ہمارا عظیم خالق ہماری فکر رکھتا ہے!
۱ سرکش اسرائیل کے ساتھ استدلال کرنے کی کوشش میں، یہوواہ نے پوچھا: ”کیا تُو نہیں جانتا؟ کیا تُو نے نہیں سنا کہ خداوند خدایِ ابدیوتمام زمین کا خالق . . . ہے۔“ (یسع ۴۰:۲۸) ہم اپنے عظیم خالق کو جانتے ہیں اور اپنے لئے اُس کی پُرمحبت فکرمندی کو دیکھتے ہیں۔ تاہم، لاکھوں لوگ اس کے وجود کی بابت شک کا اظہار کرتے ہیں یا اُس کی بابت ایسا نظریہ رکھتے ہیں جو بائبل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہم اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۲ نئی کتاب از دئیر اے کریئٹر ہو کیئیرز اباؤٹ یو؟ کو ایسے لوگوں کی مدد کیلئے مرتب کِیا گیا ہے۔ یہ اہلِفکر کو حقائق پر استدلال کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کتاب کا جاذبِتوجہ مواد اور اثرآفریں دلائل، قاری کے دل کو موہ سکتے ہیں۔
۳ کریئٹر بُک سے واقف ہوں: اس کی فہرستِمضامین کے بنیادی خاکے کو ذہن میں رکھیں۔ ۲ تا ۵ ابواب اس نقطے پر بات کرتے ہیں کہ کائنات، زندگی اور انسان کیسے وجود میں آئے اور اس سب کی پُشت پر کیا ہے۔ ۶ تا ۹ ابواب بائبل اور اُس کے مصنف پر غور کرتے ہیں اور بالخصوص یہ کہ آیا تخلیق کی بابت پیدایش کا ریکارڈ قابلِبھروسہ ہے۔ باب ۱۰ ایک نہایت پیچیدہ سوال کا تسلیبخش جواب دیتا ہے جو اکثر لوگ پوچھتے ہیں: ”اگر خالق پرواہ کرتا ہے تو اسقدر دُکھ کیوں ہے؟“
۴ مُتشکِک حضرات کیساتھ استدلال کرنے کی کوشش کریں: کریئٹر بُک کے صفحات ۷۸-۷۹ پر استدلال کا سلسلہ ملتا ہے جسے آپ خدا کی بابت صحیح نتیجے پر پہنچنے میں دوسروں کی مدد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اُن سے پوچھیں: ”کیا کائنات کی ابتدا ہوئی تھی؟“ بہتیرے متفق ہونگے کہ ہوئی تھی۔ اگر ایسا ہے تو پوچھیں: ”اس ابتدا کا کوئی سبب تھا یا نہیں؟“ بہتیرے تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا کوئی سبب ضرور تھا۔ اس سے آخری سوال پیدا ہوتا ہے: ”کیا کائنات کی ابتدا کا سبب کوئی ابدی چیز تھی یا کوئی ابدی شخص تھا؟“ یہ رسائی بہتیروں کی یہ جاننے کیلئے راہنمائی کر سکتی ہے کہ کوئی خالق ضرور ہونا چاہئے۔
۵ بہتیرے لوگوں کو کریئٹر بُک ہی کی ضرورت ہے۔ اپنے رشتےداروں، ساتھی کارکنوں، ہممکتبوں اور دیگر واقفکاروں کیساتھ ملکر اس کا جائزہ لیں۔ اسے خدمتگزاری میں اپنے ساتھ رکھیں تاکہ آپ اسے خدا کے وجود پر شک کرنے والے لوگوں کو پیش کر سکیں۔ ہم اس کتاب سے جتنے زیادہ واقف ہونگے ہمارے خالق کیلئے ہماری محبت ہمیں اس کے اعلیٰ معیاروں کے مطابق چلتے رہنے کی تحریک دیتے ہوئے اُتنی ہی زیادہ مضبوط ہو گی۔—افس ۵:۱؛ مکا ۴:۱۱۔