فوری مدد دستیاب ہے
۱ اینا اجلاسوں پر باقاعدہ حاضر ہونا، منادی میں جانا اور خدا کے کلام کا مطالعہ کرنا مشکل پاتی تھی۔ کیونکہ ایک تو اس کا شوہر یہوواہ کا گواہ نہیں تھا اور دوسرا اُس کی ملازمت اُس کا بہت سا وقت لے لیتی تھی۔ اگرچہ وہ یہوواہ سے بہت پیار کرتی تھی لیکن کلیسیائی کارگزاریوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے وہ روحانی طور پر سُست پڑ گئی۔ خوشی کی بات ہے کہ اُسے فکرمند کلیسیائی بزرگوں کی طرف سے روحانی مدد حاصل ہوئی۔
۲ مسیحی کلیسیا کی طرف سے روحانی مدد کو قبول کرنا یہوواہ پر ہمارے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ یسوع مسیح کی پُرمحبت فکرمندی کی نقل کرتے ہوئے بزرگ کلیسیا میں روحانی کارگزاریوں کو پورا کرنے میں مشکل کا سامنے کرنے والوں کو حوصلہافزائی اور عملی مدد فراہم کرنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ (۱-تھس ۵:۱۴) ہو سکتا ہے کہ بعضاوقات بہنبھائیوں کو صحائف پر مبنی چند حوصلہافزا الفاظ ہی کی ضرورت ہو۔ بزرگوں کے علاوہ، دیگر مسیحی بھی عارضی طور پر روحانی کمزوری کا شکار ہو جانے والے بہن بھائیوں کیلئے فکرمندی ظاہر کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب نے ”باموقع بات“ کی اثرآفرینی کا تجربہ کِیا ہے۔—امثا ۲۵:۱۱؛ یسع ۳۵:۳، ۴۔
۳ پہل کریں: پُرمحبت دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے ضرورتمند اشخاص کی مدد کرنے کیلئے پہل کریں۔ انکے لئے ہمدردی اور خلوص کا اظہار بھی کریں۔ جب یونتن کو پتہ چلا کہ اُس کا دوست داؤد مشکل میں ہے تو ”یونتنؔ اُٹھ کر داؔؤد کے پاس بِن میں گیا اور خدا میں اُس کا ہاتھ مضبوط کِیا۔“ (۱-سمو ۲۳:۱۵، ۱۶) دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ حقیقی فکرمندی کے اظہارات اچھے نتائج کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یسوع نے تمثیل کے ذریعے اس بات کو واضح طور پر بیان کِیا کہ مستعد اور بامقصد کوشش ایک روحانی بھائی یا بہن کو جیت سکتی ہے۔ (لو ۱۵:۴) دوسروں کی مدد کرنے کی دلی خواہش کسی شخص کے فوری طور پر تبدیلی نہ لانے کے باوجود ہمیں اپنی کوشش کو جاری رکھنے کی تحریک دے گی۔
۴ بہن بھائیوں کو منادی میں اپنے ساتھ کام کرنے کی دعوت دینے میں پہل کرنا بہت زیادہ حوصلہافزائی کا باعث ہوتا ہے۔ خاص طور پر کتابی مطالعہ کے بہنبھائیوں کے ساتھ ایسا بندوبست بنانا مفید ہو سکتا ہے۔ ہم منادی میں اپنے ہمخدمتوں کی مدد کرنے سے ان کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہوواہ کی خدمت میں اکٹھے ملکر کام کرنا خوشکُن ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر، اُس وقت جب ہم ایسے مبشروں کی حوصلہافزائی کرتے ہیں جو اپنا روحانی توازن بحال کرنا چاہتے ہیں۔
۵ پُرمحبت بندوبست: ایسے اشخاص جو منادی میں حصہ نہیں لیتے یا جو کبھیکبھار اجلاسوں پر آتے ہیں ان کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اضافی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ علم کی کتاب یا بروشر کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟ جیسی مطبوعات میں سے ذاتی بائبل مطالعہ مددگار ہو سکتا ہے۔ وہ شخص پہلے سے بپتسمہیافتہ ہے اس لئے اس کے ساتھ زیادہ وقت تک مطالعہ جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کلیسیا کی خدمتی کمیٹی کو اس بات سے باخبر رہنا چاہئے کہ کون اس فراہمی سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔—نومبر ۱۹۹۸ اور نومبر ۲۰۰۰ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے سوالی بکس کو دیکھیں۔
۶ اینا جس کا شروع میں ذکر کِیا گیا ہے اُس نے بزرگوں کی طرف سے ایک پُختہ بہن کے ساتھ بائبل مطالعہ کرنے کی پیشکش کو خوشی سے قبول کِیا۔ صرف چار مطالعوں کے بعد ہی وہ دوبارہ یہوواہ کے نزدیک آ گئی۔ اُس نے اجلاسوں پر حاضر ہونا شروع کر دیا اور علانیہ یہوواہ کی حمد بھی کرنے لگی۔ اِس پُختہ بہن نے منادی کے سلسلے میں بھی اُس کی مدد کی۔ وہ بہن اُسے اپنے دوسرے بائبل مطالعوں پر اُسوقت تک لیکر جاتی رہی جب تک وہ گھرباگھر منادی کرنے کے قابل نہ ہوگئی۔ اُسے روحانی طور پر دوبارہ سرگرم ہونے کے لئے ایسی ہی مدد کی ضرورت تھی!
۷ ضرورتمند اشخاص کی مدد کرنا سب کے لئے برکات کا باعث بنتا ہے۔ جس شخص کی مدد کی جاتی ہے وہ یہوواہ کے نزدیک آنے سے خوشی حاصل کرتا اور تنظیمی کارگزاریوں میں دوبارہ سے حصہ لینے لگتا ہے۔ بزرگ ایسی روحانی ترقی کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ (لو ۱۵:۵، ۶) ایک دوسرے کے لئے پُرمحبت فکرمندی ظاہر کرنے سے کلیسیا متحد ہو جاتی ہے۔ (کل ۳:۱۲-۱۴) ہمارے پاس دوسروں کی فوری مدد کرنے کے سلسلے میں یہوواہ کی نقل کرنے کی عمدہ وجوہات موجود ہیں۔—افس ۵:۱۔
[مطالعے کے سوالات]
۱. ایک شخص روحانی طور پر کیسے سُست پڑ سکتا ہے؟
۲. تمام مسیحی کس طرح سے فوری مدد دے سکتے ہیں؟
۳، ۴. دوسروں کی مدد کرنے میں کیا کچھ شامل ہے اور ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
۵. بعض حالتوں میں بزرگ کس مدد کی پیشکش کر سکتے ہیں؟
۶. ایک بہن نے روحانی طور پر کیسے مدد حاصل کی؟
۷. روحانی طور پر دوسروں کی مدد کرنے کے کیا فوائد ہیں؟