خوشخبری ہمارے سپرد ہے
۱ ہم کتنے متشرف ہیں کہ خدا کی خوشخبری ہمارے سپرد ہے! (۱-تھس ۲:۴) شاید بعض اس اثرآفرین پیغام کو رد کر دیں توبھی خلوصدل اشخاص خوشگوار خوشبو کی طرح اِس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ (۲-کر ۲:۱۴-۱۶) خوشخبری کو قبول کرنے اور اس کی تعمیل کرنے والوں کے لئے یہ باعثِنجات ہے۔ (۲-تھس ۱:۸) ہمیں اس امانت کی حفاظت کیسے کرنی چاہئے؟
۲ یسوع اور رسول: یسوع نے خوشخبری سنانے کو پہلے درجے پر رکھا۔ (لو ۴:۱۸، ۴۳) تھکاوٹ اور بھوک کے باوجود، لوگوں کے لئے اُس کی محبت اور پیغام کے لئے اس کی قدردانی نے اسے دوسروں کو اِس میں شریک کرنے کی تحریک دی۔ (مر ۶:۳۰-۳۴) اس نے بادشاہتی منادی کے کام کی اہمیت کو اپنے کردار اور گفتار سے اپنے شاگردوں کے ذہننشین کِیا۔—متی ۲۸:۱۸-۲۰؛ مر ۱۳:۱۰۔
۳ یسوع کی تقلید میں، رسولوں نے سرگرمی سے بادشاہتی پیغام کا اعلان کِیا۔ وہ مارپیٹ کا نشانہ بننے اور منادی بند کرنے کی تاکید کے باوجود ”خوشخبری سنانے سے کہ یسوؔع ہی مسیح ہے باز نہ آئے۔“ (اعما ۵:۴۰-۴۲) پولس رسول نے اس کام میں انتھک محنت کی۔ (۱-کر ۱۵:۹، ۱۰؛ کل ۱:۲۹) اس نے خوشخبری سنانے کے شرف کو ساتھی انسانوں کے مقروض ہونے سے تشبِیہ دی اور وہ اس کی ادائیگی کے لئے ذاتی آرام کو قربان کرنے کو تیار تھا۔—اعما ۲۰:۲۴؛ روم ۱:۱۴-۱۶۔
۴ آجکل ہمارا شرف: اپنے مُقدس فرائض کی ادائیگی کے لئے قدردانی ہمیں اپنے منادی کے کام کو وسیع کرنے کی تحریک دیگی۔ (روم ۱۵:۱۶) ایڈورڈ، وہیلچیئر پر ایک ہوٹل کے دروازے پر بیٹھ کر مہمانوں سے اپنے ایمان کی بابت باتچیت کرتا تھا۔ تاہم اپنے کام کو وسیع کرنے کیلئے اس نے ایک پکاَپ ٹرک پر ایک خاص کیبن بنوایا اور اس گاڑی کی بدولت اس نے کئی سال تک پائنیر خدمت کی اور ہزاروں میل کا سفر کِیا۔ ایڈورڈ کی مانند، آجکل بہتیرے اشخاص نے خوشخبری پھیلانے کے کام میں زیادہ حصہ لینے کیلئے اپنے حالات میں ردوبدل پیدا کِیا ہے۔
۵ یسوع اور رسولوں کی نقل میں ہمیں بھی آجکل اپنی زندگیوں میں منادی کے اِس کام کو ہمیشہ پہلے درجے پر رکھنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے، ہم لوگوں کیلئے اپنی محبت اور اپنے سپرد خوشخبری کیلئے اپنی قدردانی کا اظہار کرتے ہیں۔