مسیحی خدمتی سکول کا اعادہ
مندرجہذیل سوالات ہفتہ شروع از اکتوبر ۳۰، ۲۰۰۶ کے ہفتے کے دوران مسیحی خدمتی سکول کے تحت زیرِغور آئیں گے۔ سکول اوورسیئر ستمبر ۴، ۲۰۰۶ تا اکتوبر ۳۰، ۲۰۰۶ کی تفویضات میں پیش کئے جانے والے مواد پر مبنی ۳۰ منٹ کا اعادہ کرے گا۔ [نوٹ: جن سوالوں کے ساتھ کوئی حوالہ نہیں دیا گیا اُن کے جواب تلاش کرنے کے لئے آپ کو خود تحقیق کرنی ہوگی۔]
تقریری لیاقت
۱. ہم یہوواہ سے مشورت کیسے حاصل کرتے ہیں؟ [ایچٹی ص. ۴، پ. ۱، ۲] آجکل یہوواہ کے پرستار اُسکے تحریری کلام اور اُسکی تنظیم کے ذریعے مشورت حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا مسیحی خدمتی سکول میں نام لکھوانے والوں کو جلد ہی اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ جو مشورت اُنہیں دی جا رہی ہے اور جس جذبے سے دی جاتی ہے اُسکی بنیاد بائبل کے عمدہ اُصول ہیں۔
۲. تقریر میں پیش کئے جانے والے مواد کا واضح ہونا کیوں اہم ہے؟ [ایچٹی ص. ۱۲، پ. ۲، ۳] اگر آپکی تقریر غیرواضح ہے تو وہ مؤثر اور مستند نہیں ہوگی۔ ایسی تقریر مقصد سے خالی ہوتی ہے۔ یہ سامعین کو بےیقینی کی حالت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اگر آپ خیالات کو سامعین کے ذہننشین کرنا چاہتے ہیں تو اسے واضح اور درست ہونا چاہئے اور مواد سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنی چاہئیں۔
۳. ہم پیش کی جانے والی معلومات کو کیسے عملی بنا سکتے ہیں؟ [ایچٹی ص. ۱۳ پ. ۷، ۸] بہت سی معلومات دستیاب ہو سکتی ہیں مگر سب عملی نہیں ہوتیں۔ خدا کے خادم ہوتے ہوئے معلوماتی مواد ہمارے لئے اُن چیزوں سے تعلق رکھتا ہے جنکی بابت ہمیں اپنے مسیحی طرزِزندگی اور اپنی خدمتگزاری کے حوالے سے جاننے کی ضرورت ہے۔ عملی ہونے کیلئے، پیشکردہ مواد کو کسی نہ کسی طرح سامعین کیلئے قابلِاستعمال ہونا چاہئے۔
۴. باتوں کو سادگی سے بیان کرنے کے لئے تقریر تیار کرتے وقت کیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟ [ایچٹی ص. ۱۵ پ. ۱۵] مقرر کیلئے پیش کئے جانے والے مواد کا پہلے سے تجزیہ کرنا اور خاص عناصر پر غوروخوض کرنا لازمی ہے۔ یہ جامع، سادہ اور عامفہم زبان میں پیش کی جانے والی تقریر پر منتج ہوگا۔ اگر کوئی عنوان مقرر کیلئے سمجھنا مشکل ہے تو اُسے پیش کرنا بھی مشکل ہوگا۔
۵. بہت زیادہ مواد استعمال کرنے سے سامعین کے لئے کیا خطرات ہو سکتے ہیں اور ہمیں کس بات سے گریز کرنا چاہئے؟ [ایچٹی ص. ۱۵ پ. ۱۹] اگر تقریر میں معلومات کی بھرمار ہے تو اِسکے نتیجے میں ساری باتیں سامعین کے سر سے گزر جائیں گی۔ تقریر میں اُتنا ہی مواد متعارف کرایا جانا چاہئے جتنا مقررہ وقت کے اندر واضح طور پر پیش کِیا جا سکتا ہے اور جسے سامعین معقول طور پر ذہننشین کرنے کے قابل ہو سکیں۔
تفویض نمبر ۱
۶. زبور کی کتاب میں کونسا مفید پیغام پایا جاتا ہے؟ [ایسآئی ص. ۱۰۴ پ. ۲۳] زبور کی کتاب میں بائبل کی بنیادی تعلیمات کی گہری سمجھ فراہم کی گئی ہے، یہ بنیادی طور پر بائبل کے مصنف یہوواہ خدا کی بابت بیان کرتی ہے۔ اس میں اُسے واضح طور پر کائنات اور اُسکی ہر چیز کا خالق ظاہر کِیا گیا ہے۔ (زبور ۸:۳-۹؛ ۹۰:۱، ۲؛ ۱۰۰:۳؛ ۱۰۴:۱-۵، ۲۴؛ ۱۳۹:۱۴)
