”سب آدمیوں“ کو گواہی دینا
۱ جب ہم مختلف ثقافتوں یا مذہبی پسمنظر والے لوگوں سے ملتے ہیں تو ہم یہ یاد رکھتے ہیں کہ یہوواہ کی مرضی ہے ”کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“ (۱-تیم ۲:۴) خاص طور پر تیارکردہ بہت سے اشتہاروں اور بروشروں کے علاوہ، ہمارے پاس دو ایسی شاندار مطبوعات ہیں جنہیں کسی بھی وقت ایسے افراد کی مدد کیلئے استعمال کِیا جا سکتا ہے جن کے مذہب نے اُنہیں خدا اور مسیح کی بابت سچائی نہیں سکھائی ہے۔
۲ کتاب مینکائنڈز سرچ فار گاڈ دُنیا کے بڑے بڑے مذاہب کی ابتدا کی وضاحت کرتی ہے اور یوں ہر جگہ لوگوں کو اُنکے اعتقادات اور واحد خدائےبرحق کی بابت بائبل تعلیمات کا موازنہ کرنے کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، یسوع مسیح کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے، دی گریٹسٹ مین ہو ایور لِوڈ کتاب کسی شخص کی خدا کے بیٹے سے اچھی طرح واقف ہونے اور پہلی صدی کے بہتیرے لوگوں کی طرح اُسکی قربت حاصل کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ (یوح ۱۲:۳۲) جب بھی موزوں ہو، آپ ان کتابوں کو متعارف کرانے کیلئے مندرجہذیل تجاویز کو آزما سکتے ہیں۔
۳ اگر آپ سوچتے ہیں کہ کسی شخص کو ”گریٹسٹ مین“ کتاب پیش کرنا موزوں ہوگا تو آپ پوچھ سکتے ہیں:
◼ ”جب آپ یسوع مسیح کی بابت سوچتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کونسی بات آتی ہے؟ [جواب دینے دیں۔] بیشتر مؤرخین یسوع کو ایک عظیم ترین انسان تسلیم کرتے ہیں جو کبھی ہو گزرا ہے۔ [گریٹسٹ مین کتاب کے پیشلفظ سے ایک مثال پیش کریں۔] بائبل ظاہر کرتی ہے کہ یسوع کی زندگی ہمارے لئے قابلِتقلید نمونہ تھی۔“ ۱-پطرس ۲:۲۱ اور گریٹسٹ مین کتاب کے پیشلفظ کے آخری صفحے کے پہلے پیراگراف کو پڑھیں۔ اگر صاحبِخانہ یسوع کی بابت سیکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو کتاب پیش کریں۔ واپس جانے سے پہلے، یوحنا ۱۷:۳ پڑھیں اور پوچھیں، ”ہم یہ علم کیسے حاصل کر سکتے ہیں جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے؟“ جواب کیساتھ واپس آنے کے قطعی انتظامات کریں۔
۴ جب آپ یہ وضاحت کرنے کیلئے واپس جاتے ہیں کہ زندگیبخش علم کیسے حاصل کِیا جائے تو آپ کہہ سکتے ہیں:
◼ ”مَیں نے آپ کو یہ بتانے کیلئے واپس آنے کا وعدہ کِیا تھا کہ ہم اس علم کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے۔“ علم کی کتاب پیش کریں اور پہلے باب کو استعمال کرتے ہوئے مطالعے کا مظاہرہ کریں۔
۵ اگر آپ ”مینکائنڈز سرچ فار گاڈ“ کتاب پیش کرنا چاہتے ہیں تو آپ پوچھ سکتے ہیں:
