مہربانی سے پیش آتے ہوئے دوسروں میں ذاتی دلچسپی دکھائیں
۱ یہوواہ کے گواہوں کو ناپسند کرنے والی ایک خاتون، گواہ بہن سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہے: ”مجھے یہ تو یاد نہیں کہ ہم نے کس موضوع پر باتچیت کی تھی۔ تاہم، مجھے یہ اچھی طرح سے یاد ہے کہ وہ میرے ساتھ بڑی مہربانی، خوشاخلاقی اور حلیمی سے پیش آئی تھی۔ ان خوبیوں کی بِنا پر مَیں اُس کی بڑی قدر کرنے لگی۔“ اِس خاتون کے الفاظ منادی کے دوران دوسروں میں حقیقی دلچسپی دکھانے کی قدروقیمت کو نمایاں کرتے ہیں۔—فل ۲:۴۔
۲ محبت مہربان ہے: دوسروں کیساتھ مہربانی سے پیش آنا محبت ظاہر کرنے کا ایک اَور طریقہ ہے۔ (۱-کر ۱۳:۴) ایک مہربان شخص دوسروں کی بھلائی میں گہری دلچسپی رکھتا اور اُنہیں فائدہ پہنچانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ منادی ایک مہربانہ کام ہے لیکن لوگوں کیلئے حقیقی فکرمندی صرف اسی کام سے ظاہر نہیں ہوتی۔ دوسروں کیلئے فکرمندی ظاہر کرنے میں ہمارا لوگوں کیساتھ احترام سے پیش آنا، ہمارا دوستانہ رویہ، انکی بات سننے اور اپنی بات کہنے کا انداز، یہاں تک کہ ہمارے چہرے کے تاثرات بھی شامل ہیں۔—متی ۸:۲، ۳۔
۳ دوسروں کیلئے پُرمحبت فکرمندی ہمیں عملی مدد فراہم کرنے کی تحریک دے گی۔ گھرباگھر کی منادی کے دوران ایک پائینر بھائی کی ملاقات ایک عمررسیدہ خاتون سے ہوئی جو بیوہ تھی۔ جب اُسے پتہ چلا کہ وہ یہوواہ کا گواہ ہے تو اس نے باتچیت سننے سے انکار کرتے ہوئے بھائی کو بتایا کہ جب آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو مَیں سیڑھی پر چڑھ کر کچن کا بلب تبدیل کر رہی تھی۔ بھائی نے اُس سے کہا: ”آپ کیلئے اکیلے یہ کام کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔“ اس خاتون نے بھائی کو اندر آنے کی اجازت دی اُس نے بلب تبدیل کِیا اور واپس چلا گیا۔ جب اس عمررسیدہ خاتون کا بیٹا آیا تو اُس نے یہ تمام باتیں اُسے بتائیں۔ وہ بھائی کے مہربانہ رویہ سے اتنا متاثر ہوا کہ وہ اُس سے ملکر اُسکا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ اس بھائی اور لڑکے کی ملاقات کے نتیجے میں ایک بائبل مطالعہ شروع ہوگیا۔
۴ دوسروں کیساتھ ہمارا مہربانہ رویہ ان کیلئے یہوواہ کی محبت کو ظاہر کرتا اور ہمارے بادشاہتی پیغام کو دلکش بنا دیتا ہے۔ پس، دُعا ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کیساتھ ”خدا کے خادموں کی طرح . . . مہربانی سے“ پیش آئیں۔—۲-کر ۶:۴، ۶۔