اپنے طالبعلم کے دل تک پہنچیں
۱ یسوع نے آسمان پر جانے سے پہلے اپنے شاگردوں سے کہا تھا کہ وہ دوسروں کو اُن سب باتوں پر ”عمل“ کرنے کی تعلیم دیں جنکا اس نے حکم دیا تھا۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) ایک شخص مسیح کے احکام پر صرف اُسی صورت میں ”عمل“ کر سکتا ہے جب یہ معلومات اسکے دل تک پہنچیں گی۔ (زبور ۱۱۹:۱۱۲) آپ جس شخص کیساتھ بائبل کا مطالعہ کر رہے ہیں اُسکے دل کو عمل کرنے کی تحریک کیسے دے سکتے ہیں؟
۲ یہوواہ کی راہنمائی کیلئے دُعا کریں: شاگرد بنانا خدا کا کام ہے۔ کامیابی کیلئے ہماری صلاحیتوں کی بجائے اُسکی برکت لازمی ہے۔ (اعما ۱۶:۱۴؛ ۱-کر ۳:۷) لہٰذا، دوسروں کو سچائی کی تعلیم دینے میں یہوواہ کی مدد کیلئے دُعا کرنا ضروری ہے۔—یسع ۵۰:۴۔
۳ طالبعلم کے عقائد معلوم کریں: لوگوں کے عقائد اور ان کی وجہ جاننے سے ہمیں اتنی سمجھ ضرور حاصل ہو جاتی ہے کہ اُنکے دلوں تک پہنچنے کیلئے کیا کہنا چاہئے۔ کوئی طالبعلم کسی عقیدے پر کیوں ایمان رکھتا ہے؟ کس بات نے اُسے کوئی مخصوص ایمان رکھنے کیلئے قائل کِیا ہے؟ ایسا علم ہمیں فہم کیساتھ باتچیت کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔—اعما ۱۷:۲۲، ۲۳۔
۴ منطقی اور صحیفائی گفتگو کریں: طالبعلم کیلئے سچائی کا قابلِفہم ہونا ضروری ہے۔ (اعما ۱۷:۲۴-۳۱) ہمیں اپنی اُمید کی ٹھوس وجہ فراہم کرنی چاہئے۔ (۱-پطر ۳:۱۵) تاہم، ہمیشہ مہربانی اور تحمل کیساتھ ایسا کریں۔
۵ تمثیلوں سے مؤثر بنائیں:تمثیلیں نہ صرف طالبعلم کیلئے سمجھنا آسان بناتی ہیں بلکہ جذبات کو بھی اُبھارتی ہیں۔ یہ دلودماغ دونوں پر اثر کرتی ہیں۔ یسوع اکثر انہیں استعمال کرتا تھا۔ (مر ۴:۳۳، ۳۴) واقعی، تمثیل کے مؤثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ زیرِبحث نکتے کے مطابق اور طالبعلم کی زندگی سے تعلق رکھتی ہو۔
۶ سچائی قبول کرنے کے فوائد اُجاگر کریں: لوگ اکثر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جوکچھ وہ سیکھ رہے ہیں اُس پر عمل کرنے سے انہیں کیا فوائد حاصل ہونگے۔ طالبعلم کی مدد کریں کہ ۲-تیمتھیس ۳:۱۴-۱۷ میں درج پولس کے الفاظ کی صداقت پر غور کرے۔
۷ اگر بعض لوگ آپکی تعلیم کیلئے مثبت جوابیعمل نہیں دکھاتے تو بےحوصلہ نہ ہوں۔ سب کے دل اثرپزیر نہیں ہوتے۔ (متی ۱۳:۱۵) تاہم، بعض لوگ ایمان لے آتے ہیں۔ (اعما ۱۷:۳۲-۳۴) دُعا ہے کہ خوشخبری کیساتھ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کے سلسلے میں آپکی کوششیں یسوع کے احکام قبول کرنے اور اُن پر ”عمل“ کرنے میں بہتیرے لوگوں کیلئے مددگار ثابت ہوں۔