◼ ”آجکل اتنے زیادہ مختلف مذاہب کی وجہ سے کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم اس بات کا تعیّن کیسے کر سکتے ہیں کہ خدا کی مقبولیت کسے حاصل ہے؟“ جواب کے بعد، مینکائنڈز سرچ فار گاڈ کتاب صفحہ ۳۷۷ پر کھولیں۔ ۷ نمبر نکتے پر توجہ مبذول کرائیں اور پوچھیں کہ آیا صاحبِخانہ اس بات سے متفق ہے کہ سچے مذہب کو نوعِانسان کی تمام نسلوں کو متحد کرنا چاہئے۔ حوالہشُدہ صحائف میں سے ایک پر غور کریں اور اگر وقت اجازت دے تو فہرست کے چند دیگر نکات پر بھی باتچیت کریں۔ اگر حقیقی دلچسپی پائی جاتی ہے تو کتاب پیش کریں۔ رُخصت ہوتے وقت آپ پوچھ سکتے ہیں، ”سچے مذہب کو ایک شخص کے چالچلن پر کیسا اثر ڈالنا چاہئے؟“ سوال کا جواب دینے کیلئے واپسی ملاقات کا بندوبست کریں۔
۶ جب آپ یہ وضاحت کرنے کیلئے واپس جاتے ہیں کہ سچا مذہب ایک شخص کی زندگی پر کیسا اثر ڈالتا ہے تو آپ پوچھ سکتے ہیں:
◼ ”آپ کے خیال میں مذہب کو لوگوں کے چالچلن پر کیسا اثر ڈالنا چاہئے؟ [جواب دینے دیں۔] مسیح نے ہمیں ایک معیار دیا جسکے ذریعے مذہب کو پرکھا جانا چاہئے۔“ مینکائنڈز سرچ فار گاڈ کتاب کے صفحہ ۱۲ سے براہِراست متی ۷:۱۷-۲۰ پڑھیں۔ اس کے بعد صاحبِخانہ کو صفحات ۱۳-۱۴ پر پیراگراف ۲۰ پڑھنے کی دعوت دیں۔ اگر وقت اجازت دے تو صفحات ۱۶-۱۸ پر پیراگراف ۲۵-۲۹ پر باتچیت کریں۔ یہ تقاضا بروشر یا علم کی کتاب سے مطالعے پر منتج ہو سکتا ہے۔
۷ گفتگو شروع کرنے والے: مینکائنڈز سرچ فار گاڈ کتاب میں بہت سی تدریسی امداد موجود ہے جسے ابتدائی ملاقات یا واپسی ملاقات پر گفتگو شروع کرنے والوں کے طور پر استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ آپ محض ایک موزوں سوال پوچھ کر گفتگو کا آغاز کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان سوالات اور موضوعات اور صفحات کو نوٹ کریں جہاں اُن پر باتچیت کی گئی ہے:
”جوابطلب سوالات“—صفحات ۱۷-۱۸۔
”کیا یسوع ایک فرضی شخص تھا؟“—صفحہ ۲۳۷۔
”بائبل کس نے لکھی؟“—صفحہ ۲۴۱۔
”قرآن اور بائبل“—صفحہ ۲۸۵۔
”بائبل کے مستند ہونے کا ثبوت“—صفحات ۳۴۰-۳۴۱۔
”یہوواہ کے گواہ کیا ایمان رکھتے ہیں“—صفحات ۳۵۶-۳۵۷۔
”سچے مذہب کی شناخت کیسے کی جائے“—صفحہ ۳۷۷۔
۸ آپ مینکائنڈز سرچ فار گاڈ کتاب کے منتخب صفحات کھول کر زیرِبحث نکتے کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کوئی ایسا متعلقہ سوال پوچھتے ہوئے واپسی ملاقات کا بندوبست کر سکتے ہیں جسکا تقاضا بروشر یا علم کی کتاب سے جواب دیا جا سکتا ہے۔ صاحبِخانہ کو عوامی اجلاس پر آنے کی دعوت دینا نہ بھولیں۔
۹ تمام خلوصدل لوگ خدا اور یسوع کی بابت سچائی کی تلاش کر رہے ہیں۔ اپنے گواہی کے کام کے دوران ہم اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ پس، آئیے ”محنت اور جانفشانی“ کرتے رہیں کیونکہ ”ہماری اُمید اُس زندہ خدا پر لگی ہوئی ہے جو سب آدمیوں کا . . . مُنجی ہے۔“—۱-تیم ۴:۱۰۔