اختیار کا استعمال کرتے وقت مسیح کی نقل کریں
۱ اختیار کا صحیح استعمال اچھے کاموں کو انجام دینے والی قوت ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہمیں دُرست راہنمائی فراہم کرنے کے علاوہ جسمانی، جذباتی اور روحانی فائدہ بھی پہنچا سکتا ہے۔ (امثا ۱:۵؛ یسع ۴۸:۱۷، ۱۸) لیکن اختیار کے مناسب استعمال میں ناکامی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ بائبل اِس خطرے کی یوں نشاندہی کرتی ہے: ”جب شریر اقتدار پاتے ہیں تو لوگ آہیں بھرتے ہیں۔“—امثا ۲۹:۲؛ واعظ ۸:۹۔
۲ ایک بااختیار شخص نیک نیت ہونے کے باوجود اختیار کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ پس دوسروں کو اپنے قولوفعل سے چوٹ پہنچانے کی بجائے آپ کیسے اپنے اختیار کو اُن کے فائدے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں؟—امثا ۱۲:۱۸۔
۳ یسوع مسیح کو ”کُل اختیار“ دیا گیا ہے۔ یسوع مسیح کے نمونے پر غور کریں۔ آسمان پر جانے سے کچھ دیر پہلے اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”آسمان اور زمین کا کُل اختیار مجھے دیا گیا ہے۔“ (متی ۲۸:۱۸) کیا اِس بات نے شاگردوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا تھا؟ کیا وہ یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ یسوع بھی رومی قیصروں کی طرح اپنا اختیار جتائے گا؟ کیونکہ اُس زمانہ میں رومی قیصر ہر طرح کی بغاوت اور نافرمانی کو شدید ظلم کے ذریعے کچل دینے کے لئے مشہور تھے۔
۴ بائبل ریکارڈ کے مطابق یسوع مسیح ہرگز ایسا نہیں تھا! وہ اختیار کو اپنے باپ کی طرح استعمال کرتا ہے۔ یہوواہ خدا کائنات کا خالق اور مالک ہونے کے باوجود، اپنے خادموں سے کٹھپُتلیوں یا غلاموں کی طرح خوف کے ساتھ خدمت نہیں کراتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کے خادم دل سے اُس کی فرمانبرداری کریں۔ (متی ۲۲:۳۷) یہوواہ کبھی بھی اپنے اختیار کا غلط استعمال نہیں کرتا۔
۵ اپنے باپ کی نقل کرتے ہوئے یسوع مسیح بھی اپنے اختیار کو ہمیشہ محبت، حکمت اور انصاف سے استعمال کرتا ہے۔ یسوع کے شاگرد اُس کی خدمت کرنے سے تازگی محسوس کرتے تھے۔ (متی ۱۱:۲۸-۳۰) یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی نقل کرنے والا ہر شخص طاقت کی بجائے محبت سے اپنے اختیار کو استعمال کرتا ہے!—ا-کر ۱۳:۱۳؛ ۱-یوح ۴:۸۔
۶ آپ اختیار کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟ آپ کس حد تک اِس پر عمل کرتے ہیں؟ مثال کے طور پر، کیا آپ خاندان میں اپنا اختیار جتاتے ہوئے صرف اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا خاندان کے افراد خوف کی وجہ سے یا پھر محبت کی بِنا پر آپ کے فیصلوں کو مانتے ہیں؟ کیا فیصلے کرنے کے سلسلے میں طاقت اہم عنصر ہے؟ خدائی طریقۂکار سے خاندانی انتظام چلانے کے لئے خاندان کے سربراہ اُوپر دئے گئے سوالوں پر غور کر سکتے ہیں۔—۱-کر ۱۱:۳۔
۷ اُس صورت میں کیا ہو جب آپ کو مسیحی کلیسیا میں کسی حد تک اختیار حاصل ہوتا ہے؟ یہ جاننے کے لئے کہ آیا آپ اپنے اختیار کو صحیح طریقے سے استعمال کر رہے ہیں یا نہیں خود کو نیچے دئے گئے اُن خدائی اصولوں کے مطابق جانچیں جو خدا نے فراہم کئے ہیں اور جن کا نمونہ یسوع نے دیا۔
