فروتنی کا لباس پہنیں
۱ ایک نوعمر چرواہا یہوواہ پر توکل کرکے ایک طاقتور جنگی مرد کو شکست دیتا ہے۔ (۱-سمو ۱۷:۴۵-۴۷) ایک دولتمند آدمی صبر سے مصیبت برداشت کرتا ہے۔ (ایو ۱:۲۰-۲۲؛ ۲:۹، ۱۰) خدا کا بیٹا اپنی تعلیم کا سہرا اپنے باپ کو دیتا ہے۔ (یوح ۷:۱۵-۱۸؛ ۸:۲۸) ان تمام مثالوں میں فروتنی نے کلیدی کردار ادا کِیا تھا۔ اسی طرح آجکل بھی زندگی کی مختلف حالتوں میں فروتنی بہت ضروری ہے۔—کل ۳:۱۲۔
۲ منادی کے دوران: مسیحی خادموں کے طور پر، ہم فروتنی سے تمام لوگوں کو خوشخبری سناتے ہیں اور نسل، ثقافت یا پسمنظر کی بِنا پر تعصّب سے کام نہیں لیتے۔ (۱-کر ۹:۲۲، ۲۳) اگر کوئی سرکشی یا گستاخی سے بادشاہتی پیغام کو رد کر دیتا ہے تو ہم جواباً ایسا نہیں کرتے بلکہ صبر سے مستحق اشخاص کی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ (متی ۱۰:۱۱، ۱۴) دوسروں کو اپنے علم یا تعلیم سے متاثر کرنے کی بجائے ہم خدا کے کلام پر توجہ دلاتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ہماری کسی بھی بات سے زیادہ قائل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ (۱-کر ۲:۱-۵؛ عبر ۴:۱۲) یسوع کی نقل کرتے ہوئے ہم ساری عزتوجلال یہوواہ کو دیتے ہیں۔—مر ۱۰:۱۷، ۱۸۔
۳ کلیسیا میں: مسیحیوں کو ’فروتنی سے کمربستہ‘ ہونا چاہئے۔ (۱-پطر ۵:۵) اگر ہم دوسروں کو خود سے بہتر سمجھتے ہیں تو ہم اپنے بھائیوں سے اپنی خدمت کرانے کی بجائے اُن کی خدمت کرنے کے مختلف طریقے تلاش کریں گے۔ (یوح ۱۳:۱۲-۱۷؛ فل ۲:۳، ۴) ہم یہ خیال نہیں کریں گے کہ کنگڈم ہال کی صفائی جیسے کام میرے شایانِشان نہیں ہیں۔
۴ فروتنی ہمیں ’محبت سے ایک دوسرے کی برداشت‘ کرنے میں بھی مدد دیتی ہے اور یوں کلیسیا میں امن اور اتحاد فروغ پاتا ہے۔ (افس ۴:۱-۳) یہ ہمیں پیشواؤں کے تابع رہنے میں مدد دیتی ہے۔ (عبر ۱۳:۱۷) یہ ہمیں نصیحت یا تنبیہ کو قبول کرنے کی بھی تحریک دیتی ہے۔ (زبور ۱۴۱:۵) جب ہمیں کلیسیا میں کوئی شرف ملتا ہے تو فروتنی اس پر پورا اُترنے کیلئے یہوواہ پر توکل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ (۱-پطر ۴:۱۱) داؤد کی طرح، ہم مانتے ہیں کہ کامیابی کا انحصار انسانی صلاحیت کی بجائے خدا کی برکت پر ہے۔—۱-سمو ۱۷:۳۷۔
۵ خدا کے حضور: سب سے بڑھکر ہمیں ’خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے فروتنی سے رہنا چاہئے۔‘ (۱-پطر ۵:۶) اگر ہمیں صبرآزما حالات کا سامنا ہوتا ہے تو ہم بادشاہت کے ذریعے حاصل ہونے والے آرام کی آرزو کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم صبر سے یہوواہ کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ اپنے وقت پر تمام وعدے پورے کرے۔ (یعقو ۵:۷-۱۱) راستی برقرار رکھنے والے ایوب کی طرح ہماری اوّلین فکر بھی یہی ہے کہ ”[یہوواہ] کا نام مبارک ہو۔“—ایو ۱:۲۱۔
۶ دانیایل نبی نے ’اپنے خدا کے حضور عاجزی کی‘ جسکی وجہ سے اُسے خدا کی مقبولیت اور بہتیرے استحقاق حاصل ہوئے تھے۔ (دان ۱۰:۱۱، ۱۲) دُعا ہے کہ ہم بھی اسی طرح فروتنی کا لباس پہنیں کیونکہ ”دولت اور عزتوحیات [یہوواہ] کے خوف اور فروتنی کا اجر ہیں۔“—امثا ۲۲:۴۔