یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کِیا جا سکتا ہے
۱. بعضاوقات ہمیں کن احساسات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور کیوں؟
۱ آجکل یہوواہ کے قوانین اور اُصولوں کے مطابق چلنا ہی زندگی کی بہترین روش ہے اور یہ ہمیں ابدی مستقبل کے لئے اچھی بنیاد قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ (زبور ۱۹:۷-۱۱؛ ۱-تیم ۶:۱۹) تاہم، شیطان کی دُنیا ہمیں بہت زیادہ دباؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔ ہمارا ناکامل جسم بھی ہمارے لئے چیلنج پیش کرتا ہے۔ اپنی صحیفائی ذمہداریوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں شاید ہم کبھیکبھار حد سے زیادہ بوجھ محسوس کریں۔ (زبور ۴۰:۱۲؛ ۵۵:۱-۸) شاید ہم یہ سوچنے لگیں کہ کیا ہم یہوواہ کے تمام تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں۔ ایسے اوقات میں، کیا چیز ہمیں روحانی توازن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے؟
۲. ہم سے اپنے تقاضوں کے سلسلے میں یہوواہ حقبجانب کیوں ہے؟
۲ یہوواہ کے حکم سخت نہیں: یہوواہ کبھی بھی ہم سے غیرمعقول تقاضے نہیں کرتا۔ اُسکے حکم سخت نہیں بلکہ ہمارے فائدے کیلئے ہیں۔ (است ۱۰:۱۲، ۱۳؛ ۱-یوح ۵:۳) وہ ہماری انسانی کمزوریوں سے واقف ہے اور ”اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔“ (زبور ۱۰۳:۱۳، ۱۴) خدا مشفقانہ طور پر اُسکی خدمت بجا لانے کے سلسلے میں ہماری کوششوں کو قبول کرتا ہے خواہ یہ حالات کی وجہ سے محدود ہی کیوں نہ ہوں۔ (احبا ۵:۷، ۱۱؛ مر ۱۴:۸) وہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اپنا سارا بوجھ اُس پر ڈال دیں نیز وہ ہمیں یقیندہانی کراتا ہے کہ وہ ہمارے لئے وفادار رہنا ممکن بنائیگا۔—زبور ۵۵:۲۲؛ ۱-کر ۱۰:۱۳۔
۳. یہوواہ ہمیں صبر کرنے کیلئے تقویت کیسے بخشتا ہے؟
۳ صبر کی ضرورت: ایلیاہ، یرمیاہ اور پولس جیسے راستی برقرار رکھنے والوں کی بائبل سرگزشتیں صبر کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہیں۔ (عبر ۱۰:۳۶) یہوواہ نے اُنہیں مصیبت اور حوصلہشکنی کے ایّام میں سنبھالا۔ (۱-سلا ۱۹:۱۴-۱۸؛ یرم ۲۰:۷-۱۱؛ ۲-کر ۱:۸-۱۱) علاوہازیں جدید زمانے میں ہم اپنے بھائیوں کی وفاداری سے بھی تحریک پاتے ہیں۔ (۱-پطر ۵:۹) ایسی مثالوں پر غوروخوض ہمیں شکستہدل ہونے سے بچائیگا۔
۴. خدا کے وعدوں پر نظر جمائے رکھنا کیوں ضروری ہے؟
۴ خدا کے وعدوں پر اعتماد ”جان کا . . . لنگر ہے۔“ (عبر ۶:۱۹) اس چیز نے ابرہام اور سارہ کو یہوواہ کے کہنے پر اپنا گھربار چھوڑنے اور ’موعودہ مُلک میں پردیسیوں کے طور پر بودوباش کرنے‘ کی تحریک دی۔ اس نے موسیٰ کو سچی پرستش کیلئے دلیرانہ مؤقف اختیار کرنے کے قابل بنایا۔ اس نے یسوع کو سولی کی موت برداشت کرنے کی دلیری بخشی۔ (عبر ۱۱:۸-۱۰، ۱۳، ۲۴-۲۶؛ ۱۲:۲، ۳) راست نئی دُنیا کی بابت خدائی وعدے کو ذہن میں رکھنے سے ہمیں ثابتقدم رہنے میں مدد ملیگی۔—۲-پطر ۳:۱۱-۱۳۔
۵. ماضی کے اپنے وفادارانہ کاموں پر غور کرنا کیسے حوصلہافزا ثابت ہو سکتا ہے؟
۵ ماضی میں اپنی وفاداری، خودایثاری اور دلیری کی مثالوں کو یاد رکھنا بھی ہمیں اپنی خدمت کے سلسلے میں تقویت بخش سکتا ہے۔ (عبر ۱۰:۳۲-۳۴) یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں تو ہمیں دلوجان سے اُسکی خدمت بجالانے کی خوشی کا تجربہ ہوتا ہے۔—متی ۲۲:۳۷۔