ایمان میں مضبوط رہنے کیلئے کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے؟
۱ جب سے ہم یہوواہ کے گواہوں کی رفاقت میں آئے ہیں ہماری روحانی ترقی ہمارے لئے خوشی کا باعث ثابت ہوئی ہے! تاہم، ثابتقدمی کیساتھ ’جڑ پکڑنے، ترقی کرنے اور ایمان میں مضبوط رہنے‘ کیلئے روحانی پیشرفت کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ (کل ۲:۶، ۷) اگرچہ اکثریت نے روحانی طور پر ترقی کی ہے تو بھی بعض ”ایمان میں قائم“ نہ رہنے کی وجہ سے بہہ کر دُور چلے گئے ہیں۔ (۱-کر ۱۶:۱۳) ہم خود کو ایسی صورتحال سے بچا سکتے ہیں۔ مگر کیسے؟
۲ باقاعدہ روحانی کارگزاری: یہوواہ کی تنظیم کیساتھ اچھا روحانی معمول اُستوار کریں۔ یہاں ہماری روحانی ضروریات کی بخوبی دیکھبھال کی جاتی ہے۔ کلیسیائی اجلاس، اسمبلیاں اور کنونشن ہماری روحانی ترقی اور استقامت کو فروغ دیتے ہیں بشرطیکہ ہم ان سے مستفید ہونے کیلئے باقاعدہ حاضر ہوتے ہیں۔ (عبر ۱۰:۲۴، ۲۵) بائبل، مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالوں نیز خدا کے کلام سے ٹھوس غذا پر باتچیت کرنے والی کتابوں کی باقاعدہ پڑھائی ہماری روحانی جڑوں کی گہرائی تک پہنچنے اور مضبوط بننے کیلئے مفید ثابت ہوگی۔ (عبر ۵:۱۴) ذاتی روحانی نشانے قائم کرنا اور پھر مستعدی کیساتھ اُن پر کام کرنا بھی دائمی فوائد پر منتج ہوگا۔—فل ۳:۱۶۔
۳ پُختہ اشخاص کی طرف سے مدد: کلیسیا میں روحانی طور پر پُختہ اشخاص کیساتھ رفاقت بڑھانے کی کوشش میں رہیں۔ بزرگوں سے واقفیت پیدا کریں کیونکہ بنیادی طور پر وہی ہمیں حوصلہافزائی دے سکتے ہیں۔ (۱-تھس ۲:۱۱، ۱۲) جو بھی مشورت یا تجاویز وہ دیں اُنہیں خوشی سے قبول کریں۔ (افس ۴:۱۱-۱۶) خدمتگزار خادم بھی دوسروں کو ایمان میں مضبوط بننے میں مدد دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لہٰذا حوصلہافزائی حاصل کرنے کیلئے ان بھائیوں سے بھی رابطہ کریں۔
۴ کیا آپکو خدمتگزاری میں مدد کی ضرورت ہے؟ بزرگوں سے باتچیت کریں اور مدد کیلئے درخواست کریں۔ شاید آپکو اُن لوگوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے جس کے تحت پائنیر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ کیا آپ نے حال ہی میں بپتسمہ لیا ہے؟ آور منسٹری بُک کا مطالعہ کرنے اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اُس پر عمل کرنے سے روحانی پختگی کی جانب قدم بڑھانے کی تحریک حاصل ہو گی۔ کیا آپ والدین میں سے ایک ہیں؟ اپنے بچوں کی روحانیت کو مضبوط کرتے رہیں۔—افس ۶:۴۔
۵ ایمان میں جڑ پکڑنے اور مضبوط رہنے سے ہم یہوواہ کیساتھ قریبی رشتے اور اپنے بھائیوں کیساتھ گرمجوش رفاقت سے استفادہ کرینگے۔ یہ ہمیں شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیگا اور مستقبل میں ابدی زندگی کی بابت ہماری اُمید کو مضبوط کریگا۔—۱-پطر ۵:۹، ۱۰۔