کیا آپ زیادہ ضرورت والے علاقے میں خدمت کر سکتے ہیں؟
۱ کیا آپ نے کبھی ایسی جگہ جاکر خدمت کرنے کی بابت سوچا ہے جہاں بادشاہتی منادوں کی زیادہ ضرورت ہے؟ اگر آپکو ”پار اُتر کر . . . آ اور ہماری مدد کر“ کی دعوت دی جائے تو کیا آپ پولس رسول کی طرح کا جوابیعمل دکھائینگے؟ (اعما ۱۶:۹، ۱۰) بہت سی کلیسیاؤں میں علاقے کا احاطہ کرنے کے لئے روحانی طور پر پُختہ خاندانوں، پائنیروں اور پیشوائی کرنے کیلئے لائق بزرگوں اور خادموں کی ضرورت ہے۔ علاقہ بڑے دیہی علاقہجات میں چھوٹےچھوٹے دیہاتوں یا قصبوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ قریبترین کنگڈم ہال بھی میلوں دُور ہو سکتا ہے۔ دُنیاوی کام کی کمیابی ہو سکتی ہے۔ موسم بھی سخت ہو سکتا ہے۔ کیا آپ ایسا چیلنج قبول کرنے کیلئے تیار ہونگے؟ اس میں کامیابی حاصل کرنا کیسے ممکن ہے؟
۲ ایمان اور بھروسے کی ضرورت: خدا کی ہدایت سے ابرام اپنے آبائی وطن اُور کو چھوڑ کر ۱،۰۰۰ کلومیٹر کا سفر کر کے اپنی بیوی، بھتیجے اور بوڑھے باپ تارح کو لیکر حاران کے ملک میں جا بسا۔ (پید ۱۱:۳۱، ۳۲؛ نحم ۹:۷) یہوواہ نے تارح کی موت کے بعد، ابرام کو ۷۵ سال کی عمر میں حاران اور اپنے رشتےداروں کو چھوڑ کر اُس ملک میں جانے کا حکم دیا جو خدا اُسے دکھائیگا۔ ابرام، ساری اور لوط ”روانہ ہوئے۔“ (پید ۱۲:۱، ۴، ۵) یقیناً ابرام ایسے علاقے میں جانے کیلئے روانہ نہیں ہوا تھا جہاں خادموں کی زیادہ ضرورت تھی۔ لیکن اُس منتقلی میں کچھ نہ کچھ تو درکار تھا۔ کیا؟
۳ ایسی ذمہداری اُٹھانے کے لئے ابرام کو ایمان اور بھروسے کی ضرورت پڑی تھی۔ اُسکی سوچ اور طرزِزندگی کو تبدیل ہونا تھا۔ اُسے اپنے رشتےداروں کے تحفظ سے محروم ہونا پڑا تھا۔ لیکن اُس نے اپنی اور اپنے گھرانے کی دیکھبھال کیلئے یہوواہ پر بھروسا رکھا۔ آجکل بہتیروں نے یہوواہ پر ایسے بھروسے کو ظاہر کِیا ہے۔
۴ قلیلاُلمدت تفویضات: کیا آپ غیرتفویضشُدہ علاقے میں کام کرنے سے حاصل ہونے والی عمدہ برکات سے لطفاندوز ہوئے ہیں؟ اس سال ۱۰ پائنیروں نے ملتان اور حیدرآباد کے گردونواح میں غیرتفویضشُدہ علاقوں کا احاطہ کِیا۔ اس کام کیلئے انہیں طویل سفر کرنا پڑا تھا۔ کیا اُنکی کوشش سُودمند تھی؟
۵ ایک بھائی جو کراچی سے حیدرآباد اور سندھ کے ایسے علاقے میں گیا جہاں کبھیکبھار ہی کام کِیا جاتا ہے وہ یوں بیان کرتا ہے: ”منادی کے دورے کے بعد عام تاثر یہ ہے کہ کھیت ’کٹائی کیلئے پک گئے‘ ہیں اور رضاکاروں کو وہاں باقاعدہ جانے اور اُن میں دلچسپی بڑھانے کی ازحد ضرورت ہے۔ ہر جگہ لوگوں نے اشتیاق سے سنا اور ہمارے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے۔ مقامی بہن بھائیوں کے مطابق اُنہوں نے مہمان بہن بھائیوں کے ساتھ کام کرنے سے بہت فائدہ اُٹھایا ہے۔ ہم نے ٹنڈوجام کیلئے حیدرآباد کے مشرق کی طرف تقریباً ۲۴ کلومیٹر کا سفر کِیا۔ ہمیں ملنے والے بہت سے نوجوانوں نے خبر نمبر ۳۶ میں درج تقاضا بروشر کی درخواستیں فوراً پُر کر کے ہمیں دے دیں جنہیں ہم نے تین ہفتے بعد اُن تک پہنچا دیا۔ اس دلچسپی کیلئے فکر دکھائی گئی ہے کیونکہ ایسی اثرپذیر روح ظاہر کی گئی تھی۔“ ہم سب اس بات سے متفق ہیں کہ زیادہ ضرورت کی جگہ پر قلیلاُلمدت کیلئے خدمت کرنے سے بھی خدمتگزاری کیلئے اُنکی قدردانی بڑھی ہے۔ جن اشخاص نے ایسا کِیا ہے اُن سے باتچیت کرکے دیکھیں۔ تو آپ جان جائینگے کہ اُنہوں نے روحانی طور پر تقویت پائی اور موقع ملنے پر دوبارہ بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔
