کیا آپ قدرتی آفات کے لئے تیار ہیں؟
۱. قدرتی آفات کے لئے پہلے سے تیار رہنا کیوں دانشمندی کی بات ہے؟
۱ پوری دُنیا میں ہر سال زلزلوں، سونامی، طوفانی بارشوں، سمندری طوفانوں، زوردار آندھیوں اور سیلابوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارے بہنبھائی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ قدرتی آفات اچانک سے آ سکتی اور ہم میں سے کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لئے اِن کے لئے پہلے سے تیار رہنا دانشمندی کی بات ہے۔—امثا ۲۱:۵۔
۲. ہمیں بزرگوں کو اپنے موجودہ پتے اور ٹیلیفون نمبروں کے بارے میں کیوں آگاہ کرنا چاہئے؟
۲ پہلے سے بندوبست کریں: بعضاوقات حکومتیں آفات کے بارے میں پیشگی آگاہی دینے کے قابل ہوتی ہیں۔ اِن آگاہیوں پر دھیان دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ (امثا ۲۲:۳) ایسی صورتحال میں بزرگ کلیسیا کے تمام بہنبھائیوں سے رابطہ کرنے کی پوری کوشش کریں گے تاکہ ضروری انتظامات کرنے کے لئے اُن کی مدد کی جا سکے۔ کسی آفت کے بعد بھی بزرگ کلیسیا سے رفاقت رکھنے والے لوگوں کی خیریت پوچھنے اور یہ معلوم کرنے کے لئے اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا اُنہیں کسی طرح کی مدد کی ضرورت تو نہیں ہے۔ بزرگوں کے پاس بہنبھائیوں سے رابطہ کرنے کے لئے اُن کے موجودہ پتے نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے۔ اِس لئے مبشروں کو اپنے موجودہ پتے اور ٹیلیفون نمبروں کے بارے میں کلیسیا کے سیکرٹری اور کتابی مطالعے کے نگہبان کو آگاہ کرنا چاہئے۔
۳. اگر ہمارے علاقے میں اکثر قدرتی آفات آتی رہتی ہیں تو ہم بزرگوں کے ساتھ تعاون کیسے کر سکتے ہیں؟
۳ اگر کوئی کلیسیا ایسے علاقے میں ہے جہاں اکثر قدرتی آفات آتی رہتی ہیں تو بزرگ مبشروں سے اُن کے ایسے رشتہداروں یا دوستوں کے نام اور ٹیلیفون نمبر معلوم کر سکتے ہیں جو محفوظ مقامات پر رہتے ہیں اور جن سے ہنگامی صورتحال میں رابطہ کِیا جانا چاہئے۔ یوں بزرگ اُن بہن بھائیوں سے رابطہ کرنے کے قابل ہوں گے جو اُس علاقے سے جا چکے ہیں۔ بزرگ ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لئے پہلے سے بندوبست کر سکتے ہیں۔ اِس میں ضروری چیزوں کی فہرست بنانا اور انہیں تیار رکھنا، علاقہ خالی کرانے کا انتظام کرنا اور معذور بہنبھائیوں کی مدد کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس پُرمحبت بندوبست کے لئے تعاون بہت ضروری ہے۔—عبر ۱۳:۱۷۔
۴. اگر ہمارے علاقہ میں کوئی قدرتی آفت آ جاتی ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۴ کسی آفت کے بعد: اگر آپ کے علاقہ میں کوئی آفت آ جاتی ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اِس بات کا یقین کر لیں کہ آپ کے خاندان کی جسمانی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ اگر آپ متاثرین کی مدد کرنے کے قابل ہیں تو ضرور ایسا کریں۔ جتنی جلدی ممکن ہو اپنے کتابی مطالعے کے نگہبان یا کسی دوسرے بزرگ سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ خیریت سے ہیں اور آپ کو کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے توبھی بزرگوں سے ضرور رابطہ کریں۔ اگر آپ کو مدد کی ضرورت ہے تو اس بات کا یقین رکھیں کہ آپ کے بھائی آپ کی مدد کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ (۱-کر ۱۳:۴، ۷) یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا آپ کی صورتحال سے واقف ہے۔ اُس پر بھروسا رکھیں کہ وہ آپ کو ہر حال میں سنبھالے گا۔ (زبور ۳۷:۳۹؛ ۶۲:۸) دوسروں کو روحانی اور جذباتی مدد فراہم کرنے کے لئے چوکس رہیں۔ (۲-کر ۱:۳، ۴) جتنی جلدی ممکن ہو اپنی مسیحی کارگزاریوں کو دوبارہ سے شروع کریں۔—متی ۶:۳۳۔
۵. ہم مسیحیوں کے طور پر آفات کے خطرے سے کیسے متاثر ہوتے ہیں؟
۵ اگرچہ آفات کا خطرہ پوری دُنیا کے لئے پریشانی کا باعث ہے توبھی ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ جلد ہی ایسی آفات ختم ہو جائیں گی۔ (مکا ۲۱:۴) اس دوران ہم پورے جوشوجذبے سے دوسروں کو خوشخبری سناتے ہوئے خود کو مصیبتوں اور مشکلات کے لئے تیار رکھنے کے لئے مختلف اقدام اُٹھا سکتے ہیں۔