سوال پوچھنے اور دوسروں کی بات سننے سے ذاتی دلچسپی دکھائیں
۱ بہتیرے لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرنا پسند کرتے ہیں لیکن نصیحتیں سننا بالکل پسند نہیں کرتے۔ اسلئے مسیحی خادموں کے طور پر، ہمیں سوالات کے ذریعے لوگوں سے دل کی بات کہلوانے کا فن سیکھنا چاہئے۔—امثا ۲۰:۵۔
۲ ہمارے سوالات دوسروں کو اُلجھن میں ڈالنے کی بجائے سوچ کو اُبھارنے والے ہونے چاہئیں۔ ایک بھائی گھرباگھر منادی کے دوران پوچھتا ہے: ”آپکے خیال میں کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب لوگ ایک دوسرے کیساتھ پیارومحبت سے پیش آئیں گے؟“ صاحبِخانہ کے جواب کے بعد وہ مزید کہتا ہے: ”ایسا کیسے ممکن ہوگا؟ یا آپ ایسا کیوں محسوس کرتے ہیں؟“ ایک دوسرا بھائی گواہی دینے کے ہر موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے عوامی جگہوں پر والدین سے اسطرح سوال کرتا ہے: ”ماں یا باپ ہوتے ہوئے کونسی چیز آپکو خوشی بخشتی ہے؟“ پھر وہ پوچھتا ہے: ”آپ کن باتوں کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں؟“ غور کریں کہ ایسے سوالات کسی شخص کو اُلجھن میں ڈالنے کی بجائے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ سب لوگوں کے حالات ایک دوسرے سے فرق ہوتے ہیں اسلئے ہمیں اپنے سوالات کو اپنے علاقے کے لوگوں کے مطابق ڈھالنا پڑ سکتا ہے۔
۳ دل کی بات کہلوانا: اگر لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اُنکی بات کاٹنے کی بجائے صبر سے سنیں۔ (یعقو ۱:۱۹) مہربانہ انداز میں انکی باتوں کا جواب دیں۔ (کل ۴:۶) آپ سادہ الفاظ میں کہہ سکتے ہیں: ”بہت خوب۔ مجھے یہ سب کچھ بتانے کیلئے آپکا بہت شکریہ۔“ ہو سکے تو اُنہیں شاباش دیں۔ ان سے دل کی بات کہلوانے کیلئے مزید سوال پوچھیں۔ ایسے موضوعات پر باتچیت کریں جن پر آپ دونوں متفق ہیں۔ صاحبِخانہ کی توجہ صحائف پر دلانے کیلئے آپ یوں کہہ سکتے ہیں: ”کیا آپ نے کبھی اس صحیفے پر غور کِیا ہے؟“ بحث سے گریز کریں۔—۲-تیم ۲:۲۴، ۲۵۔
۴ اگر ہم لوگوں کی بات توجہ سے سنتے ہیں تو وہ بھی ہمارے سوالات کیلئے ویسا ہی ردِعمل دکھا سکتے ہیں۔ جب ہم دوسروں کی بات کو دلچسپی سے سنتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ لوگ ہمیں اپنے خیالات میں شریک کریں۔ ایک سفری نگہبان نے اس بات کا تجربہ کِیا: ”جب آپ صبر سے لوگوں کی بات سنتے ہیں تو آپ انکے دل موہ لیتے اور ان کیلئے ذاتی دلچسپی دکھاتے ہیں۔“ دوسروں کی بات سننے سے ہم ان کیلئے عزتواحترام ظاہر کرتے ہیں۔ اسطرح شاید لوگ اُس خوشخبری سے اثرپذیر ہونے کی تحریک پائیں جو ہم اُنہیں سنانا چاہتے ہیں۔—روم ۱۲:۱۰۔