مہربانی سے پیش آتے ہوئے دوسروں میں ذاتی دلچسپی دکھائیں
۱ ”خداوند سب پر مہربان ہے۔“ (زبور ۱۴۵:۹) اگرچہ یہوواہ خدا کائنات کا خالقومالک ہے توبھی وہ ہم ناکامل انسانوں کے ساتھ رحمدلی، شفقت اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔ (پید ۱۳:۱۴؛ ۱۹:۱۸-۲۱، ۲۹) اپنے مہربان خدا کی نقل کرتے ہوئے ہم خوشخبری کی اپنی پیشکش کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ (کل ۴:۶) اِس میں دوسروں کے ساتھ خوشاخلاقی اور احترام سے بات کرنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔
۲ گھرباگھر منادی کے دوران: اگر ہم صاحبِخانہ کے گھر ایسے وقت پر چلے جاتے ہیں جب وہ بہت مصروف ہے یا اُس کے پاس بات کرنے یا ہماری بات سننے کے لئے بالکل وقت نہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ایسی صورتحال میں اچھا ہوگا کہ ہم اپنی پیشکش کو بہت ہی مختصر رکھیں یا پھر اُن کے پاس کسی اَور وقت آنے کا بندوبست بنائیں۔ اگر لوگ لٹریچر لینا نہیں چاہتے تو ہمیں اُنہیں زبردستی لٹریچر نہیں دینا چاہئے۔ دوسروں کے لئے ہمدردی ہمیں تحریک دے گی کہ اُن کی چیزوں کا خیال رکھیں۔ مثلاً، اُن کے دروازہ کو زور زور سے کھٹکھٹانے اور بند کرنے یا بغیر اجازت گھر میں داخل ہونے سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنے بچوں کی بھی تربیت کرنی چاہئے۔ گھر پر نہ ملنے والے لوگوں کے لئے لٹریچر چھوڑتے وقت ہمیں اس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ اُسے نہ تو فرش پر اور نہ کسی ایسی جگہ پر رکھیں جہاں دوسرے اُسے اُٹھا سکتے ہیں۔ مہربانی کی خوبی ہمیں تحریک دے گی کہ لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کریں جیسا ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کریں۔—لو ۶:۳۱۔
۳ بازار میں منادی کے دوران: بازاروں میں منادی کرتے وقت ہم آنے جانے والے لوگوں کا راستہ نہ روکنے اور دُکانوں کے سامنے جمع نہ ہونے سے اُن کے لئے پاسولحاظ دکھا سکتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے حالات کو بھی مدِنظر رکھنا چاہئے۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص بہت جلدی میں ہے تو ہم اُس کے ساتھ بات کرنے کی بجائے کسی ایسے شخص سے بات کرنے کی کوشش کریں گے جو ہمیں تھوڑا وقت دے سکتا ہے۔ بعضاوقات بازار میں شور کی وجہ سے ہمیں قدرے اُونچی آواز میں بات کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ دوسرا شخص بآسانی ہماری بات سن سکے۔ مگر ہم خواہمخواہ دوسروں کی توجہ کا مرکز بننا نہیں چاہئے۔—متی ۱۲:۱۹۔
۴ ٹیلیفون پر گواہی دیتے وقت: دوسروں کے لئے حقیقی فکرمندی ہمیں پُرسکون جگہ سے ٹیلیفون پر گواہی دینے کی تحریک دے گی۔ جب ہم فوراً سے خود کو متعارف کراتے اور اپنے فون کرنے کا مقصد بتاتے ہیں تو ہم اچھے آدابواطوار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ٹیلیفون پر صحیح طریقے اور خوشگوار لہجے میں بات کرنا ہمیں دوسروں کو حوصلہافزا صحیفائی باتچیت میں شریک کرنے کے قابل بنائے گا۔ (۱-کر ۱۴:۸، ۹) ان مختلف صورتحال میں دوسروں کے ساتھ رحمدلی، شفقت اور مہربانی سے پیش آنے سے ہم اپنے مہربان خدا یہوواہ کی نقل کرتے ہیں۔