یہوواہ کی نیکی کی نقل کریں
۱ کیا ہم ایک پُرشکوہ غروبِآفتاب اور لذیذ کھانے سے لطفاندوز ہونے کے بعد تمام نیکی کے ماخذ، یہوواہ کی شکرگزاری کرنے کی تحریک نہیں پاتے؟ اُسکی نیکی ہمیں اُسکی نقل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ (زبور ۱۱۹:۶۶، ۶۸؛ افس ۵:۱) ہم نیکی جیسی صفت کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟
۲ بےایمانوں کیلئے: یہوواہ کی نیکی کی نقل کرنے کا ایک طریقہ اُن لوگوں کیلئے حقیقی فکرمندی دکھانا ہے جو ہمارے ہمایمان نہیں ہیں۔ (گل ۶:۱۰) عملی طریقوں سے نیکی ظاہر کرنا یہوواہ کے گواہوں اور ہمارے پیغام کی بابت لوگوں کے نظریے پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
۳ مثال کے طور پر، ایک کلینک کی انتظارگاہ میں ایک نوجوان پائنیر بھائی ایک عمررسیدہ خاتون کیساتھ بیٹھ گیا جو دوسرے لوگوں سے زیادہ بیمار دکھائی دے رہی تھی۔ جب ڈاکٹر کے پاس جانے کیلئے اُسکی باری آئی تو اُس نے اپنی باری اُس خاتون کو دیدی۔ ایک مرتبہ اُسکی ملاقات اُس خاتون سے ایک مارکیٹ میں ہوئی اور وہ بہت خوش ہوئی۔ اگرچہ وہ ماضی میں خوشخبری کو قبول نہیں کرتی تھی توبھی اُس نے کہا اب وہ سمجھ گئی ہے کہ یہوواہ کے گواہ اپنے پڑوسیوں سے واقعی محبت رکھتے ہیں۔ اُس کیساتھ ایک باقاعدہ بائبل مطالعہ شروع ہو گیا۔
۴ اپنے بھائیوں کیلئے: اپنے ہمایمانوں کی مدد کرنے سے بھی ہم یہوواہ کی نیکی کی نقل کرتے ہیں۔ کسی آفت یا مصیبت کے وقت اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے پہلے ہم ہی پہنچتے ہیں۔ جب ہم اجلاسوں کے لئے سواری کے سلسلے میں دوسروں کی مدد کرتے، ضعیف اور معذوروں سے ملنے جاتے اور کلیسیا میں ایسے لوگوں کے لئے اپنی محبت کو بڑھاتے ہیں جنہیں ہم زیادہ نہیں جانتے تو ہم ایسا ہی جذبہ دکھاتے ہیں۔—۲-کر ۶:۱۱-۱۳؛ عبر ۱۳:۱۶۔
۵ یہوواہ ایک اَور طریقے سے بھی اپنی نیکی ظاہر کرتا ہے کیونکہ وہ ”معاف کرنے کو تیار ہے۔“ (زبور ۸۶:۵) اُسکی نقل میں دوسروں کو معاف کرنے سے ہم بھی نیکی کیلئے اپنی محبت ظاہر کر سکتے ہیں۔ (افس ۴:۳۲) اِس سے ساتھی ایمانداروں کیساتھ ہماری رفاقت ’اچھی اور خوشگوار‘ ہو جاتی ہے۔—زبور ۱۳۳:۱-۳۔
۶ ہماری دُعا ہے کہ یہوواہ کی بےپناہ نیکی ہمیں اُس کی ستائش کرنے اور خوشی سے مسرور رہنے میں مدد دے۔ نیز خدا کرے کہ یہ ہمیں اپنے سب کاموں میں اُس کی نیکی کی نقل کرنے کے لئے کوشاں رہنے کی تحریک دے۔—زبور ۱۴۵:۷؛ یرم ۳۱:۱۲۔