”مَیں وقت کیسے نکال سکتا ہوں؟“
۱ ہم سب یہی شکایت کرتے ہیں کہ ہماری مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ ایک کہاوت ہے کہ وقت ہمارے اثاثوں میں نہایت بیشقیمت اور عارضی ہے۔ پس ہم خدا کے کلام کی پڑھائی اور مطالعے جیسی نہایت اہم باتوں کیلئے وقت کیسے نکال سکتے ہیں؟—فل ۱:۱۰۔
۲ اس کی کُنجی زیادہ وقت کی تلاش کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ جو وقت ہمارے پاس ہے اُس میں ہم کرنا کیا چاہتے ہیں۔ ہم سب کے پاس ہفتے میں ۱۶۸ گھنٹے ہوتے ہیں جن میں سے ہم تقریباً ۱۰۰ گھنٹے سونے اور کام کرنے میں صرف کر سکتے ہیں۔ پس ہم باقی گھنٹوں کو مفید طریقے سے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ افسیوں ۵:۱۵-۱۷ مشورہ دیتی ہے کہ ہم ”نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانند [چلیں]۔ اور وقت کو غنیمت [جانکر] . . . [یہوواہ] کی مرضی کو [سمجھیں]۔“ یہ ان کاموں کو کرنے کیلئے ہر موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے جنہیں یہوواہ لازمی قرار دیتا ہے۔
۳ یسوع نے ہمارے زمانے کا موازنہ نوح کے دنوں سے کِیا۔ (لو ۱۷:۲۶، ۲۷) اُس وقت لوگ زندگی کے کاموں میں مصروف تھے۔ تاہم، نوح نے ایک بہت بڑی کشتی بنانے اور منادی کرنے کیلئے وقت نکالا۔ (عبر ۱۱:۷؛ ۲-پطر ۲:۵) کیسے؟ خدا کی مرضی کو پہلا درجہ دینے اور کاموں کو ’ویسے‘ ہی کرنے سے جیسا اس نے حکم دیا تھا۔—پید ۶:۲۲۔
۴ کس چیز کو پہلا درجہ دینا چاہئے؟ یسوع نے کہا: ”آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہیگا بلکہ ہر بات سے جو [یہوواہ] کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“ (متی ۴:۴) ہم ہر ہفتے روحانی ”خوراک وقت پر“ حاصل کرتے ہیں۔ (لو ۱۲:۴۲) اگر ہم نے واقعی اس سے فائدہ اُٹھانا ہے تو یہ بات اسے ذہننشین کرنے کیلئے باقاعدہ ذاتی پڑھائی اور مطالعے کا تقاضا کرتی ہے۔ روحانی خوراک کیلئے شکرگزار ہونے کی وجہ سے ہم اسے فاسٹ فوڈ کی طرح نہیں کھاتے کہ مواد کا جلدیجلدی سے سرسری سا جائزہ لے لیا جیسے کوئی شخص جلدبازی میں جسمانی کھانا کھاتا ہے۔ اس کی بجائے، موزوں قدردانی ہمیں مطالعہ کرنے اور روحانی باتوں سے محظوظ ہونے کیلئے وقت نکالنے کی تحریک دیتی ہے۔
۵ روحانی خوراک کھانا ہمیشہ کی زندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ (یوح ۱۷:۳) یہ ہمارے روزانہ کے شیڈول میں اوّلین مقام کی مستحق ہے۔ کیا ہم ہر روز بائبل پڑھائی کرنے اور مسیحی اجلاسوں کی تیاری کرنے کیلئے گنجائش پیدا کر سکتے ہیں؟ جیہاں، ہم کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم خدا کو جاننے اور اسکی مرضی پر چلنے کی بدولت ”بڑا اَجر“ حاصل کرینگے۔—زبور ۱۹:۷-۱۱۔