تھیوکریٹک منسٹری سکول کا اعادہ
مندرجہذیل سوالات ہفتہ شروعاز اپریل ۲۶، ۲۰۰۴ کے دوران تھیوکریٹک منسٹری سکول میں زبانی اعادے کے تحت زیرِغور آئینگے۔ سکول اوورسئیر مارچ ۱ تا اپریل ۲۶، ۲۰۰۴ کے ہفتوں کی تفویضات میں پیش کئے جانے والے مواد پر مبنی ۳۰ منٹ کا اعادہ کریگا۔ [نوٹ: جن سوالوں کیساتھ کوئی حوالہ نہیں دیا گیا اُنکے جواب تلاش کرنے کیلئے آپکو خود تحقیق کرنی ہوگی۔]
گفتگو کی خوبی
۱. آپکی تقریر میں زور دینے کیلئے وقفہ کیا کردار ادا کرتا ہے؟ [ایچٹی ص. ۲۴ پ. ۲۶]
۲. ہمیں اپنے سامعین کی توجہ بائبل پر کیوں دلانی چاہئے؟ [ایچٹی ص. ۲۵ پ. ۱]
۳. صحیفائی آیات کو مؤثر طور پر متعارف کرانے کیلئے کونسے طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں؟ [ایچٹی ص. ۲۷ پ. ۱۰–ص. ۲۸ پ. ۱۶]
۴. براہِمہربانی یہ ظاہر کرنے کیلئے حزقیایل ۱۸:۴ استعمال کریں کہ ایک صحیفہ پڑھتے وقت درست الفاظ پر کیسے زور دیا جائے۔ [ایچٹی ص. ۳۰ پ. ۵]
۵. ہم اطلاق کیلئے کلیدی الفاظ کو مؤثر طور پر کیسے نمایاں کر سکتے ہیں؟ [ایچٹی ص. ۳۲ پ. ۱۸]
تفویض نمبر ۱
۶. روزانہ بائبل پڑھائی کا پروگرام نوجوانوں کیلئے کیسے قابلِقدر ہو سکتا ہے؟ (متی ۴:۴) [م۰۲ ۱۵/۳ ص. ۹ پ. ۶، ۷]
۷. پیدایش ۳۲:۲۴-۳۲ کی سرگزشت کے مطابق، ۹۷ سالہ یعقوب نے یہوواہ کی برکت حاصل کرنے کیلئے کیا کِیا اور اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ [م۰۲ ۱/۸ ص. ۲۹-۳۱]
۸. ”تمیز“ کیا ہے اور یہ کیسے ہمارے توازن کو بگڑنے اور غیرضروری تکلیف سے بچا سکتی ہے؟ (امثا ۱:۴) [م۰۲ ۱۵/۸ ص. ۲۱، ۲۲]
۹. بعض کن وجوہات کی بِنا پر مخصوصیت کرنے اور بپتسمہ لینے سے باز رہتے ہیں؟ [م۰۲ ۱/۴ ص. ۱۴ پ. ۲۱–ص. ۱۵پ. ۲۴]
۱۰. یہوواہ نے بیابان میں اسرائیلیوں کو ہفتوں بلکہ مہینوں من کیوں کھلایا اور ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (است ۸:۱۶) [م۰۲ ۱/۹ ص. ۳۰، ۳۱ پ. ۴، ۵]
ہفتہوار بائبل پڑھائی
۱۱. پیدایش ۳۷:۱۲-۱۷ کے مطابق، ہم یوسف اور یسوع کی روش کے مابین کونسی مماثلت پاتے ہیں؟ [ڈبلیو۸۷ ۱/۵ ص. ۱۲ پ. ۱۲]
۱۲. پیدایش ۴۲:۲۵-۳۵ کے بیان کے مطابق، یسوع کی دردمندی کے موازنے میں یوسف نے کیسی دردمندی ظاہر کی؟ [ڈبلیو۸۷ ۱/۵ ص. ۱۸ پ. ۱۰؛ ص. ۱۹ پ. ۱۷]
۱۳. آجکل نوکر جماعت کے ذریعے کی جانے والی فراہمیاں یوسف کے دنوں میں گندم کی تقسیم کے مماثل کیسے ہیں؟ (پید ۴۷:۲۱-۲۵)
۱۴. ”مَیں جو ہُوں سو مَیں ہُوں“ کہنے سے یہوواہ اپنے نام کی بابت کیا آشکارا کر رہا تھا؟ (خر ۳:۱۴، ۱۵)
۱۵. خروج ۱۶:۲، ۳ کے مطابق شکایت کرنے کے سلسلے میں کونسے دو فطری خطرات پائے جاتے ہیں؟ [ڈبلیو۹۳ ۱۵/۳ ص. ۲۰، ۲۱]