یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 12/‏00 ص.‏ 8
  • ساتھیوں کا دباؤ اور منادی کرنے کا شرف

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ساتھیوں کا دباؤ اور منادی کرنے کا شرف
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۰
  • ملتا جلتا مواد
  • نوجوانو!‏ اپنے ہم‌عمروں کے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • دوستوں کا دباؤ کیا یہ آپ کیلئے فائدہ‌مند ہو سکتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • مَیں اپنے ساتھیوں کے دباؤ کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں؟‏
    نوجوانوں کے 10 سوال اور اُن کے جواب
  • آپ بھی غیررسمی گواہی دے سکتے ہیں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۰
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۰
خدم 12/‏00 ص.‏ 8

ساتھیوں کا دباؤ اور منادی کرنے کا شرف

۱ ساتھیوں کا دباؤ اچھائی یا بُرائی کے لئے ایک طاقتور اثر رکھتا ہے۔ یہوواہ کے ساتھی خادم مثبت اثر ڈالتے ہیں جو کہ ہمیں عمدہ مسیحی کاموں کی تحریک دیتا ہے۔ (‏عبر ۱۰:‏۲۴‏)‏ تاہم، خاندان کے افراد، ساتھی کارکُن، ہم‌مکتب، پڑوسی یا دوسرے واقف‌کار جو گواہ نہیں ہیں، ہم پر مسیحی اصولوں کے خلاف چلنے کے لئے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ وہ ہمارے ”‏مسیحی نیک چال‌چلن پر لعن‌طعن“‏ بھی کر سکتے ہیں۔ (‏۱-‏پطر ۳:‏۱۶‏)‏ ساتھیوں کے منفی دباؤ کے باوجود، ہم منادی جاری رکھنے کے اپنے عزم پر کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟‏

۲ خاندانی افراد:‏ بعض‌اوقات ایک شوہر یا والد جو یہوواہ کا گواہ نہیں شاید یہ نہیں چاہتا کہ اسکی بیوی اور بچے عوامی خدمتگزاری میں شریک ہوں۔ میکسیکو میں ایک خاندان کی حالت کچھ ایسی ہی تھی۔ ایک شخص کی بیوی اور سات بچوں نے سچائی قبول کر لی۔ شروع شروع میں تو اس نے مخالفت کی کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا خاندان منادی کرے اور گھرباگھر بائبل لٹریچر پیش کرے۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ انکی شان کے خلاف ہے۔ تاہم، اسکی بیوی اور بچے یہوواہ کی خدمت کرنے اور باقاعدہ خدمتگزاری میں حصہ لینے کے اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ وہ شخص وقت کیساتھ ساتھ منادی کے کام کے سلسلے میں خدائی بندوبست کی اہمیت کو سمجھ گیا اور اُس نے خود کو یہوواہ کیلئے مخصوص کِیا۔ اُسے سچائی قبول کرنے میں ۱۵ سال لگے لیکن اگر اسکا خاندان منادی کرنے کے اپنے شرف کو عزیز نہ رکھتا تو کیا وہ کبھی ایسا کرنے کے قابل ہوتا؟—‏لو ۱:‏۷۴؛‏ ۱-‏کر ۷:‏۱۶‏۔‏

۳ ساتھی کارکُن:‏ شاید کوئی ساتھی کارندوں کو گواہی دینے کی آپ کی کوشش کو پسند نہ کرے۔ ایک بہن نے بیان کِیا کہ جب دفتر میں دُنیا کے خاتمے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو اس کا تمسخر اُڑایا گیا کیونکہ اس نے متی ۲۴ باب پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم، تھوڑے دنوں کے بعد، اسکی ساتھی کارکُن نے اسے بتایا کہ اس نے پورا باب پڑھا تھا اور وہ اس سے بہت متاثر ہوئی تھی۔ اس نے ایک اشاعت پیش کی اور دونوں میاں بیوی کے ساتھ بائبل مطالعہ کا بندوبست کِیا گیا۔ پہلا مطالعہ رات ۲ بجے تک جاری رہا۔ تیسرے مطالعے کے بعد، وہ اجلاسوں پر آنے لگے اور اسکے بعد جلد ہی اُنہوں نے تمباکونوشی ترک کر کے منادی کے کام میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اگر ہماری بہن نے دوسروں کو اپنی اُمید میں شریک کرنے کی کوشش نہ کی ہوتی تو کیا ایسا واقع ہو سکتا تھا؟‏

