ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں!
۱ گھرباگھر کی منادی کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہم خود بن سکتے ہیں۔ اپنی قابلیت کے سلسلے میں نااہلیت کا احساس باہر جا کر ”سب آدمیوں“ کو سچائی سنانے میں ہمارے لئے ہچکچاہٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ (۱-تیم ۲:۴) لیکن ہمیں خوشخبری کی منادی کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ کیوں نہیں؟
۲ یہ یہوواہ کا پیغام ہے: یہوواہ نے بائبل کے ذریعے اپنا کلام پہنچایا ہے۔ جب ہم دوسروں کے پاس اِس پیغام کو لیجاتے ہیں تو ہم اپنے خیالات کی بجائے اُسکے خیالات دوسروں تک پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ (روم ۱۰:۱۳-۱۵) جب لوگ بادشاہتی پیغام کو رد کر دیتے ہیں تو درحقیقت وہ یہوواہ کو رد کر رہے ہوتے ہیں۔ اِسکے باوجود، ہم بےحوصلہ نہیں ہوتے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ پیغام اس دُنیا کی حالتوں میں تبدیلی کے متمنی اور اپنی روحانی ضرورت سے باخبر اشخاص کے دلوں پر ضرور اثر کریگا۔—حز ۹:۴؛ متی ۵:۳، ۶۔
۳ یہوواہ لوگوں کو کھینچ لیتا ہے: جس شخص نے ماضی میں ہماری بات سننے سے انکار کِیا تھا اب وہ اپنے حالات کی تبدیلی اور دل کی نرمی کے باعث جوابیعمل دکھا سکتا ہے۔ یہوواہ اپنی کرمفرمائی اُس پر ظاہر کرکے ’اُسے اپنی طرف کھینچ‘ سکتا ہے۔ (یوح ۶:۴۴، ۶۵) جب ایسے واقع ہوتا ہے تو ہم یہوواہ کی طرف سے استعمال ہونے کیلئے تیار رہنا اور ایسے اشخاص کی تلاش کرنے میں ملکوتی ہدایت کی اطاعت کرنا چاہتے ہیں۔—مکا ۱۴:۶۔
۴ خدا ہمیں اپنی روح دیتا ہے: روحالقدس ہمیں ”[یہوواہ] کے بھروسے پر دلیری سے کلام“ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ (اعما ۱۴:۱-۳) خدمتگزاری میں ایسی طاقتور مدد کی فراہمی کے پیشِنظر ہم کبھی بھی اپنے پڑوسیوں، ساتھیکارکنوں، ہمجماعتوں، رشتہداروں، تعلیمیافتہ یا امیر لوگوں کو سچائی سنانے سے نہیں ہچکچائینگے۔
۵ یسوع نے ہمیں طریقہ سکھایا:یسوع نے خیالآفرین سوالوں، عملی تمثیلوں اور صحیفائی استدلال کا استعمال کِیا۔ اُس نے سچائی کو سادہ، دلچسپ اور اپنے دل سے بیان کِیا۔ یہ آج بھی عمدہ طریقہ ہے۔ (۱-کر ۴:۱۷) ہم مختلف حالات میں منادی کرتے ہیں لیکن اثرآفرین بادشاہتی پیغام ایک ہی ہے۔
۶ ہمیں یہوواہ کی طرف سے لوگوں کی خاص اور عمدہ طریقے سے مدد کرنے کا استحقاق حاصل ہے۔ پس ہمیں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے! دُعا ہے کہ ہم دلیر بنیں اور یہوواہ ”ہم پر کلام کا دروازہ کھولے“ تاکہ ہم دوسروں کو خوشخبری سنا سکیں۔—کل ۴:۲-۴۔