کیا آپ رسالے پڑھتے ہیں؟
۱ افریقہ سے ایک مشنری جوڑے نے ہمارے رسالوں کی بابت یہ بیان کِیا: ”اپنے علاقے میں روحانی طور پر بیدار رہنے میں مینارِنگہبانی ہماری مدد کرتا ہے۔ ہم ہر شمارے سے حوصلہافزائی اور قوت حاصل کرتے ہیں۔“ کیا آپ بھی ہمارے جریدوں کیلئے ایسی ہی گہری قدردانی رکھتے ہیں؟ نیز کیا آپ انہیں اتنے ہی اشتیاق سے پڑھتے ہیں؟
۲ چند ہی منٹوں میں پڑھ لئے جانے والے رسالوں کے مضامین تیار کرنے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ یہ جان لینے کے بعد بھی کیا آپ مضامین پر سرسری نظر ڈالیں گے، تصویروں کو دیکھینگے یا کبھیکبھار کوئی جاذبِتوجہ مضمون پڑھ لیں گے؟ اگر ہم اس سے زیادہ کریں تو ہم دانشمند ہیں۔ ہمیں اپنے رسالوں کے تمام مضامین کو پڑھنے اور انکا تجزیہ کرنے کیلئے وقت صرف کرنا چاہئے۔ ”مینارِنگہبانی بروقت روحانی خوراک کیلئے ہمارا بنیادی جریدہ ہے۔ جاگو! مختلف موضوعات پر معلوماتی اور دلچسپ مضامین پیش کرتا ہے۔ ان رسالوں کو پڑھنے سے ہم جوکچھ سیکھتے ہیں وہ نہ صرف ہمیں روحانی طور پر تقویت پہنچاتا ہے بلکہ خدمتگزاری میں زیادہ مؤثر طریقے سے حصہ لینے کیلئے بھی تیار کرتا ہے۔ خود رسالوں کو باقاعدہ پڑھنے سے ہم دوسروں کو رسالے پیش کرنے میں سرگرم ہونگے۔
۳ پڑھنے کی عادت کو کیسے بہتر بنائیں: کیا آپ رسالوں کو پڑھنے میں کچھ بہتری لا سکتے ہیں؟ دو تجاویز ہیں جو بہتیروں کے سلسلے میں مفید ثابت ہوئی ہیں: (۱) پڑھنے کیلئے ایک باقاعدہ شیڈول بنائیں۔ ہر روز پڑھائی کیلئے محض ۱۰ یا ۱۵ منٹ مختص کر دینے سے آپ حیران ہونگے کہ ہفتے کے دوران آپ کتنا کچھ پڑھ سکتے ہیں۔ (۲) جوکچھ آپ پڑھتے ہیں اُسکا حساب رکھیں۔ غالباً آپ اُس مضمون کے شروع میں نشان لگا سکتے ہیں جو آپ نے پڑھا ہے۔ اسکے بغیر شاید کوئی مضمون یا پورا رسالہ پڑھنے سے رہ جائے۔ پڑھنے کے لئے ایسا معمول بنائیں جو قابلِعمل ہو اور اس پر کاربند رہیں۔—مقابلہ کریں فلپیوں ۳:۱۶۔
۴ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے بدلتے ایّام میں لوگوں کی حقیقی ضروریات سے تعلق رکھنے والے مضامین شائع کرنے سے دانشمندی سے جوابیعمل دکھایا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) یقیناً ہماری زندگیاں رسالوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ ہماری روحانی ترقی کا انحصار بڑی حد تک ہماری تھیوکریٹک پڑھائی کی عادات کی نوعیت پر ہے۔ رسالوں کو پڑھنے کیلئے وقت نکالنے والوں کیلئے بہت زیادہ روحانی اجر محفوظ ہے۔