مسیحی خدمتی سکول کا اعادہ
مندرجہذیل سوالات ہفتہ شروع از جون ۲۷، ۲۰۰۵ کے ہفتے کے دوران مسیحی خدمتی سکول میں زبانی اعادہ کے تحت زیرِغور آئیں گے۔ سکول اوورسیئر مئی ۲ تا جون ۲۷، ۲۰۰۵ کی تفویضات میں پیش کئے جانے والے مواد پر مبنی ۳۰ منٹ کا اعادہ کرے گا۔ [نوٹ: جن سوالوں کیساتھ کوئی حوالہ نہیں دیا گیا اُنکے جواب تلاش کرنے کیلئے آپکو خود تحقیق کرنی ہوگی۔]
تقریری لیاقت
۱. صحائف کو مؤثر طریقے سے متعارف کرانے کیلئے سوالات کا استعمال کیسے کِیا جا سکتا ہے؟ مثال سے واضح کریں۔ [۱، ایچٹی ص. ۲۸، پ. ۱۴]
۲. صحائف کو کسطرح پڑھا جانا چاہئے اور کیوں؟ [۳، ایچٹی ص. ۳۰، پ. ۲، ۳]
۳. اگر صاحبِخانہ پڑھائی کرتے وقت غلط الفاظ پر زور دیتا ہے یا بالکل زور نہیں دیتا تو ایسی صورت میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ [۵، ایچٹی ص. ۳۱، پ. ۱۳]
۴. دُہرائی کرنے کے کیا فوائد ہیں اور ہم دوسروں کو سکھاتے وقت اسے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ [۷، ایچٹی ص. ۳۴، پ. ۲، ۴]
۵. تصریحی اشارے کیا ہیں اور انکو کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے؟ [۹، ایچٹی ص. ۳۶، پ. ۱۷، ۱۸]
تفویض نمبر ۱
۶. بچوں کی تعلیموتربیت کی بابت خدا کا کلام کیا مشورہ دیتا ہے؟ [۱، م۰۳ ۱۵/۳ ص. ۱۲ پ. ۲؛ ص. ۱۴ پ. ۴]
۷. جب داؤد نوجوان ہی تھا تو یہوواہ نے اس میں دلچسپی کیسے ظاہر کی اور داؤد نے یہوواہ کیساتھ اپنے رشتے کو کیسا خیال کِیا؟ [۲، م۰۳ ۱۵/۴ ص. ۲۹ پ. ۴؛ ص. ۳۰ پ. ۳]
۸. یہوواہ خدا ہابل کی قربانی سے کیوں خوش ہوا اور اس سے ہمیں کیا یقیندہانی حاصل ہوتی ہے؟ (پید ۴:۴) [۳، م۰۳ ۱/۵ ص. ۲۸، پ. ۴–ص. ۲۹ پ. ۱]
۹. ”خداوند کی تنبیہ“ کیا ہے جسکو حقیر نہ جاننے کی امثال ۳:۱۱ ہمیں تاکید کرتی ہے؟ [۶، م۰۳ ۱/۱۰ ص. ۲۰ پ. ۲-۴]
۱۰. پہلا تیمتھیس ۶:۶-۸ کے مطابق ”قناعت“ کا کیا مطلب ہے؟ [۸، م۰۳ ۱/۶ ص. ۹، پ. ۱، ۲؛ ص. ۱۰، پ. ۱]
ہفتہوار بائبل پڑھائی
۱۱. داؤد اور یونتن کی گہری محبت کس بات کی عکاسی کرتی ہے؟ (۲-سمو ۱:۲۶) [۱، ڈبلیو ۸۹ ۱/۱ ص. ۲۶، پ. ۱۳]
۱۲. داؤد کی عہد کے صندوق کو یروشلیم میں لانے کی پہلی کوشش سے ہم کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟ (۲-سمو ۶:۲-۹)
۱۳. داؤد اور بتسبع کے گُناہ کے بعد اُنکا بیٹا کیوں مر گیا جبکہ استثنا ۲۴:۱۶ اور حزقیایل ۱۸:۲۰ بیان کرتی ہیں کہ بیٹا باپ کے گُناہ کے بدلے نہ مارا جائے؟ (۲-سمو ۱۲:۱۴؛ ۲۲:۳۱)
۱۴. ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ ضیبا نے مفیبوست پر جھوٹا الزام لگایا تھا؟ (۲-سمو ۱۶:۱-۴)
۱۵. مفیبوست نے ضیبا کیساتھ جیسا ردعمل دکھایا وہ ہمارے لئے ایک عمدہ نمونہ کیوں ہے؟ (۲-سمو ۱۹:۲۴-۳۰)