۴ ہم‌مکتب:‏ نوجوان گواہوں کا سکول میں ساتھیوں کے دباؤ کا تجربہ کرنا اور منادی کے کام کے باعث دوسروں کے تمسخر کا نشانہ بننے کا خوف محسوس کرنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ ریاستہائے‌متحدہ سے ایک نوعمر مسیحی لڑکی نے بیان کِیا:‏ ”‏مَیں دوسرے نوجوانوں کو گواہی دینے سے خوفزدہ تھی کیونکہ مَیں سوچتی تھی کہ وہ میرا مذاق اُڑائیں گے۔“‏ لہٰذا وہ سکول اور اپنے علاقے میں اپنے ساتھیوں کو گواہی دینے کے مواقع سے کتراتی تھی۔ آپ ساتھیوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے کیسے ہمت باندھ سکتے ہیں؟ یہوواہ پر بھروسا رکھیں اور اسکی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ (‏امثا ۲۹:‏۲۵‏)‏ خدمتگزاری میں خدا کے کلام کو استعمال کرنے کی اپنی صلاحیت پر فخر کریں۔ (‏۲-‏تیم ۲:‏۱۵‏)‏ جس نوجوان لڑکی کا ابھی ذکر کِیا گیا ہے اُس نے یہوواہ سے دُعا کرنا شروع کر دی تھی تاکہ یہوواہ خدا اُس میں ہم‌مکتبوں سے بات‌چیت کرنے کی خواہش کو فروغ دینے میں اُسکی مدد کرے۔ اس نے سکول میں غیررسمی گواہی دینا شروع کر دی جو نتیجہ‌خیز ثابت ہوئی اور وہ جلد ہی اپنے سب جاننے والوں سے بات‌چیت کرنے لگی۔ اُس نے نتیجہ اخذ کِیا:‏ ”‏یہ بچے مستقبل کیلئے اُمید چاہتے ہیں اور انہیں اسکی ضرورت بھی ہے اور یہوواہ ہمیں اُنکی مدد کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔“‏

۵ پڑوسی:‏شاید ہمارے پڑوسی یا دیگر واقف‌کار ہمارے مؤقف کے پیش‌نظر ہم سے کتراتے ہیں۔ اگر آپکو یہ اندیشہ ہے کہ وہ آپ کی بابت کیا سوچتے ہیں تو خود سے پوچھیں:‏ ’‏کیا وہ اُس سچائی سے واقف ہیں جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے؟ ان کے دل تک پہنچنے کیلئے مَیں کیا کر سکتا ہوں؟‘‏ ایک سرکٹ اوورسیئر نے بیان کِیا کہ پڑوسیوں کو باقاعدگی کیساتھ دی جانے والی تھوڑی بہت گواہی بھی نتیجہ‌خیز ثابت ہوتی ہے۔ خلوصدل اشخاص کی تلاش جاری رکھنے کیلئے ضروری طاقت اور حکمت کے لئے یہوواہ سے درخواست کریں۔—‏فل ۴:‏۱۳‏۔‏

۶ ساتھیوں کے منفی دباؤ کا شکار ہو جانے سے ہمارے مخالفین خوش تو ہو سکتے ہیں مگر کیا ایسا کرنے سے اُنہیں یا ہمیں کوئی فائدہ ہوگا؟ یسوع کے اپنے علاقے کے لوگ اسکے مخالف تھے۔ وہ تو اپنے سوتیلے بھائیوں کے طنز کا نشانہ بھی بنا۔ تاہم، وہ جانتا تھا کہ خدا نے اُس کیلئے جس روش کا تعیّن کِیا ہے اُس پر قائم رہنے سے ہی وہ اُنکی مدد کر سکتا تھا۔ لہٰذا، یسوع نے ”‏بُرائی کرنے والے گنہگاروں کی .‏ .‏ .‏ مخالفت کی برداشت کی۔“‏ (‏عبر ۱۲:‏۲، ۳‏)‏ ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ بادشاہتی پیغام کی منادی کرنے کے اپنے شرف سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کیلئے پُرعزم رہیں۔ ایسا کرنے سے آپ ”‏اپنی اور اپنے سننے والوں کی بھی نجات کا باعث [‏ہونگے]‏۔“‏—‏۱-‏تیم ۴:‏۱۶‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں