ہم دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۱ دُنیا کے کسی بھی حصے میں آنے والی قدرتی آفت کی خبر سن کر یہوواہ کے گواہ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ”ہم دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟“ اعمال ۱۱:۲۷-۳۰ کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ پہلی صدی کے مسیحیوں نے قحط سے نپٹنے کیلئے یہودیہ کے بھائیوں کو امدادی اشیا بھیجیں۔
۲ آجکل بھی ہماری تنظیم قدرتی یا انسانی وجوہات کی بِنا پر آنے والی آفتوں کے باعث مصیبتزدہ لوگوں کو بوقتِضرورت امداد فراہم کرتی ہے۔
۳ مثال کے طور پر، پچھلے سال بہت سے بہنبھائیوں نے جنوبی ایشیا میں سونامی کے متاثرین کیلئے عطیات دئے۔ تنظیم کے امدادی فنڈز کیلئے دل سے دئے جانے والے عطیات کی بڑی قدر کی جاتی ہے۔ تاہم، بعض ممالک میں یہ قانونی تقاضا ہے کہ کسی آفت کیلئے دئے جانے عطیات کو صرف اُسی مقصد کیلئے اور اُسی وقت کے دوران استعمال کِیا جائے۔ خواہ پہلے ہی سے ہمارے بہنبھائیوں کی مقامی طور پر ضروریات پوری ہو رہی ہوں یا عطیات اُنکی ضرورت سے بہت زیادہ ہوں۔
۴ لہٰذا، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ قدرتی یا انسانی وجوہات کی بِنا پر آنے والی آفات کیلئے دئے جانے والے عطیات عالمگیر کام کیلئے دئے جائیں۔ یہ فنڈ امدادی کاموں اور مسیحی بہنبھائیوں کی روحانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بعض وجوہات کی بِنا پر عالمگیر کام کے علاوہ صرف امدادی کام کیلئے عطیات دینے کی خواہش رکھتا ہے تو اِسے بھی قبول کِیا جائے گا اور جہاں امدادی کام کی ضرورت ہوگی ان عطیات کو وہاں استعمال کِیا جائے گا۔ تاہم، اس بات کی قدر کی جائے گی کہ ان عطیات کے سلسلے میں پابندیاں نہ لگائی جائیں کہ اِنہیں کہاں اور کیسے استعمال کِیا جائے۔
۵ جب ہم بنیادی طور پر عالمگیر کام کے لئے عطیات دیتے ہیں تو یہ عطیات مستقبل کے امدادی کاموں کیلئے رکھ چھوڑنے کی بجائے دیگر بادشاہتی کاموں کیلئے دستیاب ہوں گے۔ افسیوں ۴:۱۶ میں درج جذبے کے مطابق جسطرح ”سارا بدن . . . محبت میں ترقی“ پاتا ہے اُسی طرح ہم بھی ضرورت کے وقت ملکر کام کرتے ہیں۔