۷. امثال کی کتاب کو کتابی شکل کب دی گئی؟ [ایسآئی ص. ۱۰۷ پ. ۵] اس میں کوئی شک نہیں کہ امثال کی کتاب کا بیشتر حصہ سلیمان کے دَورِحکومت (۱۰۳۷-۹۹۸ قبلازمسیح) میں اُسکی برگشتگی سے پہلے تحریر کِیا گیا تھا۔ چونکہ ان میں سے ایک مجموعے کو حزقیاہ کے دَورِحکومت (۷۴۵-۷۱۷ قبلازمسیح) میں ترتیب دیا گیا تھا، اسلئے امثال کی کتاب کے آخری مجموعے کا حزقیاہ کے دَور سے پہلے مکمل کِیا جانا ممکن نہیں تھا. کتاب کے آخری دو حصوں کو بھی حزقیاہ بادشاہ کی نگرانی میں ترتیب دیا گیا تھا۔ (امثا ۲۵:۱) امثال ۳۱:۳۱ کو ”نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز—وِد ریفرنسز“ میں ایک فٹ نوٹ سے واضح کِیا گیا ہے: ”عبرانی کے بعض ترجموں میں تین حروف ختیھ، زین، قوف دکھائی دیتے ہیں جو حزقیاہ بادشاہ کے فقیہوں کی تیارکردہ نقل پر اُسکے دستخط کی علامت ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کام مکمل ہو چکا ہے۔“
۸. امثال کیا ہے، اور اس کتاب کا عبرانی نام کیوں موزوں ہے؟ [ایسآئی ص. ۱۰۷ پ. ۶] امثال ایسی کہاوتوں کو کہتے ہیں جو مختصر مگر پُرمعنی ہوتی ہیں۔ یہ اکثر تشبِیہ یا موازنے سے سامعین کو سوچنے پر آمادہ کرنے کیلئے ترتیب دی جاتی ہیں۔ عبرانی بائبلوں میں، اس کتاب کا نام اسکے پہلے لفظ، ”مشلے“ بمعنی ”امثال“ سے لیا گیا ہے ”مشلے“ عبرانی اسم ”مشل“ کی جمع ہے جو عام رائے کے مطابق ایسے لفظ سے مشتق ہے جسکا مطلب ”مشابہ ہونا“ یا ”موازنہ کرنا“ ہے۔ یہ اصطلاحات اس کتاب میں پائی جانے والی باتوں کی خوب عکاسی کرتی ہیں۔
۹. اپنے مستقبل اور دُنیاوی ملازمت کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت نوجوانوں کو کس صحیفائی مشورت کو ذہن میں رکھنا چاہئے؟ [م۰۴ ۱/۵ ص. ۱۷ پ. ۱۷] دُنیاوی ملازمت کو کبھی بھی اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئے کہ یہ یہوواہ کیلئے ہماری خدمت پر حاوی ہو جائے۔ ’اہم باتوں یعنی روحانی چیزوں‘ کو کبھی پسِپُشت نہ ڈالیں۔ (فل ۱:۹، ۱۰) یرمیاہ کی باتوں کو تحریری شکل دینے والے باروک جیسی غلطی کبھی نہ کریں۔ وہ اپنے خدمتی استحقاق کو کھو بیٹھا اور اپنے لئے ’امورِعظیم کی تلاش میں نکل پڑا۔‘ (یرم ۴۵:۵) وہ تھوڑی دیر کیلئے بھول گیا کہ اس دُنیا کی کوئی چیز اُسے نہ تو یہوواہ کی قربت میں لا سکتی ہے اور نہ ہی اُسے یروشلیم کی تباہی سے بچا سکتی ہے۔ آجکل ہمارے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔
۱۰. امثال کی کتاب اپنے مفید مقصد کو کیسے بیان کرتی ہے؟ [ایسآئی ص. ۱۰۹ پ. ۱۹] امثال کی کتاب کا مفید مقصد اسکی ابتدائی آیات میں بیان کِیا گیا ہے۔ یہ آیات علم، حکمت اور فہم جیسی خوبیوں کو نمایاں کرتی ہیں جوکہ قابلِقبول طریقے سے یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ (امثا ۱:۲-۴)
ہفتہوار بائبل پڑھائی
