دلیر مگر صلحپسند
۱ جب ہم منادی میں جاتے ہیں تو بہتیرے لوگ ایسے اعتقادات کا اظہار کرتے ہیں جو بائبل سچائی کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہمیں دلیری کے ساتھ منادی کرنی چاہئے توبھی ہم ’سب آدمیوں کے ساتھ صلح‘ سے رہنا اور دوسروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ (روم ۱۲:۱۸، کیتھولک ترجمہ؛ اعما ۴:۲۹) ہم بادشاہتی پیغام سناتے وقت دلیر مگر صلحپسند کیسے بن سکتے ہیں؟
۲ باہمی دلچسپی کے موضوع پر بات کریں: ایک صلحپسند شخص بحث کرنے سے گریز کرتا ہے۔ صاحبِخانہ کے اعتقادات کو بِلاوجہ غلط قرار دینا اُس کے لئے ہمارے پیغام کو قبول کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔ اگر صاحبِخانہ کوئی غلط بات کرتا ہے تو ہم بڑی ہوشیاری سے اُس کی توجہ کسی باہمی دلچسپی کے موضوع کی طرف دلا سکتے ہیں۔ ہم باہمی دلچسپی کے موضوعات پر زور دینے سے منفی احساسات کو ختم کرنے اور اُن کے دل تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
۳ کیا صاحبِخانہ کے غلط اعتقادات کو نظرانداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُن سے متفق ہیں یا سچائی کو دبا رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ مسیحی خادموں کے طور پر، ہماری ذمہداری لوگوں کے ہر نظریے کو غلط ثابت کرنا نہیں بلکہ خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنانا ہے۔ (متی ۲۴:۱۴) جب کوئی شخص غلط نظریے کا اظہار کرتا ہے تو ہم اُس کی بات کو طول دینے کی بجائے اُس کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔—امثا ۱۶:۲۳۔
۴ عزتواحترام سے پیش آئیں: بعضاوقات جھوٹی تعلیمات کو غلط ثابت کرنے کے لئے ہمیں دلیری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک صلحپسند شخص کے طور پر، ہم دوسروں کے اعتقادات اور تعلیمات کا مذاق نہیں اُڑائیں گے۔ برتر ہونے کا رُجحان دوسروں کی توجہ ہمارے پیغام سے ہٹا سکتا ہے۔ لیکن ہمارا فروتن اور مہربانہ انداز سچائی سے محبت رکھنے والوں کے ذہنوں تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ صاحبِخانہ اور اُن کے اعتقادات کے لئے احترام دکھانا اُن کی عزتِنفس کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اُن کے لئے ہمارے پیغام کو قبول کرنا آسان بنا دیتا ہے۔
۵ پولس رسول منادی کرتے وقت دوسروں کے اعتقادات کا لحاظ رکھتا اور خوشخبری کو اِس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا تھا جو لوگوں کے دلوں کو چُھو لیتا تھا۔ (اعما ۱۷:۲۲-۳۱) وہ ”سب آدمیوں کے لئے سب کچھ بنا“ تاکہ ”کسی طرح سے بعض“ کو بچا لے۔ (۱-کر ۹:۲۲) اِسی طرح، ہم بھی صلحپسند رہتے ہوئے دلیری سے خوشخبری سنانے سے ایسا کر سکتے ہیں۔