ [نوٹ: جن سوالوں کے ساتھ کوئی حوالہ نہیں دیا گیا اُن کے جواب تلاش کرنے کے لئے آپ کو خود تحقیق کرنی ہوگی۔]
تقریری لیاقت
۱. اپنے مواد کو میدانی خدمتگزاری کے مطابق ڈھالنے کیلئے ہمیں کن نکات کو ذہن میں رکھنا چاہئے؟ [نومبر ۵، ایچٹی ص. ۷۶ پ. ۱، ۲]
۲. ہم اِس بات کا یقین کیسے کر سکتے ہیں کہ ہمارے مواد کی عملی اہمیت مؤثر طریقے سے نمایاں کی گئی ہے؟ [نومبر ۲۶، ایچٹی ص. ۷۹ پ. ۱۲]
۳. تقریر کے مناسب اختتام کو کیا مقصد انجام دینا چاہئے؟ [دسمبر ۳، ایچٹی ص. ۷۹ پ. ۱ ص. ۸۰ پ. ۴]
۴. تقریر کی تیاری کے دوران وقت کی پابندی کیوں اہم ہے؟ [دسمبر ۱۷، ایچٹی ص. ۸۲ پ. ۱۷]
۵. مواد پیش کرتے وقت اطمینان کا اظہار کیسے کِیا جا سکتا ہے؟ [دسمبر ۳۱، ایچٹی ص. ۸۵ پ. ۱، ۳]
تفویض نمبر ۱
۶. کیا چیز یوناہ کے بیان کو مستند ثابت کرتی ہے؟ [نومبر ۱۹، ایسآئی ص. ۱۵۳ پ. ۳]
۷. میکاہ کی کونسی پیشینگوئی یہ بیان کرتی ہے کہ خدا نے یسوع مسیح کو بادشاہتی اختیار بخشا ہے؟ [نومبر ۲۶، ایسآئی ص. ۱۵۸ پ. ۱۸]
۸. کونسی بات حبقوق کی کتاب کے الہامی ہونے کو ثابت کرتی ہے؟ [دسمبر ۳، ایسآئی ص. ۱۶۱ پ. ۴]
۹. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ یہودیوں کا اسیری سے لوٹنے کا مقصد ۵۲۰ قبلازمسیح تک تکمیل کو نہیں پہنچا تھا؟ (حج ۱:۴) [دسمبر ۱۰، ایسآئی ص. ۱۶۶ پ. ۳]
۱۰. زکریاہ باربار کس جلالی دن کا ذکر کرتا ہے؟ [دسمبر ۲۴، ایسآئی ص. ۱۷۲ پ. ۲۶]
ہفتہوار بائبل پڑھائی
۱۱. ٹڈیوں کے حملے کی بابت یوایل کی پیشینگوئی پہلی صدی میں کیسے پوری ہوئی، اور ہمارے زمانے میں اِسکی تکمیل کیسے ہو رہی ہے؟ (یوایل ۲:۱-۱۰، ۲۸) [نومبر ۵، م۰۷ ۱/۱۰ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—یوایل اور عاموس کی کتاب سے اہم نکات“]
۱۲. ”تابستانی میووں کی ٹوکری“ کس چیز کی علامت تھی؟ (عامو ۸:۱، ۲) [نومبر ۱۲، م۰۷ ۱/۱۰ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—یوایل اور عاموس کی کتاب سے اہم نکات“]
۱۳. کس مفہوم میں یہوواہ خدا نینوہ کے لوگوں پر عذاب نازل کرنے سے باز رہا، اور اِسکا ہم پر کیا اثر ہونا چاہئے؟ (یوناہ ۳:۱۰) [نومبر ۱۹، م۰۳ ۱۵/۷ ص. ۱۷، ۱۸]
۱۴. یہوواہ کے نام سے چلنے کا کیا مطلب ہے؟ (میک ۴:۵) [نومبر ۲۶، م۰۳ ۱۵/۸ ص. ۱۷ پ. ۱۹]
۱۵. بعض نے شادی سے متعلق معاملات میں کیسے یہوواہ خدا کو ”بیزار“ کِیا ہے؟ (ملا ۲:۱۷) [دسمبر ۳۱، م۰۲ ۱/۵ ص. ۱۸ پ. ۱۸]