یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 4/‏06 ص.‏ 1
  • روحانی جوش‌وجذبہ قائم رکھنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • روحانی جوش‌وجذبہ قائم رکھنا
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۶
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏روحانی جوش میں بھرے رہو“‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۹
  • گرمجوشی سے خوشخبری سنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • کیا آپ ”‏نیک کاموں میں سرگرم“‏ ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • پورے جوش سے خدا کی عبادت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
مزید
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۶
خدم 4/‏06 ص.‏ 1

روحانی جوش‌وجذبہ قائم رکھنا

۱ اپلوس نے جس جوش‌وجذبے کے ساتھ اپنی خدمت کو جاری رکھا وہ ہمیں اُن ساتھی مسیحیوں کی یاد دلاتا ہے جو گرمجوشی سے منادی کر رہے ہیں۔ (‏اعما ۱۸:‏۲۴-‏۲۸‏)‏ ہمیں بھی تاکید کی گئی ہے کہ ”‏کوشش میں سستی نہ کرو۔ روحانی جوش میں بھرے رہو۔“‏ (‏روم ۱۲:‏۱۱‏)‏ کیا چیز ہمیں اپنے اندر مسیحی خدمت کے لئے جوش پیدا کرنے اور پھر اس جذبے کو قائم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے؟‏

۲ علم سے جوش کو بڑھانا:‏ اپنے جی اُٹھنے کے بعد یسوع اپنے دو شاگردوں پر ظاہر ہوا۔ اُس نے ”‏سب نوشتوں میں جتنی باتیں اُس کے حق میں لکھی ہوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دیں۔“‏ پس وہ کہنے لگے:‏ ”‏جب وہ راہ میں ہم سے باتیں کرتا .‏ .‏ .‏ تھا تو کیا ہمارے دل جوش سے نہ بھر گئے تھے؟“‏ (‏لو ۲۴:‏۲۷،‏ ۳۲‏)‏ اِسی طرح، کیا اُس وقت ہمارے دل بھی جوش سے نہیں بھر جاتے جب ہم خدا کے کلام کی اضافی سمجھ حاصل کرتے ہیں؟ جی‌ہاں، ایمان علم سے بڑھتا ہے۔ رومیوں ۱۰:‏۱۷ وضاحت کرتی ہے:‏ ”‏ایمان سننے سے پیدا ہوتا ہے۔“‏ جب ہمارے دل یہوواہ کے وعدوں پر ایمان سے معمور ہو جاتے ہیں تو ہم سیکھی ہوئی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتے!‏—‏زبور ۱۴۵:‏۷؛‏ اعما ۴:‏۲۰‏۔‏

۳ یہوواہ خدا کے لئے اپنی محبت اور اُس کی خدمت کے لئے اپنے جوش‌وجذبے کو قائم رکھنے کے لئے اُس علم پر انحصار نہیں کِیا جا سکتا جو ہم نے بائبل مطالعے کے ذریعے حاصل کِیا ہے۔ ہمیں سچائی کی بابت اپنی سمجھ میں اضافہ کرتے اور یہوواہ کے لئے اپنی محبت کو مسلسل بڑھاتے رہنا چاہئے۔ بصورتِ‌دیگر، خدا کے لئے ہماری خدمت صرف معمول کا کام بن کر رہ جائے گی۔ (‏مکا ۲:‏۴‏)‏ خدا کا کلام ہمیں تاکید کرتا ہے کہ ”‏اُس کی مرضی کے علم سے معمور‏“‏ ہوتے جائیں۔—‏کل ۱:‏۹، ۱۰‏۔‏

۴ مطالعے کی عادات میں بہتری لانا:‏ اچھا ہے کہ ہم مطالعے کی اپنی عادات کا جائزہ لیتے رہیں۔ مثال کے طور پر، شاید ہم مینارِنگہبانی کے مطالعے کے مضمون میں جوابات پر نشان لگانے اور اچھے تبصرے کرنے کے قابل ہیں۔ لیکن کیا ہم بائبل کھول کر حوالہ‌شُدہ صحائف کو پڑھتے اور اِس مواد کا اپنی زندگی پر اطلاق کرنے کی بابت سوچتے ہیں؟ جہاں تک ہفتہ‌وار بائبل پڑھائی کا تعلق ہے تو کیا ہم اضافی تحقیق کرنے اور اِس میں پائے جانے والے اسباق پر غوروخوض کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ (‏زبور ۷۷:‏۱۱، ۱۲؛‏ امثا ۲:‏۱-‏۵‏)‏ خدا کے کلام پر دھیان دینا اور اِس میں مشغول رہنا کسقدر مفید ہے!‏ (‏۱-‏تیم ۴:‏۱۵، ۱۶‏)‏ ایسا گہرا مطالعہ ہمارے دل کو تقویت بخشنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ”‏نیک کاموں میں سرگرم“‏ رہنے کی تحریک بھی دے گا۔—‏طط ۲:‏۱۴‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں