کیا آپ برداشت کر رہے ہیں؟
۱ ”میرے لئے اس سے بڑھ کر اَور کوئی خوشی نہیں کہ مَیں اپنے فرزندوں کو حق پر چلتے ہوئے سنوں۔“ (۳-یوح ۴) یوحنا کے روحانی بچوں کی برداشت اُس کیلئے بڑی خوشی کا باعث تھی۔ ہمارا آسمانی باپ اپنے لاکھوں امکانی بچوں کو ”حق پر چلتے“ ہوئے دیکھنے سے کتنا خوش ہوتا ہے!—امثا ۲۳:۱۵، ۱۶؛ ۲۷:۱۱۔
۲ اگرچہ خدا کے لوگ اجتماعی طور پر مسیحی کارگزاری میں ثابتقدم اور مستعد رہتے ہیں توبھی بعض رفتہرفتہ سُست پڑ گئے ہیں۔ جب انہوں نے شروع میں سچائی سیکھی تھی تو اُس وقت وہ بڑے سرگرم تھے مگر وقت گزرنے کیساتھ ساتھ، شاگرد بنانے کے کام میں اُنکی شرکت بہت کم یا بےقاعدہ ہو گئی ہے۔
۳ یہ بات قابلِفہم ہے کہ بعض شاید جسمانی کمزوری یا بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کے باعث سُست پڑ گئے ہیں۔ تاہم، وہ اپنی برداشت کے لئے قابلِتعریف ہیں۔ وہ اپنے حالات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ تاہم، اپنی زندگی خدا کیلئے مخصوص کرنے والے ہر ایک فرد کو خود سے یہ سوال کرنا چاہئے: ’کیا مَیں ذاتی حاصلات پر اِس قدر زیادہ دھیان دیتا ہوں کہ بادشاہتی مفادات میری زندگی کا ایک معمولی حصہ بن کر رہ گئے ہیں؟ کیا مَیں ”نیمگرم“ بن گیا ہوں یا مَیں ابھی بھی ”جانفشانی“ کر رہا ہوں؟‘ (مکا ۳:۱۵، ۱۶؛ لو ۱۳:۲۴) خدا کرے کہ ہم سب اپنی کارگزاری پر دُعائیہ غوروفکر کیساتھ ضروری ردوبدل کریں اور یہ بات یاد رکھیں کہ یہوواہ ”جلال اور عزت اور سلامتی ہر ایک نیکوکار“ کو دینے کا وعدہ کرتا ہے۔—روم ۲:۱۰۔
۴ برداشت کیسے کریں: کس چیز نے یسوع کو برداشت کرنے میں مدد دی؟ پولس نے وضاحت کی: ”[اُس] نے اُس خوشی کیلئے جو اُسکی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پروا نہ کرکے صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کی دہنی طرف جا بیٹھا۔“ (عبر ۱۲:۱-۳) یسوع کی نظروں کے سامنے جو خوشی تھی وہ اُن عارضی آزمائشوں سے کہیں بڑی تھی جن کا اُسے سامنا کرنا پڑا۔ جب ہم اُس خوشی پر غور کرتے ہیں جو ہماری نظروں کے سامنے ہے تو ہمیں بھی برداشت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ (مکا ۲۱:۴، ۷؛ ۲۲:۱۲) اگر ہم ذاتی مطالعے، اجلاس پر باقاعدہ حاضری اور مستقل دُعا کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کیلئے یہوواہ پر آس لگاتے ہیں تو ہم ثابتقدمی سے اُس کام کو انجام دینے کے لائق ہونگے جو اُس نے ہمیں سونپا ہے۔
۵ یہوواہ اپنے وفادار بندوں کی برداشت سے بہت خوش ہوتا ہے۔ ہمیں ”حق پر چلتے“ رہنے سے اُس کی خوشی میں اضافہ کرنا چاہئے۔