تفریح کو اُسکی جگہ پر رکھیں
۱ ان پُرآشوب دنوں میں ہمیں وقتاًفوقتاً معمول میں تبدیلی لانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ کسی حد تک تفریح مناسب ہوتی ہے۔ تاہم، تفریح اور سماجی سرگرمیوں میں حد سے زیادہ وقت صرف کرنا کسی شخص کو روحانی کاموں میں کم سے کم وقت صرف کرنے کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ ہمیں تفریح کو اُس کی جائز جگہ پر رکھنا چاہئے۔ (متی ۵:۳) یہ کیسے ممکن ہے؟ افس ۵:۱۵-۱۷ میں پائی جانے والی ہدایت کے مطابق عمل کرنے سے ایسا کِیا جا سکتا ہے۔
۲ حدود مقرر کریں: پولس نے مسیحیوں کو لکھا ”غور سے دیکھو“ کہ آیا دانائی سے چلتے ہو۔ تفریح کی حد مقرر کرنے کیلئے اعتدال اور ضبطِنفس کی ضرورت ہے۔ اپنے فارغ وقت کو استعمال کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ سوچبچار کریں۔ تفریح کو ایک مفید مقصد انجام دینا چاہئے اس سے ہمیں یہ احساس نہیں ہونا چاہئے کہ ہم نے وقت ضائع کِیا ہے اور یہ ہمارے لئے تھکاوٹ کا باعث بنی ہے۔ اگر تفریح کے بعد ہم کھوکھلاپن، غیرمطمئن اور کسی حد تک خود کو قصوروار پاتے ہیں تو یہ اس بات کی نشاندہی کریگا کہ ہمیں اپنے وقت کے استعمال میں ردوبدل کرنے کی ضرورت ہے۔
۳ مستقل مزاج بنیں: پولس نے تاکید کی ”وقت کو غنیمت جانو،“ زندگی کی سب سے اہم چیز ”نادان“ بننے سے بچنا ہے۔ مخصوصشُدہ مسیحی اپنی زندگیاں تفریح پر مرکوز نہیں رکھ سکتے۔ اگرچہ آراموسکون ہمیں جسمانی طور پر تازہدم کر سکتا ہے لیکن روحانی توانائی کا ماخذ یہوواہ کی سرگرم قوت ہے۔ (یسع ۴۰:۲۹-۳۱) ہم تفریح کی بجائے تھیوکریٹک کارگزاریوں—بائبل مطالعے، اجلاسوں پر حاضری، میدانی خدمتگزاری میں حصہ لینے سے اُسکی روح حاصل کرتے ہیں۔
۴ ترجیحات قائم کریں: پولس نے مسیحیوں کو ہدایت دی کہ ”[یہوواہ] کی مرضی کو سمجھو کہ کیا ہے۔“ یسوع نے خیال پیش کِیا تھا کہ خدا کی بادشاہت کو ہماری زندگیوں کا محور ہونا چاہئے اور ہمیں اسے زندگی میں ترجیح دینی چاہئے۔ (متی ۶:۳۳) یہ اشد ضروری ہے کہ ہم یہوواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے موزوں چیزوں کو پہلا درجہ دیں۔ اسکے بعد تفریح کو اُسکی جائز جگہ پر رکھا جا سکتا ہے۔ جب ایسا کِیا جاتا ہے تو اِسکا بھرپور اثر ہوگا اور ہم زیادہ خوش ہونگے۔—واعظ ۵:۱۲۔