حصہ ۶: ترقیپسند بائبل مطالعے کرانا
جب کوئی بائبل طالبعلم سوال اُٹھاتا ہے
۱ جب ایک بائبل مطالعہ حقیقی معنوں میں شروع ہو جاتا ہے تو مختلف مختلف مضامین کو زیرِبحث لانے کی بجائے بائبل تعلیمات پر ترتیبوار غوروخوض کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔ اس سے طالبعلم کی صحیح علم کیلئے اچھی بنیاد قائم کرنے اور روحانی طور پر ترقی کرنے میں مدد ہوگی۔ (کل ۱:۹، ۱۰) اکثر بائبل طالبعلم مطالعے کے دوران مختلف موضوعات پر سوالات پوچھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کیا کِیا جا سکتا ہے؟
۲ سمجھداری سے کام لیں: مطالعے سے تعلق رکھنے والے سوالات کے جواب فوراً دئے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی سوال پر مطالعے کی کتاب میں بعدازاں بات کی جائیگی تو اسکی نشاندہی کرنا ہی کافی ہوگا۔ تاہم، اگر سوال کا مطالعے سے کوئی تعلق نہیں ہے یا اسکا درست جواب دینے کیلئے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے تو پھر اس سوال کو مطالعے کے بعد یا کسی دوسرے وقت پر زیرِغور لایا جا سکتا ہے۔ چند مبشروں نے یہ محسوس کِیا ہے کہ سوال لکھ لینے سے طالبعلم کو یقین ہو جاتا ہے کہ آپ نے اُسکے سوال کو سنجیدہ خیال کِیا ہے اور یوں اُنکی اپنے مطالعے میں دلچسپی قائم رہتی ہے۔
۳ بائبل کی زیادہتر تعلیمات ہمارے مطالعے کی بنیادی مطبوعات میں زیرِغور آتی ہیں۔ اگر ایک بائبل طالبعلم بعض تعلیمات کو قبول کرنا مشکل پاتا ہے یا جھوٹے عقائد سے وابستہ رہتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟ ایسے اضافی مواد پر غوروخوض کرنا مفید ہو سکتا ہے جوکہ تفصیل سے بیان کرتا ہے کہ بائبل اس موضوع پر کیا کہتی ہے۔ اسکے باوجود اگر طالبعلم قائل نہیں ہوتا تو اس موضوع کو بعد کے کسی وقت کیلئے چھوڑ دیں اور اسکے باقاعدہ مطالعے کو جاری رکھیں۔ (یوح ۱۶:۱۲) جوںجوں اسکا بائبل علم بڑھیگا وہ روحانی طور پر ترقی کرنے سے بائبل تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائیگا۔
۴ حقیقتپسند بنیں: اگر آپ کسی سوال کا درست جواب نہیں جانتے تو غلط جواب دینا یا ذاتی رائے پیش کرنے سے گریز کریں۔ (۲- تیم ۲:۱۵؛ ۱- پطر ۴:۱۱) طالبعلم کو بتائیں کہ آپ اُسکے سوال پر تحقیق کرینگے اور اگلی دفعہ جواب دینگے۔ آپ اُسے تحقیق کرنا بھی سکھا سکتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اُسے سکھائیں کہ یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے فراہمکردہ مختلف تحقیقی مواد کو کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ اسطرح ایک ایسا وقت آئیگا جب وہ خود ہی اپنے سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لائق ہو جائیگا۔—اعما ۱۷:۱۱۔