۱۱. داؤد نے ’اپنے دل کو دودھ چھڑائے ہوئے بچے کی مانند جو ماں کی گود میں ہے‘ کیسے مطمئن کِیا، اور ہم اُس کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟ (زبور ۱۳۱:۱-۳) داؤد نے اپنی حدود کو پہچاننے اور فروتنی ظاہر کرنے سے اپنے دل کو مطمئن کرنا سیکھ لیا تھا۔ اُس نے نہ تو بڑا بننے کی خواہش کی اور نہ ہی بادشاہ بننے کیلئے طاقت کا استعمال کِیا۔ اُس نے فروتنی اور صبر سے یہوواہ پر آس لگائی۔ ہم بھی داؤد کی نقل کرتے ہوئے شہرت حاصل کرنے اور خود کو بڑا بنانے سے گریز کر سکتے ہیں۔ خود کو بڑا بنانے کی بجائے ہمیں یہوواہ پر آس لگانی چاہئے۔ [ستمبر ۱۱، م۰۶ ۱/۹ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—زبور کی پانچویں کتاب سے اہم نکات“؛ م ۷۸/۹ ص۔ ۶، ۷]
۱۲. زبور ۱۳۹:۷-۱۲ کے الہامی الفاظ میں کونسی تسلی پائی جاتی ہے؟ زمین پر ایسی کوئی جگہ نہیں جو یہوواہ کی پہنچ سے دُور ہو۔ خواہ ہم کہیں بھی ہوں اُسکی پاک رُوح ہم تک پہنچ سکتی ہے۔ کسی بھی قسم کے حالات ہمیں خدا کی دسترس سے دُور نہیں رکھ سکتے۔ اگر ہم جانفشانی سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں تو وہ ہماری زندگی بھی ہمیں لوٹا سکتا ہے۔ یہوواہ کے راست اور وفادار خادم اُسکی پُرمحبت حمایت پر بھروسا رکھ سکتے ہیں۔ [ستمبر ۱۸، م۰۶ ۱/۹ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—زبور کی پانچویں کتاب سے اہم نکات“؛ م ۹۴/۱ ص۔ ۱۴ پ. ۱۰]
۱۳. یہوواہ کی بزرگی کی چند مثالیں کونسی ہیں جن کی بدولت ہم اپنی دُعاؤں اور خدمتگزاری میں اُس کی حمد کر سکتے ہیں؟ (زبور ۱۴۵:۳) زبور ۱۴۵ میں یہوواہ کی ادراک سے باہر بزرگی بیان کی گئی ہے، جسکی بدولت ہم اُسکی حمد کر سکتے ہیں۔ یہوواہ کی بزرگی اُسکے حیرتانگیز تخلیقی کاموں سے (آیات ۹، ۱۰)، وفادار پرستاروں کیلئے اُسکے نجاتبخش کاموں سے (آیات ۴، ۶، ۱۴، ۱۶، ۱۸-۲۰)، ہماری ابدی زندگی کیلئے ضرورت کی ہر چیز فراہم کرنے سے (آیات ۷، ۱۵، ۱۶)، اور اسکے علاوہ اُسکی شخصیت سے ظاہر ہوتی ہے (آیات ۷-۹، ۱۷)۔ [ستمبر ۲۵، م۰۴ ۱۵/۱ ص ۱۰-۱۵]
۱۴. کس طریقے سے یہوواہ کا خوف ”علم“ اور ”حکمت“ کا شروع ہے؟ (امثا ۱:۷؛ ۹:۱۰) یہوواہ تمام چیزوں کا خالق اور پاک صحائف کا مصنف ہے، اسلئے اُسکے خوف کے بغیر علم حاصل نہیں کِیا جا سکتا۔ (روم ۱:۲۰؛ ۲-تیم ۳:۱۶، ۱۷) وہ حقیقی علم کا ماخذ ہے۔ یہوواہ کا مؤدبانہ خوف ہی علم کا شروع ہے۔ خدائی خوف حکمت کا بھی شروع ہے کیونکہ علم کے بغیر حکمت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اسکے علاوہ، جس شخص میں یہوواہ کا خوف نہیں وہ اپنے علم کو خالق کی تعظیم کیلئے استعمال نہیں کرے گا۔ [اکتوبر ۲، م۰۶ ۱/۱۰ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—امثال کی کتاب سے اہم نکات“]
۱۵. امثال ۷:۱، ۲ کے مطابق ”میری باتوں“ اور ”میرے فرمان“ میں کیا کچھ شامل ہے؟ خاندان کے اُصولوضوابط میں بائبل تعلیمات کے علاوہ وہ باتیں اور فرمان بھی شامل ہوتے ہیں جو والدین اپنے بچوں کیلئے ترتیب دیتے ہیں۔ (است ۶:۶، ۷؛ افس ۶:۴) اگر ایسے خاندانی اُصول خدائی قوانین سے نہیں ٹکراتے تو بچوں کو ان قوانین کو ضرور ماننا چاہئے کیونکہ یہ خاندان سے محبت کی وجہ سے اور اُنکے فائدے کیلئے ترتیب دئے جاتے ہیں۔ (امثا ۶:۲۰-۲۲) [اکتوبر ۹، م۰۶ ۱/۱۰ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے—امثال کی کتاب سے اہم نکات“؛ م۰۰ ۱۵/۱۱ ص. ۲۸]