کیا آپ دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں؟
۱ یہوواہ اپنے وفادار خادموں کی مدد کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ (۲-توا ۱۶:۹؛ یسع ۴۱:۱۰، ۱۳) یہوواہ کو ایک مہربان چرواہے سے تشبِیہ دیتے ہوئے یسعیاہ لکھتا ہے: ”وہ برّوں کو اپنے بازوؤں میں جمع کریگا اور اپنی بغل میں لیکر چلیگا اور اُنکو جو دودھ پلاتی ہیں آہستہ آہستہ لے جائیگا۔“ (یسع ۴۰:۱۱) آئیے چند ایسے طریقوں پر غور کریں جن سے ہم یہوواہ کی پُرمحبت فکرمندی کی نقل کر سکتے ہیں۔
۲ نئے لوگوں کی مدد کرنا: ہم نئے اشخاص کو حوصلہافزا رفاقت سے فائدہ اُٹھانے کی دعوت دیکر اُنکی مدد کر سکتے ہیں۔ (امثا ۱۳:۲۰) ایک بھائی اُس وقت کو یاد کرتا ہے جب اس نے کلیسیا کیساتھ رفاقت رکھنا شروع کی تو کیسے بہن بھائی اُس سے ملنے کیلئے آئے تھے۔ وہ کہتا ہے: ”کئی بار ایک خاندان نے مجھے اپنے خاندانی مطالعے میں شامل کِیا۔ میرے منادی شروع کرنے کے بعد ایک جوان پائنیر جوڑے نے مجھے باقاعدہ اپنے ساتھ پورا دن خدمتگزاری میں صرف کرنے کی دعوت دی۔ ہم ہمیشہ عمدہ روحانی باتچیت کِیا کرتے تھے۔“ اُس نے مزید بیان کِیا: ”گواہ بننے سے پہلے مَیں تفریح کی خاطر جمعہ اور ہفتہ کی رات گھر سے باہر گزارتا تھا۔ لیکن کلیسیائی بھائیوں کیساتھ وقت گزارنے سے میری رفاقت کی کمی بھی پوری ہوگئی۔“ کلیسیا کی پُرمحبت دلچسپی نے اس بھائی کی مدد کی کہ وہ ایمان میں مضبوط اور قائم رہ سکے۔ اب یہ بھائی بیتایل خاندان کے ایک رُکن کے طور پر کام کر رہا ہے۔—کل ۲:۶، ۷۔
۳ ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرنا: جب ہمارے بہنبھائی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہمارے پاس اُنکی مدد کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ کیا آپ عمررسیدہ یا بیمار پبلشروں کیساتھ ٹیلیفون پر گواہی دینے کا بندوبست بنا سکتے ہیں؟ کیا آپ اُنہیں اپنے بائبل مطالعے پر لیجا سکتے ہیں؟ اگر ممکن ہو تو کیا آپ اپنے بائبل طالبعلم کو ایسے بھائی یا بہن کے گھر پر لا سکتے ہیں؟ کیا ہم ایسے والدین کی جنکے بچے چھوٹے ہیں خدمتگزاری میں حصہ لیتے وقت مدد کر سکتے ہیں؟ کیا آپ شرمیلے پبلشروں کو اپنے ساتھ واپسی ملاقات یا خدمتگزاری کے کسی اَور حلقے میں کام کرنے کیلئے مدعو کر سکتے ہیں؟ اپنے بہنبھائیوں میں پُرمحبت دلچسپی ہمیں تحریک دیگی کہ ایسے طریقوں کی تلاش میں رہیں جن سے اُنکی حوصلہافزائی ہو سکتی ہے۔—روم ۱۴:۱۹۔
۴ جب ہم یہوواہ خدا کی اپنے خادموں کیلئے دکھائی جانے والی پُرمحبت فکرمندی کی نقل کرتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کو مضبوط کرتے، کلیسیا کے اندر محبت کو فروغ دیتے اور اپنے آسمانی باپ کیلئے جلال کا باعث بنتے ہیں۔—افس ۴:۱۶۔