سوالی بکس
▪ انٹرنیٹ پر کسی اجنبی سے دوستی کرنے کے کیا خطرات ہیں؟
انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لئے بہت سی ویبسائٹس تیار کی گئی ہیں۔ ان ویبسائٹس کے ذریعے لوگ اپنے بارے میں ذاتی معلومات اور اپنی تصویریں ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ لوگ ان معلومات کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایسی ویبسائٹس نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ یہاں تک کہ کلیسیا میں بعض نوجوانوں نے بھی ان ویبسائٹس کو یہوواہ کے گواہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں سے رابطے کے لئے استعمال کِیا ہے۔
انٹرنیٹ پر دوستی کرنے والے کسی دوسرے شخص کی شناخت، روحانیت اور ارادوں کے بارے میں آسانی سے دھوکا کھایا جا سکتا ہے۔ (زبور ۲۶:۴) یہوواہ کا گواہ ہونے کا دعویٰ کرنے والا شخص حقیقت میں یہوواہ کا گواہ نہ ہو۔وہ خارجشُدہ یا سرگرمی سے مسیحیوں کو برگشتہ کرنے والا ہو سکتا ہے۔ (گل ۲:۴) ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کرنے والے بہتیرے اشخاص ایسی ویبسائٹس کو اپنے بُرے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اگر ہمیں اس بات کا یقین بھی ہو کہ ہم جس شخص سے رابطہ کر رہے ہیں وہ کلیسیا میں اچھی حیثیت رکھتا ہے توبھی ایسے ماحول میں اس شخص سے رابطہ رکھنا ہمیں آسانی کے ساتھ قابلِاعتراض مواد کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ کسی شخص سے ذاتی طور پر نہیں ملتے وہ اُن کے ساتھ بڑی آسانی سے بےتکلف ہو جاتے ہیں۔ وہ شاید انٹرنیٹ پر رابطہ کرنے کو ذاتی معاملہ سمجھ سکتے اور یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ اس کے بارے میں اُن کے والدین اور بزرگوں کو کبھی علم نہیں ہوگا۔ افسوس کی بات ہے کہ مسیحی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بہتیرے نوجوان اس پھندے میں پھنس کر بیہودہگوئی میں پڑ گئے ہیں۔ (فل ۵:۳، ۴؛ کل ۳:۸) دیگر نوجوانوں نے اپنے کمپیوٹر میں شہوتانگیز تصویریں اور اخلاقسوز موسیقی والی ویڈیوز ڈال رکھی ہیں۔
مذکورہبالا باتچیت کے پیشِنظر والدین کو اس بات پر نظر رکھنی چاہئے کہ اُن کے بچے کمپیوٹر پر کیا کر رہے ہیں۔ (امثا ۲۹:۱۵) جس طرح کسی اجنبی کو اپنے گھر میں آنے کی دعوت دینا یا اپنے بچوں کے ساتھ اکیلے رہنے کی اجازت دینا خطرناک ہو سکتا ہے اُسی طرح انٹرنیٹ پر کسی اجنبی یا یہوواہ کا گواہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے شخص سے دوستی کرنا ہمارے اور ہمارے بچوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔—امثا ۲۲:۳۔