۶ جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں خدمت کرنے کی عارضی تفویض قبول کرنے سے ایک اَور مقصد بھی سرانجام پاتا ہے۔ ایسا کرنے والے اشخاص ایسی مفید معلومات حاصل کر سکتے ہیں جس سے اُنکی مدد ہوگی کہ وہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں جاکر رہنے کی ”لاگت کا حساب“ لگا سکیں۔—لو ۱۴:۲۸۔
۷ یہوواہ کا عزمِمُصمم ہے کہ خاتمہ آنے سے پہلے ”خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہو۔“ (متی ۲۴:۱۴) اس بات کے پیشنظر، اگر ممکن ہے تو کیا آپ جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں منتقل ہونے کیلئے رضامند ہونگے؟ بہت سے علاقوں کیلئے ایسی ضرورت پائی جاتی ہے۔
۸ جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں منتقل ہونا: کیا آپ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں؟ کیا آپ کی کوئی باقاعدہ آمدنی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا آپ ذاتی کاروبار کر سکتے ہیں؟ نیز کیا آپ دوسرے علاقہ میں منتقل ہونے سے ٹیلیفون یا کمپیوٹر کے ذریعے اس کاروبار کو جاری رکھ سکتے ہیں؟ اگر آپ خود منتقل نہیں ہو سکتے تو کیا آپ خاندان کے کسی فرد کی کسی اَور جگہ جا کر خدمت کرنے کیلئے مدد کر سکتے ہیں؟
۹ دُعائیہ سوچبچار کے بعد اگر آپ جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں منتقل ہونے کے چیلنج پر پورا اُترنے کیلئے تیار ہیں تو اپنے خاندان اور اپنی کلیسیا کے بزرگوں سے بات کریں۔ پھر خط لکھ کر بزرگوں کو دے دیں تاکہ وہ اسے برانچ آفس کو بھیجنے سے پہلے اپنے مشاہدات اور سفارشات شامل کر سکیں۔
۱۰ آپکو اپنے خط میں کیا کچھ لکھنا چاہئے؟ اپنی عمر، بپتسمہ کی تاریخ، کلیسیا میں ذمہداریاں، ازدواجی حیثیت اور آیا آپ کے چھوٹے بچے ہیں۔ اپنی ذاتی ضروریات کے پیشِنظر، اپنی ترجیحات کے مطابق اُن صوبوں کا نام بتائیں جن میں آپ خدمت کرنا پسند کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا آپ گرم مرطوب آبوہوا والی جگہ پر رہ سکتے ہیں؟ کیا آپ سرد موسم برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا آپ پہاڑی مقامات پر رہ سکتے ہیں؟ کیا آپ کوئی دوسری زبان بول سکتے ہیں؟
۱۱ کیا آپ میں گرمجوشی اور پیشقدمی کا جذبہ پایا جاتا ہے؟ کیا زیادہ ضرورت والے علاقے میں خدمت کرنے کیلئے آپ کے حالات اجازت دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر دیکھیں کہ کیسے یہوواہ اپنے اُوپر بھروسا رکھنے اور خودایثاری کی روح ظاہر کرنے والے اشخاص پر مسلسل برکات نچھاور کرتا ہے!—زبور ۳۴:۸؛ ملا ۳:۱۰۔