سوالی بکس
▪ ہمیں قیدیوں کو گواہی دیتے وقت کونسی احتیاط برتنی چاہئے؟
پوری دُنیا میں کمازکم ۸۰ لاکھ لوگ قید میں ہیں جن میں سے کچھ خوشخبری میں دلچسپی دکھاتے ہیں۔ (۱-تیم ۲:۴) ایک برانچ کو ہر ماہ قیدیوں اور اُن کے خاندانوں کی طرف سے تقریباً ۱۴۰۰ خط موصول ہوتے ہیں جن میں اکثر لٹریچر یا ذاتی ملاقات کی درخواست کی جاتی ہے۔ اگرچہ بعض قیدی سچی دلچسپی دکھاتے ہیں توبھی تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض خدا کے لوگوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے جھوٹی دلچسپی دکھاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، سب کو قیدیوں میں گواہی دیتے وقت مندرجہذیل احتیاطی تدابیر کی پابندی کرنی چاہئے۔
بعض حالتوں میں قیدیوں کو خطوط کے ذریعے گواہی دی گئی ہے۔ اس بات پر ازحد زور دیا جاتا ہے کہ خواہ اسکا مقصد روحانی مدد کرنا ہی کیوں نہ ہو توبھی بہنوں کو مرد قیدیوں سے خطوکتابت نہیں کرنی چاہئے۔ صرف لائق بھائیوں کو ہی ایسا کرنا چاہئے۔ لائق بہنوں کو صرف اُن خاتون قیدیوں کیساتھ خطوکتابت کرنی چاہئے جو بائبل سچائی میں مخلصانہ دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں۔ قیدیوں کو پیسے یا کوئی اَور تحائف نہیں بھیجے جانے چاہئیں اگرچہ وہ انکی درخواست کر سکتے ہیں۔
جب کوئی قیدی دلچسپی دکھاتا ہے تو اُسکا نام اور پتہ اُس کلیسیا کے حوالے کر دینا چاہئے جسکے علاقے میں وہ قیدخانہ واقع ہے۔ عموماً وہاں کے لائق بھائی یہ جانتے ہونگے کہ مختلف حالتوں میں کیا لائحۂعمل اختیار کِیا جانا چاہئے۔ اگر کلیسیا کا پتہ نہ ہو تو معلومات برانچ دفتر بھیج دینی چاہئیں۔
مقرر بھائیوں کا قیدیوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنا قابلِاعتراض نہیں تاکہ زیادہ قیدی ایک وقت میں مطالعہ کر سکیں۔ تاہم، ایسی تقریبات جن میں پبلشر قیدیوں کیساتھ آزادانہ میلجول رکھیں جیل میں منعقد نہیں کی جانی چاہئیں۔ مزیدبرآں، پبلشروں کے لئے اکثر جیل میں قیدیوں کے ساتھ بِلاامتیاز قریبی رفاقت رکھنا اچھا نہیں ہوگا۔
دُعا ہے کہ ہم قیدیوں کو خوشخبری سناتے ہوئے ”سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بےآزار“ بنیں۔—متی ۱۰:۱۶۔