۸ ”خداوند کا بندہ . . . سب کے ساتھ نرمی کرے . . . بُردبار ہو۔ مخالفوں کو حلیمی سے تادیب کرے۔“ (۲-تیم ۲:۲۴، ۲۵) بعض ابتدائی مسیحی کلیسیا میں بہت اختیار رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر، تیمتھیس نے ’بعض شخصوں کو اَور طرح کی تعلیم نہ دینے کا حکم دیا۔‘ (۱-تیم ۱:۳) لیکن ہم اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ تیمتھیس نے اپنے ہر کام سے خدائی خوبیوں کو ظاہر کِیا۔ تعلیم دینے کے سلسلے میں وہ پولس کی ہدایت کے مطابق ’حلیمی اور بُردباری‘ کو عمل میں لایا تھا۔ بطور نوجوان اُسے عمررسیدہ لوگوں کی فرمانبردار بیٹے کی طرح عزت کرنی تھی اور چھوٹوں کو بھائی جان کر اُن کے ساتھ شفقت سے پیش آنا تھا۔ (۱-تیم ۵:۱، ۲) ایسی پُرمحبت نگرانی کے تحت مسیحی کلیسیا ایک سختگیر ماحول والے کاروباری ادارے کی بجائے پُرامن خاندان کی مانند نظر آتی ہے۔—۱-کر ۴:۱۴؛ ۱-تھس ۲:۷، ۸۔
۹ ”خدا کے اُس گلّہ کی گلّہبانی کرو جو تم میں ہے۔ . . . جو لوگ تمہارے سپرد ہیں اُن پر حکومت نہ جتاؤ بلکہ گلّہ کے لئے نمونہ بنو۔“ (۱-پطر ۵:۲، ۳) آجکل بھی نگہبان اِس بات کو سمجھتے ہیں کہ وہ کلیسیا کی روحانی فلاحوبہبود کے لئے خدا کے حضور جوابدہ ہیں۔ اِس لئے وہ اِس ذمہداری کو سنجیدہ خیال کرتے ہیں۔ وہ رضامندی، شوق اور پُرمحبت طریقے سے خدا کے گلّہ کی دیکھبھال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولس رسول کی طرح، وہ بھی اپنے سپرد لوگوں پر حکومت نہیں جتاتے بلکہ اُن کے ایمان کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں۔ (۲-کر ۱:۲۴) کلیسیائی نگہبان ضرورت پڑنے پر نرمی کے ساتھ مناسب مشورت بھی دیتے ہیں۔—گل ۶:۱؛ عبر ۶:۱، ۹-۱۲۔
۱۰ ”ایک دوسرے کی برداشت [کریں] ایک دوسرے کے قصور معاف [کریں]۔ . . . اِن سب کے اُوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ [لیں]۔“ (کل ۳:۱۳، ۱۴) جب کوئی شخص مسیحی معیاروں پر عمل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو آپ اُس کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں؟ کیا آپ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی طرح دوسروں کی کمزوریوں کا لحاظ رکھتے ہیں؟ (یسع ۴۲:۲-۴) یا کیا آپ ہر معاملے میں اصولوں کی پابندی کرنے پر زور دیتے ہیں؟ (زبور ۱۳۰:۳) جہاں تک ممکن ہو نرمی ظاہر کریں لیکن یاد رکھیں بوقتِضرورت اُصولوں کی پابندی کی جانی چاہئے۔
۱۱ اگر آپ کو کوئی اختیار دیا گیا ہے تو یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی نقل کرنے کی پوری کوشش کریں۔ زبورنویس نے یہوواہ کے اختیار کو استعمال کرنے کے بارے میں جو شاندار تصویرکشی کی ہے اُسے یاد رکھیں۔ اُس نے کہا: ”[یہوواہ] میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی۔ وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔ وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔“ اسی طرح ہم یسوع مسیح کی بابت بھی پڑھتے ہیں: ”اچھا چرواہا مَیں ہوں۔ جس طرح باپ مجھے جانتا ہے اور مَیں باپ کو جانتا ہوں۔ اسی طرح مَیں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں اور میری بھیڑیں مجھے جانتی ہیں اور مَیں بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہوں۔“ اختیار کو پُرمحبت طریقے سے استعمال کرنے کی ایسی مثال نہیں ملتی!—زبور ۲۳:۱-۳؛ یوح ۱۰:۱۴، ۱۵۔