اپنے بائبل طالبعلموں کی بپتسمے کے لائق ٹھہرنے کیلئے مدد کرنا
یہ کام (۱) باقاعدہ اور ترقیپسندانہ گھریلو بائبل مطالعہ کرانے سے، (۲) پانچ کلیسیائی اجلاسوں پر باقاعدہ حاضر ہونے اور ان میں حصہ لینے کی حوصلہافزائی کرنے سے اور (۳) جیسے ہی وہ روحانی طور پر لائق ٹھہرتے ہیں تو میدانی خدمت میں بھرپور حصہ لینے کیلئے انکی تربیت اور مدد کرنے سے نہایت مؤثر طریقے سے کِیا جا سکتا ہے۔
یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو شاگرد بنانے، انکو بپتسمہ دینے اور انہیں اُس کے حکموں کی تعمیل کرنے کی تعلیم دینے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم آج تک نافذالعمل ہے جیسا کہ ان الفاظ سے ظاہر ہے: ”دیکھو مَیں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“—متی ۲۸:۱۹، ۲۰۔
شاگرد وہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے کی تعلیمات قبول کرتا اور سرگرمی سے اسے فروغ دیتا ہے۔ لہٰذا بپتسمہ لینے والوں کو نہ صرف بائبل سچائی کا بنیادی علم حاصل کرنا بلکہ پہلے ہی سے اپنی طرزِزندگی سے اس بات کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ وہ یہوواہ کے راست معیاروں کو سمجھتے اور ان پر پورا اُتر رہے ہیں۔ مزیدبرآں، وہ یسوع مسیح کے شاگردوں کے طور پر یہوواہ کی دیدنی تنظیم اور ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے ذریعے عمل میں لائے گئے یسوع مسیح کے اختیار کو تسلیم کرتے ہیں۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷؛ اعما ۱:۸) انہوں نے اپنے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، خود کو اس کام کے لئے یہوواہ کے لوگوں کیساتھ متحد کر لیا ہے جس کا آغاز یسوع نے کِیا اور اپنے پیروکاروں کو یہ کام سونپا تھا۔ (لو ۸:۱؛ متی ۲۴:۱۴) ان شاگردوں کا پانی سے بپتسمہ لینا یہوواہ خدا کے لئے اُن کی پورے دلوجان سے مخصوصیت کی ظاہری علامت ہے۔—مقابلہ کریں زبور ۴۰:۸۔
ایک خلوصدل طالبعلم کو علم کی کتاب کا مطالعہ کرنے سے اتنا علم حاصل ہونا چاہئے تاکہ وہ خدا کیلئے مخصوصیت کرنے اور بپتسمہ لینے کے لائق ٹھہر سکے۔ (مقابلہ کریں اعمال ۸:۲۷-۳۹؛ ۱۶:۲۵-۳۴۔) تاہم، کسی شخص کو مخصوصیت کی تحریک پانے سے پہلے، یہوواہ کیلئے عقیدت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ (زبور ۷۳:۲۵-۲۸) مطالعے کے دوران یہوواہ کی خوبیوں کیلئے قدردانی کو بڑھانے کے مواقع تلاش کریں۔ خدا کیلئے اپنے گہرے احساسات کا اظہار کریں۔ طالبعلم کی مدد کریں کہ وہ یہوواہ کیساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرنے کیلئے سوچوبچار کرے۔ اگر وہ واقعی خدا کو جاننے اور اس سے محبت رکھنے لگتا ہے تو پھر وہ اس کی وفاداری سے خدمت کرے گا کیونکہ خدائی عقیدت کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم یہوواہ کی بابت ایک شخص کے طور پر کیسا محسوس کرتے ہیں۔—۱-تیم ۴:۷، ۸۔
طالبعلم کے دل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ (زبور ۱۱۹:۱۱؛ اعما ۱۶:۱۴؛ روم ۱۰:۱۰) سچائی اُس کی ذات کو کیسے متاثر کرتی ہے اسے یہ بات جاننے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ اس نے سیکھا ہے اسے کیسے عمل میں لانا چاہئے۔ (روم ۱۲:۲) کیا وہ ہر ہفتے پیش کی جانے والی سچائی پر واقعی یقین رکھتا ہے؟ (۱-تھس ۲:۱۳) اس مقصد کیلئے آپ قابلِفہم نظریاتی سوالات پوچھنے سے طالبعلم کے دل کی بات نکلوا سکتے ہیں، جیسے کہ: آپ اس کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ آپ اپنی ذاتی زندگی میں اس کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟ اس کے جوابات سے، آپ جان سکتے ہیں کہ اس کے دل تک پہنچنے کے لئے کہاں مدد کی زیادہ ضرورت ہے۔ (لو ۸:۱۵؛ سکول گائیڈبُک، صفحہ ۵۲، پیراگراف ۱۱ کا مطالعہ کریں۔) علم کی کتاب کے صفحہ ۱۷۲ اور ۱۷۴ پر تصویری عبارتیں پوچھتی ہیں: ”کیا آپ نے دُعا میں خدا کیلئے مخصوصیت کی ہے؟“ اور ”آپکو بپتسمہ لینے سے کون سی چیز روکتی ہے؟“ یہ طالبعلم کو مؤثر طور پر عمل کرنے کی تحریک دے سکتی ہیں۔
جب ایک غیربپتسمہیافتہ پبلشر بپتسمہ پانے کی خواہش کرتا ہے تو فروری ۱۹۹۶، مینارِنگہبانی، صفحہ ۲۷، پیراگراف ۹ میں خاکہ پیش کِیا گیا ہے۔ علم کی کتاب ایک شخص کو ”بپتسمہ پانے کے خواستگاروں کیلئے سوالات“ کا جواب دینے کے مقصد سے تحریر کی گئی ہے جنہیں بائبل کی بنیادی تعلیمات کے کتابچے میں بیان کِیا گیا ہے اور جس پر بزرگ اسکے ساتھ نظرثانی کرینگے۔ اگر آپ نے علم کی کتاب میں شائعشُدہ سوالات کے جواب پر زور دیا ہے تو طالبعلم کو بپتسمہ کی تیاری میں بزرگوں کے ساتھ سوالی سیشن کیلئے خوب لیس ہونا چاہئے۔ طالبعلم کو بائبل کی بنیادی تعلیمات کے کتابچے سے سوالات کے جوابات کی ہفتوں پہلے تعلیم دینا یا ان کی مشق کرانا یا انہیں یاد کرانا ضروری نہیں۔ بزرگوں کیساتھ باتچیت ان کے لئے امتحان پاس کرنا نہیں ہے۔ اسکی بجائے، اِس سے شفیق چرواہوں کو یہ دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے کہ آیا پانی کا بپتسمہ پانے کے لائق ٹھہرنے کیلئے اس طالبعلم کے دل میں کافی علم، سمجھ اور قدردانی موجود ہے۔ پھر وہ اس شخص کو لائق ٹھہرانے کیلئے ضروری مدد فراہم کرینگے۔